Book Name:Chal Madina ki Saadat mil gayi

اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکاارشادرحمت بنیادہے:اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی خاطرآپس میں محبت رکھنے والے جب باہَم ملیں اورمُصَافَحَہ کریں اورنبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپردُرُودِپاک بھیجیں تواُن کے جُداہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ ‘‘  (مُسنَد ابی یعلٰی، مُسنَدانس بن مالِک  ج ۳ ص۹۵ حدیث۲۹۵۱)

صَلُّواعَلَی الْحَبِیب!                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 {1} چل مدینہ کی سعادت مل گئی

            بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا خلاصہ ہے:  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہماراگھرانہ آقائے نعمت، مجدِّدِدین وملّت مولاناشاہ امام احمدرضاخانعَلَیْہِ الرَّحْمَۃُالرَّحْمٰنکے ایک عظیم المرتبت خلیفہرحمۃاللہ تعالیٰ علیہکی اولاد سے ہے۔سیِّدی اعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃربّ العِزۃکے یہ خَلِیْفۂ مکرّم میری والِدۂ محترمہ کے ناناجان تھے اورہمارے تمام اہلِ خانہ انہیں کے دست ِمبارَک پربَیعَت تھے۔ ان سے بَیعَت کی بَرَکت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سیِّدی اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃربِّ العِزۃکی مَحبت وعقیدت رگ رگ میں سرایت کئے ہوئے تھی، لیکن عملی زندگی میں میری مثال کَورے کاغذکی سی تھی بالخصوص نمازوں کی پابندی سے محرومی، فیشن پرستی اورگانے باجے سننے کی نُحوست چھائی ہوئی تھی جبکہ غصہ اورچِڑچِڑاپن میری عادتِ ثانیہ تھی۔می        رے پھوپھی زادبھائی (جوکہ دعوت اسلامی کے مشکبارمَدَنی ماحول سے وابَستہ تھے) نے اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے میرے بھائی جان کوبھی دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی



Total Pages: 27

Go To