Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

چڑھانامکروہ ہے ۔‘‘(ردالمحتار، کتاب الصلا ۃ ، بَابُ صَلَاۃِ الْجِنَازَۃِ ، مطلب فی دفن المیت ، ج۳ ، ص۱۷۱)

                (حضرت مصنِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :)لیکن ہم کہتے ہیں :’’اگرچادریں چڑھانے اور عمامے وکپڑے وغیرہ رکھنے کا مقصدیہ ہے کہ عام لوگوں کی نظر میں ان کی عزَّت وعظمت میں زیادتی ہو، تاکہ لوگ صاحبِ مزارسے نفرت نہ کریں ، اور غافل زائرین کے دِلوں میں ان کااَدب واِحترام پیدا ہو، کیونکہ ان کے دل مزارات میں موجوداَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام (کا مقام نہ جاننے کے سبب ان )کی بارگاہ میں حاضری دینے اوران کا اَدب واِحترام کرنے سے خالی ہوتے ہیں ، جیسا کہ ہم پیچھے بیان کرچکے کہ اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی مقدس اَرواح ان کے مزارات کے پاس جلوہ اَفروز ہوتی ہیں ۔ لہٰذا چادریں چڑھانا اور عمامے وغیرہ رکھنا بالکل جائز ہے ، اور اس سے منع نہیں کرناچاہئے ([1])، کیونکہ اَعمال کادارومدارنیتوں پرہے اورہر ایک کے لئے اسی کا بدلہ ہے جو اس نے نیت کی، اگرچہ یہ ایسی بدعت ہے جس پر ہمارے اَسلاف کا عمل نہ تھا۔ ‘‘ لیکن یہ بات ویسے ہی جائز ہے جیسے فقہاء  کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ’’کتاب الحج‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’ حج کرنے والاطوافِ وَدَاع کے بعداُلٹے پاؤں چلتا ہوا مسجد حرام سے نکلے کیونکہ یہ بیت اللہ شریف زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی تعظیم وتکریم ہے ۔‘‘اور ’’منہج السالک‘‘ میں ہے : ’’طوافِ وَدَاع کے بعد لوگوں کا اُلٹے پاؤں واپس لوٹنا نہ تو سنّت ہے اور نہ ہی اس بارے میں کو ئی واضح حدیث ہے ۔اس کے باوجود بزرگانِ دین ایسا کیا کرتے تھے ۔‘‘(الفتاوٰی تنقیح الحامدیۃ ، وَضْعُ السُّتُورِالخ ، ج۲، ص۳۵۷)

 بیت اللہ شریف سے بڑھ کر تعظیم :

             جب بیت اللہ شریف زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی اس قدر تعظیم ہے جو ایک بے جان پتھر ہے تواَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی کتنی تعظیم ہوگی جوبلاشبہ بیت اللہ شریف سے اَفضل ہیں ، کیونکہ اَولیاء کرام  رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  توخالص اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے کے مکلَّف(یعنی پابند) ہیں اور بیت اللہ شریف مکلَّف(یعنی شرعی اَحکام کا پابند) نہیں کہ اس کی عبادت بغیر مکلَّف ہونے کے ہے ۔ اوراگر اَولیاء کرام  رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  اِنتقال کرجائیں تو میت بظاہر ایک بے جان چیز کی طرح ہوتی ہے لیکن سب کااِحترام کرنالازم ہے ۔

            نیز کعبۃ اللہ شریف زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاپرغلاف چڑھانا بھی جائز ہے ، فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  نے فرمایا: ’’کعبۃ اللہ شریف پرریشمی غلاف چڑھاناجائز ہے ، اور صالحین و اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے مزارات اگرچہ کعبۃ اللہ نہیں اور نہ ہی احکام میں کعبۃ اللہ شریف کی طرح ہیں (مثلاًمزاراتِ اَولیاء کا طواف نہیں کیا جاتا وغیرہ)  مگر قابلِ اِحترام ضرور ہیں ، کیونکہ ہمیں نمازمیں کعبۃاللہ شریف کی طرف منہ کرنے ، اس کا طواف اور اَدب واِحترام کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہم اس کے پابند ہیں ورنہ وہ محض پتھروں کا مجموعہ ہے ۔‘‘

بعینہ کعبۃ اللہ شریف کو سجدہ کرنے والا کافرہے :

