Book Name:Al Wazifa tul karima

            قیامت میں  بھی اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کرتا اٹھے گا۔

تنبیہ :  اوپر سے یہاں  تک جتنی دعائیں  لکھی گئیں  ہر ایک کے اول وآخر درود شریف ضروری ہے ۔

 تہجد

            فرضِ عشاء پڑھنے کے بعدکچھ دیر سو رہے پھر شب میں  طلوعِ صبح سے پہلے جس وقت آنکھ کھلے اگر چہ رات کے نو بجے ، یا جاڑوں میں پونے سات بجے عشاء  پڑھ کر سو رہے اور سات سواسات بجے آنکھ کھلے وہی وقت تہجد کا ہے ، وضو کر کے کم از کم دو رکعت پڑھ لے تہجد ہو گیا اور سنت آٹھ رکعت ہیں ۔([1])اور معمولِ مشائخ 12 رکعت، قرأت کااختیار ہے جو چاہے پڑھے ، اور بہتر یہ کہ جتنا قرآنِ مجید یاد ہو اس کی تلاوت ان رکعتوں میں کرے ، اگر کل یاد ہو تو کم سے کم تین رات زیادہ سے زیاد ہ چالیس رات میں ختم کرے ، نہ یاد ہو تو ہر رکعت میں تین تین بار سورۂ اخلاص کہ جتنی رکعتیں پڑھے گا اتنے ختمِ قرآنِ مجیدکاثواب ملے گا۔

ذکر ِچہار ضربی

            چار زانو بیٹھے ، بائیں  زانو کی رگِ کیماس دہنے پاؤں  کے انگوٹھے اور اس کی برابر کی انگلی میں  دبا لے پھر سر جھکا کر بائیں  گھٹنے کے مُحاذی لاکر ’’لَا‘‘  کالام یہاں  سے شروع کرکے دہنے گھٹنے کے مُحاذات تک کھینچتا ہوا لے جائے ، اب یہاں  سے ’’اِلٰہَ‘‘ کا ہمزہ شروع کرکے لام کے بعد کا الف دہنے شانے تک کھینچتا لے جائے اور ’’ہَ‘‘ د  ہنی طرف خوب منہ پھیر کے کہے ، پھر وہاں  سے  ’’اِلَّا اللہُ‘‘بَقُوَّتِ دل پر ضرب کرے ۔ سو بار، یا حسبِ قوت کم سے شروع کرے پھر حسبِ طاقت وفرصت بڑھاتا جائے ، بہتر یہ ہے کہ پانچ ہزار ضرب روزانہ تک پہنچائے ، جب حرارت بڑھنے لگے ہرسوبار کے بعد ایک یا تین بار ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰۤی اٰلِہٖ وَاَصْحٰبِہٖ وَسَلَّمَ‘‘ کہہ لے تسکین پائے گا، مگر ُمبتدی جب تک زنگ دور نہ ہو خالص حرارت کا      محتاج ہے ۔

            یہ ذکر ایسے وقت ہو یاایسی جگہ ہو کہ رِیا نہ آئے ، کسی نمازی، ذاکر یا مریض یا سوتے کو تشویش نہ ہو، اگر دیکھے کہ رِیا آتا ہے تو نہ چھوڑے اور خیالِ رِیا کو دفع کرے ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف اس کے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ کے توسل سے رجوع لائے ، تائب ہو۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ ریا سے محفوظ رہے گا یا رِیا دفع ہوجائے گا۔

ذِ ْکر ِخفی

                دوزانو آنکھ بند کئے ، زبان کو تالو سے جمائے کہ متحرک نہ ہو محض تصور سے کہ سانس کی آواز بھی نہ سنائی دے ، ان پانچ طریقوں سے جو طریقہ چاہے اختیار کر ے خواہ وقتاً فوقتاً پانچوں برتے  :

دوزانو آنکھ بند کئے ، زبان کو تالو سے جمائے کہ متحرک نہ ہو محض تصور سے کہ سانس کی آواز بھی نہ سنائی دے ، ان پانچ طریقوں  سے جو طریقہ چاہے اختیار کر ے خواہ وقتاً فوقتاً پانچوں  برتے  :

{1} سرجھکا کر ناف سے ’’لَا‘‘ کا لام نکال کر سر بتدریج اوپر اٹھاتا ہوا ’’اِلٰہَ‘‘ کی ’’ہَ‘‘ دماغ تک لے جائے اور معاً ’’اِلَّا اللہُ‘‘ کا پہلا ہمزہ وہاں  سے شروع کرکے اس کی ضرب ناف ، خواہ دل پر کرے ۔

{2} اسی طور پر  ’’لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا ہُوَ‘‘ اس میں  دوسرا جز ’’اِلَّا ہُوَ‘‘ ہوگا۔

{3} صرف ’’اِلَّا اللہُ‘‘ کو پہلا ہمزہ ناف سے اٹھا کر ’’ اِلَّا الْ‘‘ دماغ تک لے جائے اور معاً  ’’لَہٗ‘‘  وہاں سے اتار کر ناف یا دل پر ضرب کرے ۔

{4} فقط ’’اَللہُ‘‘ پہلا ہمزہ ناف سے شروع کر کے ’’لَا‘‘ کو دماغ تک پہنچائے اور بدستور ’’ہُ‘‘ کی ضرب کرے ۔

{5}محض ’’اللہُ‘‘ بسکونِ ہا پہلا ہمزہ ناف سے اٹھا کر ’’لام‘‘ دماغ تک اور ’’لَاہْ‘‘ کی ضرب۔ اسے سو بار سے شروع کر کے حسب ِ وسعت ہزاروں  تک پہنچائے اور ان پانچوں میں افضل پہلا طریقہ ہے ، یہ طریقے اس درجہ مفید ہیں کہ انہیں اِخفا کرتے ہیں ، رُموز میں لکھتے ہیں ، فقیر نے خاص اپنے برادرانِ طریقت کے لئے اسے عام کیا۔

پاسِ اَنفاس

            انہیں پانچوں طریقوں سے جسے چاہے ہر سانس کی آمدورفت میں کھڑے بیٹھے ، چلتے پھرتے ، وضو بے وضو بلکہ قضائے حاجت کے وقت بھی ملحوظ رکھے یہاں تک کہ اس کی عادت پڑ جائے اور تکلف کی حاجت نہ رہے اب سوتے میں بھی ہر سانس کے ساتھ ذکر جاری رہے گا۔

تصور ِشیخ

            خلوت میں آوازوں سے دور، رُو بمکانِ شیخ، اور وصال ہوگیا تو جس طرف مزارِ شیخ ہو ادھر متوجہ بیٹھے ، محض خاموش، باادب ، بکمالِ خشوع صورتِ شیخ کا تصور کرے اور اپنے آپ کو اس کے حضور حاضر جانے اور یہ خیال دل میں جمائے کہ سرکارِ رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ و التحیۃ سے انوار وفیوض شیخ کے قلب پر فائض ہو رہے ہیں ، میرا قلب قلبِ شیخ کے نیچے بحالت ِدَر ُ



[1]      ردا   لمحتا ر، کتاب    الصلا   ۃ، باب ا لوتر والنوافل، مطلب فی صلاۃ ا  للیل، ج۲، ص۵۶۶۔۵۶۷



Total Pages: 17

Go To