Book Name:163 Madani Phool

تو اِس میں حرج نہیں خ حضرتِ سیِّدُنا نافِع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما دن میں دو مرتبہ تیل لگاتے تھے(مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہج۶ ص۱۱۷) بالوں میں تیل کا بکثرت استعمال خصوصاً اہلِ علم حضرات کے لئے مفید ہے کہ اس سے سر میں خشکی نہیں ہوتی ، دِماغ تر اورحافِظہ قوی ہوتا ہے خ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ’’جب تم میں سے کوئی تیل لگائے تو بھنووں (یعنی اَبر وؤں )سے شروع کرے، اس سے سر کا درد دُور ہوتا ہے‘‘(اَلْجامِعُ الصَّغِیر ص۲۸حدیث ۳۶۹)خ’’کَنْزُالْعُمّال‘‘میں ہے :  پیارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب تیل استعمال فرماتے تو پہلے اپنی اُلٹی ہتھیلی پر تیل ڈال لیتے تھے ،پھر پہلے دونوں اَبروؤں پر پھر دونوں آنکھوں پر اور پھر سرِمبارک پر لگاتے تھے  (کَنْزُ الْعُمّال ج۷ ص۴۶ رقم ۱۸۲۹۵)خ’’طَبَرانی‘‘ کی روایت میں ہے : سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب داڑھی مبارک کوتیل لگاتے تو  ’’ عَنْفَقَہ‘‘(یعنی نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیانی بالوں ) سے اِبتِداء فرماتے تھے (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۵ص۳۶۶حدیث ۷۶۲۹)خ داڑھی میں کنگھی کرنا سنّت ہے (اَشِعَّۃُ اللَّمعات ج۳ ص۶۱۶ ) خبغیربِسمِ اﷲ پڑھے تیل لگانا اور بالوں کو خشک اور پَراگندہ( پَرا۔گندہ یعنی بکھرے ہوئے) رکھنا خلافِ سنّت ہے خ حدیث ِ پاک میں ہے: جو بغیربِسمِ اﷲ پڑھے تیل لگائے تو 70 شیاطین اس کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں (عَمَلُ الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ لابن السنی ص۳۲۷ حدیث ۱۷۳)خ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام

 



Total Pages: 40

Go To