Book Name:Aghwa shuda Bachon ki Wapsi

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

      دُرُودشریف کی فضیلت

       شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔقادری رضوی ضیائی   دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنے رسالے ’’امام حسین کی کرامات‘‘ میں  نقْل فرماتے ہیں  کہ بے چین دلوں  کے چین، رَحْمتِ دارین ، تاجدارِ حَرمَین، سرورِکونین، نانائے  حَسنَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رَحمت نشان ہے : ’’ جب جمعرات کا دن آتاہے اللّٰہ  تَعَالٰی فِرِشتوں  کو بھیجتا ہے جن کے پاس چاندی کے کاغذ اور سونے کے قلم ہوتے ہیں  وہ لکھتے ہیں  ، کون یومِ جمعرات اور شبِ جُمُعہ مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتا ہے۔‘‘  

(کنزالعمال ج۱ص۲۵۰حدیث ۲۱۷۴دارالکتب العلمیۃبیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

پانچ گھروں   میں   بیک وقت حاضری

       حضرت سَیّدنا شیخ ابو العباس مرسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کوا یک نیاز مند نے نمازِ جمعہ کے بعداپنے گھر تشریف لے جانے کی دعوت دی۔ آپ نے اس کی دعوت کو قبول فرما لیا۔ پھر ایک دوسرا عقیدت مند آیا اس نے بھی اپنے ہاں  آنے کی دعوت دی ۔ آپ نے اس کے ساتھ بھی وعدہ فرما لیا پھر تیسرا پھر چوتھا پھر پانچواں  آیا، آپ نے سب کے ساتھ وعدہ فرما لیا۔ حضرت شیخ ابو العباس مرسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  نے نمازِ جمعہ ادا کی تو آپ علمائے  کرام کے پاس بیٹھ گئے  اور کہیں نہ گئے ۔کچھ دیر بعد وہ پانچوں  دعوت دینے والے نیاز مند آئے  اور ہر ایک نے اس بات پر حضرت شیخ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس کے گھر تشریف لے گئے  تھے۔ (الحاوی للفتاوی ج۱، ص۲۵۸دارالفکربیروت)

اللّٰہ عَزّوَجَلّ کی اُن پَررَحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

ایک وقْت میں 50شہروں  میں جُمعہ پڑھایا

       سَیّدُناامام عبدالوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّورانی فرماتے ہیں مجھے اس شخص نے خبردی جوکہ شیخ محمد خضری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کی خدمت میں  رہا کہ حضرت شیخ خضری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  نے ایک ہی دن میں  ایک ہی وقت پچاس شہروں  میں  جمعہ کا خطبہ دیا اور نماز پڑھائی ۔ (روح البیان، النجم، تحت الایۃ۶، ج۹، ص۲۱۶ کوءٹہ)

اللّٰہ عَزّوَجَلّ کی اُن پَررَحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

اللّٰہ عَزّوَجَلّ کے مقبول بند ے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائی و! اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اپنے مقبول بندوں  کو طرح طرح کے اختیارا ت سے نوازتا ہے اور ان سے ایسی باتیں  صادِر ہوتی ہیں  جو عقلِ انسانی کی بلندیوں  سے وَراء ُ الوَرا ہوتی ہیں  ۔ یقینا اَہلُ اللّٰہ کے تَصَرُّفات و اختیارات کی بلندی کو دنیا والوں  کی پروازِ عقل چھُو بھی نہیں  سکتی۔ بعض اوقات آدمی کراماتِ اولیاء کے معاملے میں  شیطان کے وَسوَسے میں  آکر کرامات کو عقل کے ترازو میں  تولنے لگتا ہے اور یوں  گمراہ ہوجاتا ہے۔ یاد رکھئے  !کرامت کہتے ہی اس خَرقِ عادت بات کو جو عادۃً مُحال یعنی ظاہِری اسباب کے ذریعے اس کا صُدور ناممکن ہو مگر اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی عطا سے اولیائے  کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام  سے ایسی باتیں  بسا اوقات صادِر ہو جاتی ہیں ۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ القَوی  فرماتے ہیں  :  نبی سے قبل از اعلانِ نُبُوَّت ایسی چیزیں  ظاہر ہوں  تو ان کو اِرہاص کہتے ہیں  اور اعلانِ نُبُوَّت کے بعد صادر ہوں  تو معجزہ کہتے ہیں ۔ عام مؤمنین سے اگر ایسی چیزیں  ظاہر ہوں  تو اسے مَعُونَت اور ولی سے ظاہر ہوں  تو  کرامت کہتے ہیں ۔ نیز کافریا فاسق سے کوئی  خَرقِ عادت ظاہر ہو تو اسے اِستِدراج (اِس۔تِد۔راج) کہتے ہیں ۔ (بہارِشریعت، جلد اوّل ، حصہ اوّل ، ص۵۸مکتبۃ المدینہ کراچی )

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

عشق پر اَعمال کی بنیاد رکھ

        اللّٰہ عَزّوَجَلّ  ہر دور میں  اپنے مقبول بندوں  کو کرامات و تصرُّفات سے نوازتا ہے۔ بعض لوگ شیطان کے بہکاوے میں  آکر کرامات کا انکار کردیتے ہیں  ایسے لوگوں  کے متعلق امام یافعی علیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ القَوی  فرماتے ہیں  ’’ کرامات کا انکار کرنے والے سے مجھے سخت تعجب ہے حالانکہ آیاتِ کریمہ، صحیح احادیثِ شریفہ، مشہور آثار اور مستند حکایات میں  اتنی کثرت سے کرامات آئی  ہیں  کہ جن کو شمار کرنا ممکن نہیں ۔ ‘‘مزید فرماتے ہیں  کہ کرامات کا انکار کرنے والوں  کی کئی  اقسام ہیں  :  (۱) ان میں  سے بعض تو وہ ہیں  جو کرامات کا سرے سے ہی انکار کرتے ہیں  وہ توفیق سے یکسر محروم ہیں  (۲) ان میں  سے بعض وہ ہیں  جوکہ ماضی کے بزرگوں  کی کرامات مانتے ہیں  لیکن اپنے ہم عصر اولیائے  کرام کی کرامات کو نہیں  مانتے تویہ لوگ سیدی ابو الحسن شاذلی رَضِی اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہکے قول کے مطابق بنی اسرائی ل کی طرح ہیں کہ جنہوں  نے حضرت موسیٰ علی نَبِیّناوعلیہِ الصّلوٰۃوالسَّلام کی تصدیق کی جب کہ انہیں  دیکھا نہیں  اور حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی زیارت کرنے کے باوجود آپ کی تکذیب کی حالانکہ حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت حضرت موسیٰ علی نَبِیّنا و علیہِ الصّلوٰۃوالسَّلام سے زیادہ ہے۔ یہ صرف ان کے حسد زیادتی اور بدبختی کی بنا پر ہے۔ (۳) ان میں  سے بعض وہ ہیں  جو کہ اس بات کی تو تصدیق کرتے ہیں  کہ اس زمانے میں  اللّٰہ  تَعَالٰی کے اولیاء موجود ہیں  لیکن کسی معین شخصیت کی تصدیق نہیں  کرتے تو ایسے لوگ روحانی امدادوں  سے محروم ہیں  



Total Pages: 7

Go To