Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

            حضرت سیِّدُنااِمام شَعْرَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی  فرماتے ہیں :’’میں نے خوداپنی آنکھوں سے 945 ہجری میں حضرت سیِّدُنا عَبْدُ الْعَالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے منارہ پر ایک قیدی کو دیکھا جو بیڑیوں میں جکڑا اور گھبرایا ہوا تھا، میں نے اس حالت کے متعلق اُس سے پوچھا تو اُس نے بتایا:’’ میں فرنگیوں کے علاقے میں قید تھا، رات کے آخری حصہ میں ، میں نے حضرت سیِّدُنااَحمد علیہ رحمۃ اللہ الصمد کو دیکھا، میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی طرف متوجہ ہوا توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اَچانک میرے سامنے تشریف لے آئے اورمجھے جھپٹ کر پکڑ لیا اور ہوا میں اُڑنے لگے او ر مجھے یہاں لاکر چھوڑدیا۔‘‘حضرت سیِّدُنااَحمد علیہ رحمۃ اللہ الصمد کے تیزی سے جھپٹنے کے سبب دو دن تک اس کا سر چکراتا رہا ۔ (الطبقات الکبرٰی للامام الشعرانی ، الرقم ۲۸۷، الجزء الاول ، ص۲۶۰)

 اَولیاء کی توہین شیطانی کام ہے :

            (حضرت مصنِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :)’’یہ تمام واقعات موت کے بعد کرامات کے ثبوت پر صراحۃًدلالت کرتے ہیں ، اور فی نفسہٖ یہ بات حق ہے اس میں وہی شک کرے گاجس کا اِیمان ناقص ہو، اُس کی بصیرت ختم ہو چکی ہو، فضلِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے دروازے سے دھتکار دیا گیا ہو، بندگانِ خداعَزَّوَجَلَّ سے تعصُّب رکھتا ہو، اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے اپنے ولیوں کی مخالفت کے گڑھے میں ڈال دیا ہو، اسے ذلیل وخوارکردیاہو، اوراس پر غضب فرمایاہو۔پس ایسے شخص پراللہ عَزَّوَجَلَّ  شیطان کو مسلَّط کر دیتا ہے ، وہ اس سے کھیلتا ہے اور اس کے دل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیاروں کا بُغض ڈالتا ہے ، اوراسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولیوں ، ان کی کرامات اور ان کے مزارات کی توہین پراُکساتا ہے ، حالانکہ جس نے علمِ کلام اور علمِ توحید پڑھا اس کے لئے یہ بات اَظْہَرمِنَ الشَّمْس(یعنی سورج سے بھی زیادہ ظاہر ) ہے کہ روحیں اپنے محل میں ہونے کے باوجود موت کے بعد بھی جسموں کے ساتھ ویسے ہی متصل رہتی ہیں جس طرح شعاعیں سورج میں ہونے کے باوجود زمین کے ساتھ متصل ہوتی ہیں ، تویقینا مؤمنین کی قبروں کااِحترام واجب ہے ۔‘‘

رُوحوں کا اپنے جسموں کی طرف لوٹنا :

            حضرت سیِّدُنااِمام جَلالُ الدِّین سُیُوطِی شَافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  اپنی کتاب ’’بشری الکئیب بلقاء الحبیب‘‘میں بیان فرماتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُنا امام ابوالسعَادَات عبد اللہ بن اَسعد یافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی  نے فرمایا:’’اَہلِ سنّت کا مذہب یہ ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتاہے تو مرنے والوں کی روحیں بعض اَوقات ’’عِلِّیِّیْن‘‘ یا ’’سِجِّیْن‘‘ ([1])سے قبروں میں ان کے جسموں کی طرف لوٹائی جاتی ہیں خصوصًا جمعۃ المبارک کی رات، اور وہ مل بیٹھ کر گفتگو بھی کرتی ہیں اور نیک روحوں کو اِنعام واِکرام سے نوازاجاتاہے جبکہ بدکار روحوں کو عذاب دیاجاتاہے ۔‘‘مزید فرماتے ہیں : ’’عِلِّیِّیْن‘‘یا ’’سِجِّیْن‘‘ میں اِنعام واِکرام یا عذاب دینے کا تعلق جسم کے ساتھ نہیں بلکہ روح کے ساتھ ہوتاہے جبکہ قبر میں اس کا تعلق جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوتاہے ۔‘‘(بشری الکئیب مع شرح الصدور، ذکر تزاورالموتی فی قبورہم، ص۷ ۵ ۳۔ روض الریاحین، الحکایۃ الثامنۃ والستون بعد المئۃ، ص۱۸۳)

