Book Name:Modern Naujawan ki Tauba

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُوَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّابَعْدُفَاَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم طبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

پہلے اسے پڑھ لیجئے !

            اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّشیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولاناابو بلالمحمدالیاس عطاؔرقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ   کی ذاتِ مبارکہ پراللّٰہورسولعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکاخاص کرم ہے ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ   کی شخصیت میں ربّعَزَّوَجَلَّ نے ایسی کشش عطافرمائی ہے کہ کئی گناہ گارصرف آپ کے نورانی چہرے اورسراپاسنّت کے دِیدارکی بَرَکت سے تائب ہوکرنیکیوں پرگامزن ہوجاتے ہیں ، نیکوکاروں کی رِقّتِ قلبی میں اضافہ ہوتاہے ۔ آپ کی صحبت اصلاحِ اعمال کاذریعہ بنتی ہے ۔ چونکہ صالحین کے واقعات میں دِلوں کی جِلا، روحوں کی تازگی اورنظروفکرکی پاکیزگی پِنْہاں ہے ۔ لہٰذاامّت کی اصلاح وخیرخواہی کے مقدّس جذبے کے تَحتمجلس المدینۃ العلمیۃنے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ    کی حیاتِ مبارکہ کے روشن ابواب مثلاًآپ کی عبادات، مجاہدات، اخلاقیات ودینی خدمات کے واقعات کے ساتھ ساتھ آپ کی ذاتِ مبارَکہ سے ظاہرہونے والی بَرَکات وکرامات اورآپ کی تصنیفات ومکتوبات، بیانات وملفوظات کے فُیُوض وبَرَکات کوبھی شائع کرنے کاقَصْدکیاہے ۔

            اس سلسلے میں امیرِاہلسنّت کے بیانات کی مَدنی بہاریں (حصّہ5)’’ماڈرن نوجوان کی توبہ‘‘پیشِ خدمت ہے ۔ (پہلارِسالہ’’امیرِاہلسنّت کے بیانات کے کرشمے ‘‘دوسرارِسالہ’’بدنصیب دُولہا‘‘تیسرارِسالہ’’فلمی اداکارکی توبہ‘‘چوتھارِسالہ’’شرابی کی توبہ‘‘کے نام سے مکتبۃالمدینہسے شائع ہوچکے ہیں )ِانْ شَآء اللّٰہعَزَّوَجَلَّاس کا بغورمطالَعَہ’’اپنی اورساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کی مَدَنی سوچ پانے کاسبب بنے گا ۔ ‘‘

          ہمیں چاہئے کہ اِس رِسالے کوپڑھنے سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرلیں ، نُورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحروبَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :’’اچھی نیّت بندے کوجنَّت میں داخِل کردیتی ہے ۔ ‘‘(اَلجامِع الصَّغِیر، ص۵۵۷حدیث:۹۳۲۶، دارالکتب العلمیہ بیروت)

        ’’فیضانِ عطّار‘‘کے نوحُروف کی نسبت سے اس رِسالے کوپڑھنے کی 9نیّتیں پیشِ خدمت ہیں :{۱}ہربارحَمْدو{۲}صلوٰۃاور{۳}تعوُّذو{۴}تَسمِیہ سے آغازکروں گا ۔ (صفحہ نمبر3کے اُوپردی ہوئی دوعَرَبی عبارات پڑھ لینے سے چاروں نیّتوں پرعمل ہوجائے گا){۵}حتَّی الْوَسْع اِس کاباوُضُواور{۶}قِبلہ رُومُطالَعَہ کروں گا{۷} جہاں جہاں ’’اللّٰہ‘‘کانام پاک آئے گاوہاں عَزَّوَجَلَّاور{۸}جہاں جہاں ’’سرکار‘‘کا اِسْمِ مبارَک آئے گاوہاں صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمپڑھوں گا{۹}دوسروں کویہ رِسالہ پڑھنے کی ترغیب دلاؤں گااورحسب ِ توفیق اس رِسالے کوتقسیم بھی کروں گا ۔

            اللّٰہتعالیٰ سے دُعاہے کہ ہمیں ’’اپنی اورساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مَدَنی اِنعامات پرعمل اورمَدَنی قافِلوں کامسافربنتے رہنے کی توفیق عطافرمائے ۔  اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

شعبہ  امیرِاَہلسنّت     مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ {دعوتِ اسلامی}

۰۲ذوالقعدۃالحرام۱۴۳۰؁ ھ، 21اکتوبر2009ء

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شریف کی فضیلت

            شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ   اپنے رِسالے ’’جنّات کا بادشاہ ‘‘میں حدیث ِپاک نقل فرماتے ہیں ، نبیوں کے سلطان، رَ حمت ِ عالمیان، سردارِ دوجہان، محبوبِ رَحمن صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ بَرَکت نشان ہے : ’’جس نے مجھ پرروزِجُمُعَہ دوسوباردُرُودِپاک پڑھااُس کے دوسوسال کے گُناہ مُعاف ہوں گے ۔ ‘ ‘(کنزُالعُمّال ج ۱ ص۲۵۶ حدیث۲۲۳۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّوا عَلَی الحَبِیب !                                                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

{1}ماڈرن نوجوان کی توبہ

      مدینۃ الاولیاء(ملتان شریف) میں مُقِیم اسلامی بھائی کی تحریرکالُبِّ لُباب ہے کہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ فیشن کے اعتبارسے علاقہ بھر میں مشہور تھاحتّٰی کہ نت نئے فیشن کی ابتداء ہمارے ہی گھرسے ہوتی ۔ گھروالوں کے بے جا لاڈپیارنے  مجھے بگاڑکررکھ دیاتھا ۔ میرے شب وروزگانے باجوں کی نذرہوچکے تھے ۔ نماز وروزے کی کچھ پرواہ نہ تھی ، مجھ پرڈانس سیکھنے کابھوت سوارہوچکاتھا، لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ ، مذاق مسخری میری رگ رگ میں بس چکی تھی ۔ بدمذہبوں کی صُحبتِ بد میں رہنے کی



Total Pages: 9

Go To