Book Name:Chal Madina ki Saadat mil gayi

پیشِ خدمت ہے:میں مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے غفلت بھری زندگی گزاررہی تھی۔مجھے یہ بھی معلوم نہ تھاکہ ایک باحیامسلمان عورت کو کیساہوناچاہیے۔گناہوں کے دلدل میں پھنسی ہوئی تھی، نمازیں قضاکردینا میری فطرت تھی، بے پردگی کایہ عالم تھاکہ سرپہ دوپٹہ لینامجھے مَعَاذَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ بوجھ محسوس ہوتاتھا۔میری عصیاں بھری خزاں رسیدہ زندگی کویوں نیکیوں کی بہارنصیب ہوئی کہ میرے بڑے بھائی ایک دن دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کامطبوعہ ایک چھوٹاسارسالہ بنام ’’ کافرخاندان کاقبولِ اسلام ‘‘ لے کر آئے۔رسالہ کانام پڑھتے ہی میرے دل میں اسے پڑھنے کاشوق پیداہواچنانچہ میں نے اسے پڑھناشروع کردیا، جیسے جیسے میں اس رسالہ کوپڑھتی گئی میرے دل کی کالک اترتی گئی۔اس رسالے میں بیاناتِ عطاریہ کی بَرَکتوں سے کئی لوگوں کے گناہوں سے توبہ کرکے سیدھی راہ اپنانے کاتذکرہ پڑھ کرمیں بہت متأثرہوئی۔ میری آنکھوں کے سامنے اپنی گزشتہ زندگی کے گناہوں کانقشہ گھوم گیاجوکہ مجھے غفلت بھری زندگی گزرنے کااحساس دلارہاتھااورملامت کررہاتھاکہ میں نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات فضولیات کی نظرکیوں کردئیے؟ ۔اس رسالہ کو پڑھنے کی برکت سے میرے دل میں مدنی انقلاب برپاہوگیا، میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کی اوردعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئی۔تادمِ تحریردیگرفرائض وواجبات کی ادائیگی



Total Pages: 27

Go To