Book Name:Al Wazifa tul karima

۳۳۸۸، ج۵، ص۲۴۶)

نمازِ صبح وعصر کے بعد

{1} بغیر پاؤں بدلے ، بغیر کلام کئے

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُیُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ٍقَدِیْرٌ  ([1])دس دس بار

            ہر بلا وآفت وشیطان ومکروہات سے بچے ، گناہ معاف ہوں ، اس کے برابر کسی کی نیکیاں  نہ نکلیں۔([2])

{2} اَللّٰهُمَّ اَجِرْنِيْ مِنَ النَّارِ ([3])سات سات باردوزخ دعا کرے کہ الٰہی اسے مجھ سے بچا ۔([4])

 نمازِ صبح کے بعد

{1اَللّٰهُمَّ اکْفِنِیْ کُلَّ مُہِمٍّ مِّنْ حَیْثُ شِئْتَ وَ مِنْ اَیْنَ شِئْتَ حَسْبِیَ اللہُ لِدِیْنِیْ حَسْبِیَ اللہُ لِدُنْیَایَ حَسْبِیَ اللہُ لِمَآ اَہَمَّنِیْ حَسْبِیَ اللہُ لِمَنْۢ بَغٰی عَلَیَّ حَسْبِیَ اللہُ لِمَنْ حسَدَنِیْ حَسْبِیَ اللہُ لِمَنْ کَادَنِیْ بِسُوْٓ ءٍ حَسْبِیَ اللہُ عِنْدَ الْمَوْتِ حَسْبِیَ اللہُ عِنْدَ الْمَسْاَلَۃِ فِی الْقَبْرِ حَسْبِیَ اللہُ عِنْدَ الْمِیْزَانِ حَسْبِیَ اللہُ عِنْدَ الصِّرَاطِ حَسْبِیَ اللہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم([5])ایک بار، یا تین بار

            ہر مشکل آسان ہو، سب پریشانیاں دور ہوں ، ایمان سلامت رہے ، اللہ  تعالیٰ ہر جگہ مدد فرمائے ، دشمن برباد ہوں ، حاسد اپنی آگ میں جلیں ، نزع آسان ہو، قبر میں شاداں ہو، نیکیوں کا پلہ بھاری ہو، صراط پر سہل جاری ہو۔

 {2}بعد نماز صبح بغیر پاؤں بدلے بیٹھا ہوا ذکر ِالٰہی میں مشغول رہے یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو یعنی طلوعِ کنارۂ شمس کو بیس پچیس منٹ گزر جائیں اس وقت دو رکعت نماز ِ نفل پڑھے پورے حج و عمرہ کا ثواب لے کر پلٹے ۔([6])

نمازِ مغرب کے بعد

            فرض پڑھ کر چھ رکعتیں  ایک ہی نیت سے ، ہر دو رکعت پر اَلتَّحِیَّاتُودرُود ودُعا اور پہلی، تیسری، پانچویں  ’’سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ‘‘ سے شروع کرے ، ان میں پہلی دو سنتِ مؤکدہ ہوں گی، باقی چارنفل۔ یہ صلوٰۃِاَوَّابِین ہے اور اللہ  اوّابین کیلئے غفور ہے ۔([7])

 شب میں (یعنی غروبِ شمس سے طلوعِ صبح تک جس وقت ہو)

{1سورۂ       مُلک

                        عذابِ قبر سے نجات ہے ۔([8])

{2سورۂ یٰس

                   مغفرت ہے ۔([9])

 {3سورۂ واقعہ

                        فاقہ سے امان ہے ۔ ([10])

{4سورۂ دخان

       صبح اس حال میں اُٹھے کہ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہوں ۔([11])

 



[1]     ترجمہ  :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اس کیلئے مُلک وحمد ہے ، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے ، وہ زندہ کرتاہے اورموت دیتاہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے ۔

[2]     المسند للامام احمد بن حنبل، مسندالشامیین، الحدیث : ۱۸۰۱۲، ج۶، ص۲۸۹

[3]     ترجمہ  : اے اللہ! عَزَّ وَجَلَّ مجھے دوزخ کی آگ سے بچا۔

[4]     مسند ابی یعلٰی، مسند ابی ہریرۃ، الحدیث : ۶۱۶۴، ج۵، ص۳۷۸

[5]     ترجمہ  : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ تو جیسے اور جہاں سے چاہے میرے ہر معاملے میں مجھے کفایت فرما، میرے دین کیلئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ، میری دنیا کیلئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ، میرے ہر پریشان کن معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ، مجھ پر سرکشی کرنے والے کیلئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ، مجھ سے حسد کرنے والے کیلئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ، جو مجھے نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے اس کیلئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ، نزع کی تکالیف کیلئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ،      قبر میں سوالات کے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ، میزانِ عمل کے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ، پل صراط سے گزرتے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے ، مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافی ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے ۔

[6]     سنن الترمذی، کتاب السفر، باب ذکرما یستحب من الجلوس   الخ، الحدیث : ۵۸۶،  ج۲، ص۱۰۰

[7]     الدر المختار ورد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، مطلب فی السنن والنوافل،   ج۲، ص۵۴۷والمعجم الاوسط للطبرانی، باب المیم، الحدیث : ۷۲۴۵، ج۵، ص۲۵۵

[8]     سنن الترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی فضل سورۃ الملک، الحدیث : ۲۸۹۹، ج۴، ص۴۰۷

[9]     شعب الایمان للبیہقی، باب فی تعظیم القرآن، فصل فی فضائل السور و الآیات، الحدیث : ۲۴۵۸، ج۲، ص۴۷۹

[10]     شعب الایمان للبیہقی، باب فی تعظیم القرآن، فصل فی فضائل السور و الآیات، الحدیث : ۲۴۹۷، ج۲، ص۴۹۱