Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

: ’’اَوْلِیَاءُ اللّٰہِ لَایَمُوْتُوْنَ وَلٰکِنْ یَنْقُلُوْنَ مِنْ دَارٍاِلٰی دَارٍیعنی بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّکے اولیاء مرتے نہیں بلکہ ایک گھرسے دوسرے گھرمنتقل ہوجاتے ہیں ۔‘‘ (التفسیرالکبیر، پ۴، آل عمران ، تحت الایۃ:۱۶۹، ج۳ ، ص۴۲۷) اس حقیقت کے باوجود کئی گمراہ فرقے اس اسلامی عقیدہ کے منکر ہیں اور قرآن وحدیث کی من مانی تفسیروشرح کرکے ، فاسد عقلی دلیلوں اورگمراہ کن پروپیگنڈا سے بھولے بھالے مسلمانوں کواس عقیدہ سے منحرف کرتے اورمزارات اولیاء اوران کی برکات سے متنفرکرتے ہیں ۔ حضرت سیدناامام محمدبن اسماعیل المعروف امام بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی  (متوفی ۲۵۶ھ) ’’بخاری شریف ‘‘میں نقل فرماتے ہیں کہ ’وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَرَاہُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللّٰہِ وَقَالَ اِنَّہُمْ انْطَلَقُوْا اِلٰی آیَاتٍ نَزَلَتْ فِی الْکُفَّارِفَجَعَلُوْہَا عَلَی الْمُؤْمِنِینَیعنی

 

حضرت سیدناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا خارجیوں اوربے دینوں کوبدترین مخلوق سمجھتے تھے اورفرماتے کہ’’یہ بدنصیب کفار کے متعلق نازل شدہ آیات مومنین پرچسپاں کرتے ہیں ۔‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب استتابۃ المرتدینالخ ، باب قتل الخوارجالخ ، ص۵۷۸)  آج بھی بدمذہبوں کایہی حال ہے کہ اپنی تقریر وتحریر میں ہمیشہ بتوں کے بارے میں نازل شدہ آیات کوحضرات انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام پر چسپاں کرتے اور کفار و مشرکین کی آیات مسلمانوں  پر پڑھتے ہیں ۔ (مراۃ المناجیح ، ج۵، ص۲۶۳ ملخصًا)

            پیش نظرکتاب ’’فیضانِ مزاراتِ اولیاء‘‘خَا تَمَۃُ الْفُقَہَاء وَالْمُحَدِّثِیْن امام سیدمحمدامین بن عمرالمعروف ابن عابدین شامی اور مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ماکے ممدوح ، عارف باللہ، ناصح الامہ، حضرت سیدی علامہ عبدالغنی بن اسماعیل نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  (متوفی ۱۱۴۳ھ) کی خاص اسی موضو ع پر تصنیف ’’کَشْفُ النُّوْر عَنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْر‘‘ کا اردو ترجمہ ہے جس میں انہوں نے بعد ِ وصال کراماتِ اولیاء کاثبوت، حضرات اولیاء عظام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکی قبور پرمزارات بنانا، ان کی تعظیم کرنا، ان پر چادریں چڑھانااور نذرونیاز کرنا وغیرہ ایسے اُمورکے متعلق اِسلامی عقائد و شرعی احکام کوبہترین اور تحقیقی اندازمیں بیان فرمایاہے ۔

            کتاب کی ابتداء میں ایک مقدمہ بنام ’’فیضان کمالات اولیاء‘‘ شامل کیاگیا ہے جس میں حضرات اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے قرآن وحدیث میں مذکورفضائل، شریعت وطریقت کاایک ہونا، ولایت کی تعریف و اقسام، ولی کی تعریف واقسام، کرامت کی تعریف و اقسام، معجزہ اور کرامت میں فرق، کرامت اوراستدراج میں فرق، قرآن وحدیث میں کرامت کابیان ،  اولیائے اُمت محمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بکثرت کرامات کے ظہورمیں حکمت اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی کی آفات وغیرہ  اُمورکوبیان کیاگیاہے تاکہ اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی حقیقی معرفت و محبت دل میں اُجاگرہو ، ان سے وابستہ اِسلامی عقائد ونظریات کا شعور حاصل ہو نیز دلوں پرپڑے بغض وعناد کے دبیزپردے چاک ہوں اورقلوب واذہان ’’کمالات اولیاء‘‘ کے فیضان سے نورانی بن جائیں ۔

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ  تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک ’’دعوتِ اِسلامی‘‘ کی مجلس’’المدینۃ العلمیۃ‘‘ کے ’’شعبہ تراجمِ کتب‘‘ کے مدنی علماء کَثَّرَھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی کی کاوشوں سے اس کا اردوترجمہ آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔اس میں جو بھی خوبیاں ہیں وہ یقیناً اللہ  عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی عطاؤں ، اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰکی عنایتوں اور شیخ طریقت، امیراہلسنت، بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانامحمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ کی پُرخلوص دعاؤں کا نتیجہ ہے اورجو خامیاں ہیں ان میں ہماری کوتاہ فہمی کادخل ہے ۔

          ترجمہ کے لئے ’’مکتبہ نوریہ رضویہ‘‘سردارآباد(فیصل آباد) پاکستان کا نسخہ (مطبوعہ ۱۹۷۷ء) استعمال کیاگیاہے ۔اوردرج ذیل اُمور کا خصوصی طور پر خیال رکھا گیا ہے :

{۱}… سلیس اوربامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ کم پڑھے لکھے اسلامی بھائی بھی اچھی طرح سمجھ سکیں ۔

{۲}…آیات ِ مبارکہ کا ترجمہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کے ترجمۂ قرآن کنز الایمان سے لیا گیا ہے ۔

{۳}…بیان کردہ احادیث ِمبارکہ کی تخریج کاحتی المقدور اہتمام کیا گیا ہے ۔

{۴}…بعض مقامات پر مفید حواشی اور اکابرینِ اہلسنّت کی تحقیق کودرج کردیا ہے ۔

{۵}…اَولیاء عظام وعلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیاورشہروں وغیرہ کے ناموں پراعراب کا اہتمام کیا گیا ہے ۔

{۶}…کئی مقامات پرمشکل الفاظ کے معانی ہِلالین(brackets) میں لکھ دیئے گئے ہیں ۔

{۷}…تلفظ کی درستی کے لئے مشکل وغیرمعروف الفاظ پر اعراب کاالتزام کیا گیا ہے ۔

{۸}…موقع کی مناسبت سے جگہ بہ جگہ عنوانات قائم کئے گئے ہیں ۔

{۹}…علاماتِ ترقیم(رُموزِاوقاف) کابھی بھرپورخیال رکھا گیاہے ۔

{۱۰}…مقدمہ’’ فیضان کمالات اولیاء‘‘ اور رسالہ ’’ فیضان مزارات اولیاء‘‘دونو ں کی الگ الگ فہرست بنائی گئی ہے ۔

            اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں دُعا ہے کہ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول ’’مجلس المدینۃ العلمیۃ‘‘کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے ۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ واَصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ 

شعبہ تراجِم کتب (مجلس المد ینۃ العلمیۃ)

 

مقدّمہ

’’فیضانِ کمالات اولیاء‘‘

            تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے لئے ہیں جو اپنی مخلوق پر اِنعام واِکرام کی پیہم بارش برسارہاہے ۔ اس نے اپنے لطف وکرم سے اپنے بندوں میں سے بعض کو پسند فرماکرخاص کرلیااورانہیں اپنے



Total Pages: 40

Go To