            جو شخص خاص کعبۃاللہ شریف کو سجدہ کرے وہ بتوں کی عبادت کرنے والا اور کافر ہے ، اسی لئے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے دورانِ طواف حجراَسودکوبوسہ دینے کے بعدارشاد فرمایا:’’میں جانتاہوں کہ تو صرف ایک پتھرہے جو بذاتہ نہ تو نفع دے سکتاہے اور نہ ہی نقصان، اگر میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتاتومیں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الحج ، باب ماذکر فی الحجر الاسود ، الحدیث ۱۵۹۷، ص۱۲۶)

            علمائے کرام فرماتے ہیں اس کا سبب یہ تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں بیت اللہ شریف زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاکے اِرد گردبُت رکھے ہوئے تھے اور کفار ان کو سجدہ کیا کرتے تھے پس آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو یہ خدشہ ہوا کہ مجھے حجرِ اَسود کو بوسہ دیتے ہوئے کوئی اسے زمانۂ جاہلیت کی مشابہت ہی نہ سمجھ بیٹھے ، اسی لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بوسہ دینے کے بعد اِرشاد فرمایا۔

مزارات ، کعبۃ اللہ نہیں :

                (حضرت سیِّدُنا عبد الغنی نابُلُسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں :)میں نے عوام وخواص میں کسی سے نہیں سناجس کا یہ عقیدہ ہو کہ’’صالحین کی قبریں کعبۃ اللہ ہیں ، ان کا طواف کرنایاان کی طرف منہ کرکے نمازپڑھنادرست ہے ۔‘‘ حتی کہ ہمیں اس بات سے کسی طرح کاخوف ہواور عوامُ الناس سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’قبلہ بس کعبہ شریف ہی ہے اور وہ مکہ مکرمہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں ہے اسی وجہ سے یہ لوگ مزارات کی بہت زیادہ تعظیم اوران کا اِحترام کرتے ہیں کیونکہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَولیاء، اس کے پسندیدہ بندوں اور صوفیائے کرام کے مزارات ہیں ۔‘‘ عوام الناس کے بارے میں ہمیں یہی علم ہے ، اورمؤمن، اہلِ اِیمان کے بارے میں اَچھا ہی گمان رکھتاہے ۔ حضرت سیِّدُنا اِمام جَلالُ الدِّین سُیُوطِی شَافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  نے ’’جَامِعُ الصَغِیْر‘‘ میں حدیث پاک نقل فرمائی ہے ۔چنانچہ،

            حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عالیشان ہے :’’حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَۃِیعنی حُسنِ ظن اچھی عبادت ہے ۔‘‘ (الجامع الصغیر للسیوطی، الحدیث ۳۷۲۲، ص۲۲۶)

اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ- (پ۲۶، الحجرات:۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والوبہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔

            عام مؤمنین کے حق میں واجب ہے کہ ان کے اَفعال کواَچھائی پر محمول کیا جائے جیساکہ حضورنبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ان کے ساتھ معاملہ فرماتے تھے حالانکہاللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو ان کے بارے میں بتادیا تھاکہ ان میں سے بعض منافقین بھی ہیں جن کے باطن میں کفر واِنکاراورظاہرمیں ایمان ہے ، اس کے باوجود آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   سب کے ساتھ مؤمنوں والامعاملہ فرماتے ، کیونکہ حکم ظاہر پرہوتا ہے ، اور دلوں کے حالات بذات ِخوداللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتاہے ۔چنانچہ،

            نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے لوگو ں سے اس وقت تک جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ اس با



[1]    سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’اور جب چادر موجود ہو اور وہ ہُنُوز(ابھی)پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادرچڑھانا فضول ہے ۔بلکہ جودام اس میں صرف کریں ولی اللہ کی روح مبارک کو اِیصالِ ثواب کے لئے محتاج کودیں ۔ ہاں جہاں معمول ہو کہ چڑھائی ہوئی چادر جب حاجت سے زائد ہو، خدام، مساکین حاجت مند لے لیتے ہیں اور اس نیت سے ڈالے تو مضائقہ نہیں کہ یہ بھی تصدق ہو گیا۔‘‘ (احکامِ شریعت ، حصہ اول ، ص۸۹)



Total Pages: 40

Go To