Book Name:Faizan e Jumma

            حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سرکارِ نامد ا ر ،   باِذنِ پروردگار دو عالم کے مالِک و مختار،   شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: اَلْجُمُعَۃُ حَجُّ الْمَسَاکِیْنیعنیجُمُعہ کی نماز مساکین کا حج ہے۔   اور دوسری روایت میں ہے کہ اَلْجُمُعَۃُحَجُّ الْفُقَرَاء  یعنی جُمُعہ کی نماز غریبوں کا حج ہے۔   (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۴ ص۸۴ حدیث۱۱۱۰۹،  ۱۱۱۰۸)

جُمُعہ کیلئے جلدی نِکلنا حج ہے

اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے رسول،   رسولِ مقبول،   سیِّدہ آمِنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گلشن کے مہکتے پھولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:  ’’بلاشبہ تمہارے لئے ہر جُمُعہ کے دن میں ایک حج اور ایک عمرہ موجود ہے،   لہٰذا جُمُعہ کی نَماز کیلئے جلدی نکلنا حج ہے اور جُمُعہ کی نَماز کے بعد عَصر کی نماز کے لئے انتظار کرنا عمرہ ہے۔  ‘‘     (اَلسّنَنُ الکُبری لِلْبَیْہَقِی ج۳ ص۳۴۲ حدیث ۵۹۵۰)

                                                حجّ و عُمرہ کا ثواب

             حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتے ہیں :   (نَمازِ جُمُعہ کے بعد ) عَصرکی نَما ز پڑھنے تک مسجِد ہی میں رہے اور اگر نَمازِ مغرِب تک ٹھہرے تو افضل ہے ۔  کہا جاتا ہے کہ جس نے جامِع مسجِدمیں  ( جُمُعہ ادا کرنے کے بعد وَہیں رُک کر)  نمازِ عَصرپڑھی اُس کیلئے حج کا ثواب ہے اور جس نے  (وَہیں رُک کر)  مغرِب کی نَماز پڑھی اسکے لئے حج اور عمرے کا ثواب ہے۔   (اِحیاءُ الْعُلوم ج۱ص۲۴۹)

سب دنوں کا سردار

              نَبِیِّ مُعَظَّم،  رَسُولِ مُحتَرم،  سُلْطانِ ذِی حَشَم،   تا جَدارِ حَرَم،   سَرَاپا جُود وکرمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا فرمانِ باقرینہ ہے:  ’’جُمُعہ کا دن تمام دِنوں کا سردار ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک  عیدُالْاَضْحٰی اور عیدُالْفِطْر سے بڑا ہے۔   اس میں پانچ خصلتیں ہیں :  {۱} اللہ تَعَالٰی  نے اسی میں آدم (علیہِ السَّلام)  کو پیدا کیا اور {۲} اسی میں زمین پر اُنہیں اُتارا اور {۳} اسی میں اُنہیں وفات دی اور {۴}اِس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اُس وَقت جس چیز کا سُوال کرے گا وہ اُسے دے گا جب تک حرام کا سُوال نہ کرے اور{۵} اِسی دن میں قِیامت قائم ہو گی۔   کوئی مقرب فرشتہ و آسمان و زمین اور ہواو پہاڑاور دریا ایسا نہیں کہجُمُعہ کے دِن سے ڈرتا نہ ہو۔  ‘‘   (سُنَنِ اِبنِ ماجہ ج۲ص۸حدیث۱۰۸۴)   

 جانوروں کا خوفِ قیامت

            ایک اور رِوایت میں سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ بھی فرمایا ہے کہ کوئی جانور ایسا نہیں کہ جُمُعہ کے دن صُبح کے وَقت آفتاب نکلنے تک قِیامت کے ڈر سے چیختا نہ ہو ،   سوائے آدمی اور جنّ کے ۔    (مُؤَطّا امام مالک ج۱ص۱۱۵حدیث۲۴۶)

دُعا قَبول ہوتی ہے

            سرکارِ مکّۂ مکرَّمہ،   سردارِمدینۂ منوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عِنایت نشان ہے:  جُمُعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے پاکر اس وقت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے کچھ مانگے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسکو ضرور د ے گا اور وہ گھڑی مختصر ہے۔            (صَحیح مُسلِم ص۴۲۴حدیث۸۵۲)       

عَصر و مغرِب کے درمِیان ڈھونڈو

            حضور پُر نور ،   شافِعِ یومُ النُّشورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ پُر سُرور ہے:   ’’جُمُعہ کے دن جس ساعت کی خواہِش کی جاتی ہے اُسے عَصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک تلاش کرو۔  ‘‘  (سُنَنِ تِرمِذیج۲ص۳۰حدیث۴۸۹)

صاحبِ بہارِ شریعت کا ارشاد

            حضرتِ صَدرُالشّریعہ مولانامحمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں : قَبولیّتِ دُعا کی ساعتوں کے بارے میں دو قول قوی ہیں :  {۱} امام کے خطبے کیلئے بیٹھنے سے ختم نَماز تک {۲} جُمُعہ کی پچھلی (یعنی آخِری)  ساعت (بہارِ شریعت ج۱ص۷۵۴)

قَبولیَّت کی گھڑی کون سی؟

             مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّانفرماتے ہیں :   رات میں روزانہ قَبولیّتِ دعا کی ساعت (یعنی گھڑی)  آتی ہے مگر دِنوں میں صِرف جُمُعہ کے دن ۔   مگر یقینی طور پر یہ نہیں معلوم کہ وہ ساعت کب ہے،   غالِب یہ کہ دو خطبوں کے درمِیان یا مغرِب سے کچھ پہلے ۔  ایک اور حدیثِ پاک کے تَحت



Total Pages: 9

Go To