Book Name:163 Madani Phool

مبارَک زُلفیں کبھی نصف (یعنی آدھے)کان مبارَک تک توخ کبھی کان مبارَک کی لَو تک اورخ بعض اوقات بڑھ جاتیں تو مبارَک شانوں یعنی کندھوں کوجھوم جھوم کر چومنے لگتیں (الشمائل المحمدیۃ للترمذی ص۳۴،۳۵،۱۸)خہمیں چاہئے کہ موقع بہ موقع تینوں سنتیں ادا کریں ،یعنی کبھی آدھے کان تک تو کبھی پورے کان تک تو کبھی کندھوں تک زلفیں رکھیں خکندھوں کو چُھونے کی حد تک زلفیں بڑھانے والی سنَّت کی ادائیگی عُمُوماً نفس پرزیادہ شاق ( یعنی بھاری) ہوتی ہے مگر زندَگی میں ایک آدھ بار تو ہر ایک کویہ سنَّت ادا کرہی لینی چاہئے ، البتہ یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ بال کندھوں سے نیچے نہ ہونے پائیں ، پانی سے اچّھی طرح بھیگ جانے کے بعد زُلفوں کی درازی(یعنی لمبائی) خوب نُمایاں ہو جاتی ہے لہٰذا جن دنوں بڑھائیں ان دنوں غسل کے بعدکنگھی کرکے غور سے دیکھ لیا کریں کہ بال کہیں کندھوں سے نیچے تو نہیں جا رہے خ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : عورَتوں کی طرح  کندھوں سے نیچے بال رکھنا مَرد کیلئیحرام ہے(تسہیلاً فتاوٰی رضویہ ج۲۱ص۶۰۰)خ  صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں :مرد کویہ جائز نہیں کہ عورَتوں کی طرح بال بڑھائے، بعض صوفی بننے والے لمبی لمبی لٹیں بڑھا لیتے ہیں جو اُن کے سینے پر سانپ کی طرح لہراتی ہیں اور بعض چوٹیاں گُوندھتے ہیں یا جُوڑے(یعنی عورَتوں کی طرح بال اکٹّھے کر کے گدّی کی طرف گانٹھ) بنالیتے ہیں یہ سب ناجائز کام اور خِلاف شَرع ہیں۔ تصوُّف بالوں کے بڑھانے


 

 



Total Pages: 40

Go To