Book Name:Al Wazifa tul karima

بعد نمازِ عشاء

{1} اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا اَمَرْتَنَآ اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَیْہِ

            اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا ھُوَ اَھْلُہ

            اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی لَہٗ

            اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی رُوْحِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِی الْاَرْوَاحِ

            اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی جَسَدِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِی الْاَجْسَادِ

            اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی قَبْرِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ فِی الْقُبُوْرِ([1])

            صَلَّ اللہُ  عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَولَانَا مُحَمَّدٍ([2])

            طاق بار جتنا نبھ سکے ، حصولِ زیارت ِاقدس کے لئے اس سے بہتر صیغہ نہیں مگر خالص تعظیم ِشانِ اقدس کے لئے پڑھے ، اس نیت کو بھی جگہ نہ دے کہ مجھے زیارت عطا ہو، آگے ان کا کرم بے حد و انتہا ہے ۔

فراق و وصل چہ خواہی رضائے دوست طلب              کہ حیف باشد ازو غیرِ او تمنائے ([3])

مُنہ مدینہ طیبہ کی طرف ہو اور دل حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف، دست بستہ پڑھے ، یہ تصور باندھے کہ روضۂ انور کے حضور حاضر ہوں اور یقین جانے کہ حضورِانور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ اسے دیکھ رہے ہیں ، اس کی آواز سن رہے ہیں ، اس کے دل کے خطر وں پرمُطَّلِع ْہیں ۔

{2} اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوۡمُط  اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَط صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ اَبَدًا عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَط اَللہُ اللہُ اَللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا غَوْثُ یَا غَوْثُ یَا غَوْثُ([4]) سو مرتبہ، گناہوں کی مغفرت، آفاتِ دنیاوی واُخروی سے نَجات وصفاء ِقلب۔

سوتے وقت

{1} آيَةُ الْكُرْسِي شریف([5])  ایک بار۔

            جب تک سوئے حفاظت ِالٰہی میں رہے ، اس کے گھر اور گرد کے گھروں میں چوری سے پناہ ہو، آسیب وجن کادخل نہ ہو۔([6])

 {2}تسبیحِ حضر تِ زہرارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ۔([7])

            صبح  َنشاط پر اُٹھے اور فوائد بے شمار۔([8])

 



[1]     سعادۃ الدارین ، تتمۃ فی الفوائد التی تفید رؤیا النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  ، ص۴۴۴

[2]     ترجمہ  :  اے اللہ! عَزَّ وَجَلَّ  ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر درود نازل فرما جیسے تو نے ہمیں ان پر درود بھیجنے کا حکم دیا، اے اللہ! عَزَّ وَجَلَّ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر رحمت نازل فرما جیسے کہ وہ اسکے اہل ہیں ، اے اللہ! عَزَّ وَجَلَّ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر درود نازل فرما جیسے کہ تو انکے لئے پسند فرماتا ہے ، اے اللہ! عَزَّ وَجَلَّ  روحوں میں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی روح  مبارک پر رحمت نازل فرما، اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ  اجساد میں ہمارے آقاحضرت محمد مصطفیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے جسد ِمبارک پر رحمت نازل فرما، اے اللہ! عَزَّ وَجَلَّ  قبروں میں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی قبر ِانور پر رحمت نازل فرما، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہمارے          آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر رحمت نازل فرما۔

[3]     یعنی وصل و فراق سے کیا غرض!محبوب کی خوشنودی کا طالب ہو، دوست سے اس کے علاوہ کی تمناکرنا باعث افسوس ہے ۔

[4]     ترجمہ  :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے جس کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں وہ آپ زندہ اور اَوروں کا قائم رکھنے والا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں بہت مہربان رحمت والا، اے اللہ! عَزَّ وَجَلَّ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، پاکی ہے تجھ کو، بے شک مجھ سے بے جا ہوا،  اے اللہ! عَزَّ وَجَلَّ دائمی درود وسلام اور برکتیں نازل فرما اُ   مّینبی پر اور ان کی آل اور تمام اصحاب پر، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے رسول ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ان پر رحمت و سلامتی نازل فرمائے ، اے فریاد رَس! اے فریاد رَس! اے فریاد رَس!

[5]     اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵)۳، البقرۃ : ۲۵۵)

ترجمہ ٔ کنزالایمان : اللّٰہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے  وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے  اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا۔

[6]     شعب الایمان للبیہقی، باب فی تعظیم القرآن، فصل فی فضائل السور و الآیات، الحدیث : ۲۳۹۵، ج۲، ص۴۵۸۔

[7]     ’’سُبْحٰنَ اللہِ ‘‘تینتیس بار’’اَلْحَمْدُلِلہِ‘‘ تینتیس بار’’اَللہُ اَکْبَرُ‘‘ چونتیس بار۔

[8]     صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب التسبیح  اول النھار وعند النوم، الحدیث : ۲۷۲۸، ص۱۴۶۰ملخصاً۔



Total Pages: 17

Go To