Book Name:163 Madani Phool

۷۸۰)مگر مرد وہی جائز والی انگوٹھی پہنیخانگوٹھی اُنھیں کے لیے سنتہے جن کو مُہر کرنے(یعنی اِسٹامپSTAMP   لگانے) کی حاجت ہوتی ہے، جیسے سلطان و قاضی اور عُلَما  جو فتوے پر(انگوٹھی سے)مُہرکرتے ( یعنی اِسٹامپ لگاتے)ہیں ، ان کے علاوہ دوسروں کے لیے جِن کو مُہر کرنے کی حاجت نہ ہو سنت نہیں البتہ پہننا جائز ہے۔ (عا لمگیریج۵ ص۳۳۵)  فِی زمانہ انگوٹھی سے مُہر کرنے کا عرف(یعنی معمول و رَواج) نہیں رہا،بلکہ اس کام کے لئے ’’ اِسٹام ‘‘ بنوائی جاتی ہے ،لہٰذا جن کو مُہر نہ لگانی ہواُن قاضی وغیرہ کے لئے بھی انگوٹھی پہننا سنت نہ رہاخمرد کو چاہیے کہ انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی جانب اور عورت نگینہ ہاتھ کی پُشت(یعنی ہاتھ کی پیٹھ ) کی طرف رکھے۔ (الہدایۃ ج۴ ص۳۶۷)خ چاندی کا چَھلّا خاص لباسِ زَنان (یعنی عورَتوں کا پہناوا) ہے مردوں کو مکروہِ( تحریمی ، ناجائز وگناہ ہے)(فتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۱۳۰خعورَت سونے چاندی کی جتنی چاہے انگوٹھیاں اور چھلّے پہن سکتی ہے ، اِس میں وزن اور نگینے کی تعدادکی کوئی قید نہیں خلوہے کی انگوٹھی پر چاندی کا خول چڑھا دیا کہ لوہا بالکل نہ دکھائی دیتا ہو، اس انگوٹھی کے پہننے کی (مرد و عورت کسی کو بھی ) مُمانَعَت نہیں   ( عالمگیری ج۵ص۳۳۵)خ دونوں میں سے کسی بھی ایک ہاتھ میں انگوٹھی پہن سکتے ہیں اور چھنگلیا یعنی سب سے چھوٹی اُنگلی میں پہنی جائے( رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص ۵۹۶)خ مَنّت کا یا دَم کیا ہوا دھات (METAL) کاکڑابھی مرد کو پہننا ناجائز وگناہ ہے اسی طرحخ مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماًیااجمیر شریف کے چاندی یا کسی بھی دھات کے چَھلّے اور اسٹیل کی

 



Total Pages: 40

Go To