Book Name:Bad kirdar ki Tauba

بدنامِ زمانہ بدمعاش گروپ سے تھا۔آئے دن ڈاکے ڈالنا، مجرموں کوغیرقانونی اسلحہ فراہم کرنااورگاڑیاں لوٹنامیرامعمول تھانیزکرائے پرقتل و غارت گری جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوچکاتھا۔دعوتِ اسلامی کے مدینۃ الاولیاء ملتان میں ہونے والے ۱۴۲۷ھ بمطابق2006ء کے تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کاچرچاتھا۔ایک دن میری ملاقات سفیدلباس میں ملبوس سبزسبزعمامہ شریف سجائے ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ہوگئی۔دورانِ ملاقات انہوں نے مجھے سنّتوں بھرے بین الاقوامی اجتماع کی دعوت پیش کی تومیں نے جان چھڑانے کے لیے کئی   عذرپیش کیے مگروہ اسلامی بھائی مجھے نہایت شفقت بھرے لہجے میں سمجھاتے رہے بالآخرمیں نے کہامیراایک مسئلہ ہے اگروہ حل ہوگیاتواجتماع میں شرکت کروں گا۔اس مبلغِ دعوتِ اسلامی نے نہایت محبت بھرے اندازمیں کہا ’’آپ اجتماع میں چلیں اِنْ شَآء اللّٰہعَزَّوَجَلَّاس کی بَرَکت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کامسئلہ حل فرمادے گا۔‘‘ان کی اس بات پرمیں سنّتوں بھرے اجتماع میں جانے کے لیے تیارہوگیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اجتماع گاہ میں حاضری کے پہلے ہی روز گھرسے فون آیاکہ وہ مسئلہ حل ہوچکاہے ۔اس دل کُشاخبرسے میرے تن بدن میں خوشی کی لہردوڑگئی۔اس خبرپرمیں شرکائِ اجتماع سے گلے ملکراپنی خوشی کا اظہارکرنے لگا۔اجتماع کی بَرَکت سے میں ہاتھوں ہاتھ بارہ دن کے مَدَنی قافلے کا مسافربن گیا۔مَدَنی قافلے کے بعدجب میں واپس پلٹاتومیری زندگی میں مَدَنی اِنقلاب برپاہوچکاتھا، میں نے اپنے چہرے پرداڑھی شریف سجانے کی نیت کرلی اورسرپرعمامہ شریف کاتاج سجالیا۔کچھ دنوں بعدختم شریف کی ایک محفل منعقدہوئی اس محفل میں میرے ماموں بھی تشریف لائے ہوئے تھے اوردعوتِ اسلامی کے ذمہ داراسلامی بھائی بھی موجودتھے ۔میرے ماموں نے سب کے سامنے بَرمَلااظہارکیا کہ دعوتِ اسلامی والوں نے ہمارے بھانجے کوشیطان سے انسان بنا دیا۔وہ شخص جوگناہوں کی تاریک وادی میں بھٹک رہاتھامَدَنی ماحول کے مَدَنی رنگ میں رنگ گیا۔اورمجھ پرایساکرم ہواکہ آج علاقائی مشاورت کے نگران کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کیلئے کوشاں ہوں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{4}بخشش کاپروانہ

            عمرکوٹ(باب الاسلام سندھ)کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے :  ۱۴۲۶ھ کی بات ہے ایک اسلامی بھائی(محمدعامرعطاری )جوکہ بین الاقوامی اجتماع سے واپسی پرحادثہ میں شہیدہوگئے تھے ان کی شہادت کے بعدان کی والدہ نے خواب میں دیکھاکہ وہ کہہ رہے تھے : ’’امّی جان میرے لئے پریشان کیوں ہیں ؟میں توزندہ ہوں ‘‘اس کے بعدایک مرتبہ وہ اسلامی بھائی(محمدعامرعطاری) میرے خواب میں تشریف لائے تومیں نے ان سے پوچھاکہاللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا؟توکہنے لگے : ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّمیں خیریت سے ہوں اوراجتماع کی برکت سیاللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے بخش دیاہے ‘‘۔

اللّٰہعَزّوَجَلَّ کی اُن پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                                                                                       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیرِنبی کا خواب شریعت میں حجت نہیں لیکن ان خوابوں سے تائیداورتقویت حاصل کی جاسکتی ہے تاکہ گناہ گاران کی بِناپراُمید باندھے اوران کے مطابق عمل کرے ، ہوسکتاہے اللّٰہ تعالیٰ کے فضل پراعتمادکے سبب اسے بھی ایساہی فائدہ حاصل ہوجائے ۔

(مطالعُ المسرات شرح دلائل الخیرات مترجم ص122 نوریہ رضویہ پبلیکیشنزمرکزالاولیاء لاہور)

 

اس لیے ہمیں بھی اپنی دنیاوی واُخروی زندگی کی کامیابی کے لیے دعوت ِ اسلامی کے ہراجتماع میں پابندیٔ وقت کے ساتھ شرکت کرنی چاہیے ۔اگرآپ ابھی تک گناہوں کی دلدل میں پھنسے ہیں تومایوس نہ ہوں کہ مایوسی اللّٰہ تعالیٰ کوناپسندہے ۔بلکہ اس کی رحمتِ عظیمہ کے امیدواربن کردعوتِ اسلامی کے مشکبارمَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ۔اِنْ شَآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کرم ہی کرم ہوگا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{5}ایمان افروزخواب

            سردارآباد(فیصل آباد، پنجاب، پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے : میں نے اپنے علاقے کے ایک اسلامی بھائی کی اِنفرادی کوشش سے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔اجتماع سے واپسی کے بعدایک روزمیں گھرمیں سویاتو ظاہری آنکھوں کے بندہوتے ہی دل کی آنکھیں کھل گئیں ، کیادیکھتاہوں قیامت  برپا ہے ، سرکارِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ، احمدمجتبیٰ، محمدمصطفٰی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جلوہ فرماہیں ، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرْکاتُہُم العالیہ اورسبزعمامے والوں کا جمِّ غفیربھی حاضرِخدمت ہے ۔شفیعِ روزِشمار، جنابِ احمدِمختارصلَّی اللّٰہ تعالی علیہ واٰلہٖ وسلَّممجھے فرماتے ہیں کہ یہ جنت کی



Total Pages: 8

Go To