Book Name:Al Wazifa tul karima

شعبۂ کتب اعلٰیحضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمجلس المدینۃالعلمیۃ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حَامِدًا لِّمَنْ جَعَلَ الدُّعَآءَ عِبَادَۃً بَلْ مُخَّ الْعِبَادَۃِ وَ اَمَرَ باُدْعُوْنِیْ عِبَادَہٗ وَاَلْزَمَہٗ بِوَعْدِہٖ الْاِجَابَۃَ وَمَنْ دَعَا رَبَّہٗ  لَبَّیْکَ یَا عَبْدِیْ اَجَابَہٗ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ-اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ فَاِنَّہٗ سَمِیْعٌ مُّجِیْبُ وَّ مُصَلِّیًا وَّمُسَلِّمًا عَلٰی مَنْ اخْتَبَاَ دَعْوَتَہُ الْمُسْتَجَابَۃَ  لِیَوْمِ الْمَثَابَۃِ وَعَلٰۤی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ مَا انْہَلَّ الدِّیْمَ  مِنَ السَّحَابَۃِط اٰمِیْن

           حمد ([1]) اُس کے وجہِ کریم کو جس نے ہمیں مولائے عالم، والی ٔ اعظم محمد رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ کے بندگانِ بارگاہِ عالم پناہ میں کیا، ہمارے ہاتھ میں حضور پُر نور سیدنا غوثُ الاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا دامن ِکرم دیا، اپنے اولیا، ہمارے مشائخِ سلسلہ خصوصاً ہمارے آقا ومولیٰ حضور سیدنا اعلیٰ حضرت قبلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا سایۂ رحمت ہم پر دراز کیا، جنہوں نے ہم تک پہنچایا کہ تمہارا حیا والا ربِ کریم حیا فرماتا ہے کہ بندہ اس کے حضور ہاتھ پھیلائے اور وہ خالی ہاتھ پھیر دے ، ہمیں خود حکمِ دعا دیا اور اپنے کرم سے اجابت کولازم فرمایا :

فَعَلَیْکُمْ بِالدُّعَآءِ فَاِنَّ الدُّعَآءَ یَرُدُّ الْقَضَآءَ بَعْدَ اَنْ یُّبْرَمَ

       بارگاہِ کرم سیّد ِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ سے حضور پُر نور سیدنا اعلیٰ حضرت قبلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھوں جو مبارک دعائیں ہمیں پہنچیں اور جو اَذکار و اَشغال دُرِّ مَکنُون کی طرح خاندانِ عالیہ میں مخزون تھے ، برادرانِ اہلسنت و خواجہ     تاشانِ قادریت و رضویت کے لیے شائع کرتے اور دعوے سے کہتے ہیں کہ ان کا عامل دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال ہوگا، ہر بلا وآفت سے محفوظ رہے گا، مولیٰ تعالیٰ ان کی برکات سے تمام اہلِ سنت کو مستفیض فرمائے ۔ آمین آمین!

                    گدائے آستانہ قدسیہ رضویہ فقیر محمد حامد رضا قادری غفرلہ (ورَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ)

       دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر اور روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے مدنی انعامات کا کارڈ پُر کر کے ہر مدنی ماہ کے دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے ۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے پابند ِسنّت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کُڑھنے کا ذہن بنے گا۔کرتے

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

صبح وشام دونوں وقت

            آدھی رات ڈھلے سے سورج کی کرن چمکنے تک صبح ہے ، اس بیچ میں جس وقت ان دعائو ں کوپڑھ لے گا صبح میں پڑھنا ہو گیا، یوں ہی دو پہر ڈھلنے سے غروبِ آفتاب تک شام ہے ۔

{1} سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللَّهِ، مَا شَآءَ اللَّهُ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَاْلَمْ يَكُنْ، اَعْلَمُ اَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَاَنَّ اللَّهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً([2])  ایک ایک بار

{2} آیَۃُ الْکُرْسِی ([3])  ایک ایک بار

            اور اس کے بعد بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم حٰمٓۚ(۱) تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ(۲) غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِۙ-ذِی الطَّوْلِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ(۳)([4]) ایک ایک بار{3} تینوں ’’قُلْ‘‘([5]) تین تین بار ان تینوں نمبروں کافائدہ ہربلا سے محفوظی ہے ، صبح پڑھے



[1]     حضور پُر نور سیدنا اعلیٰ حضرت قبلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بطورِ تمہید کچھ تحریر فرمانا چاہا تھا مگر وہ جواہرزَواہر مثل دُرِّ مکنون سینۂ اقدس میں مخزون رہے دل نے نہ چاہا کہ ان الفاظِ کریمہ سے ایک حرف بھی کم ہو، انہیں بجنسہ نقل کر کے کہ یہ یہیں تک تھے ، جو فہم قاصر میں آیا ہدیۂ ناظرین کیا، اس رسالہ کا نام بھی کچھ نہ تجویز فرمایا تھا، تاریخی نام اور خطبہ فقیر نے اضافہ کیا۔

                                                                                گدائے آستانہ قدسیہ رضویہ فقیر محمد حامد رضا قادری غفرلہ (ورَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ)

[2]     ترجمہ  :  پاک ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی تعریف کے ساتھ، نیکی کی توفیق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے ، جو اس نے چاہا وہی ہوا اور جو نہ چاہا وہ نہ ہوا، میں جانتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب کچھ کرسکتا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا علم ہر چیز کو محیط ہے ۔

[3]     اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵) (پ۳، البقرۃ : ۲۵۵)                                                                                                                   

ترجمہ ٔ کنزالایمان : اللّٰہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے  وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے  اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا

[4]     ترجمہ ٔ کنزالایمان :  اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا یہ کتاب اتارنا ہے اللہ کی طرف سے جو عزت والا علم والاگناہ بخشنے والااور توبہ قبول