            ’’موت کے بعد بھی روحیں قبروں میں اپنے جسموں کے ساتھ متَّصل رہتی ہیں ۔‘‘ اس بات پر وہ کلام دلالت کرتا ہے جو حضرت سیِّدُنا امام نَسَفِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  نے اپنی کتاب’’بَحْرُالْکَلَام‘‘کے باب’’عَذَابُ الْقَبْر‘‘میں نقل فرمایا۔ چنانچہ،  آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں اگر یہ کہا جائے کہ قبر میں گوشت کو کیسے تکلیف ہوتی ہے حالانکہ اس میں تو روح ہی نہیں ہوتی؟ تو ہم کہیں گے کہحضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیَّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے یہی بات پوچھی گئی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشادفرمایا: ’’تمہارے دانتوں میں کیسے تکلیف ہوتی ہے حالانکہ اس میں بھی روح نہیں ہوتی؟‘‘پتا چلاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب ِ لبیب، ہم گنہگاروں کے طبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے واضح طور پر بتا دیا کہ ’’جس طرح دانت میں روح نہ ہونے کے باوجود صرف گوشت کے ساتھ متَّصل ہونے کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے ، اسی طرح موت کے بعد جب روح گوشت کے ساتھ متَّصل ہوتی ہے تو اس میں بھی تکلیف ہوتی ہے ۔(بحرالکلام، قولہ فی عذاب القبر)

            اور یہ اس بات کی دلیل  ہے کہ موت کے بعد قبروں میں روحوں کا اپنے جسموں کے ساتھ تعلق ہوتاہے اگرچہ ان کے جسم بوسیدہ اور مِٹی ہو گئے ہوں ، اسی وجہ سے شریعت نے ان کی قبروں کے اِحترام کاحکم دیاجیساکہ پیچھے ہم نے ذکر کیا۔پھر مؤمنوں کے لئے ان کی قبروں کا اِحترام کرنا، تعظیم کرنا، زیارت کرنااور ان سے برکت حاصل کرناکیسے ناجائز ہوسکتاہے ؟ حالانکہ تمام مؤمنین جانتے ہیں کہ مِٹی ہونے کے باوجود کامل  روحوں کا تعلق طیِّب وطاہر جسموں کے ساتھ ہوتاہے جیسا کہ احادیث ِ نبویہعَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ثابت ہے ۔

ایک اَحمقانہ عقیدہ اور اس کا رَدْ :

            (حضرت مصنِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :) میرے نزدیک وہ شخص سراسر جاہل ہے جوبعض گمراہ فرقوں کی طرح یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ’’روحیں عارضی ہیں اور موت کے سبب وہ ایسے زائل ہوجاتی ہیں جیسے مردے سے حرکات وسکنات زائل ہو جاتی ہیں ۔‘‘اوروہ گمراہ فرقے یہ سمجھتے ہیں کہ جب اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  اِنتقال کر جاتے ہیں تووہ مِٹی ہوجاتے ہیں اور زمین کی مِٹی کے ساتھ مل کران کی روحیں بھی ختم ہو جاتی ہے لہٰذا ان کی قبروں کی کوئی تعظیم نہیں ، اسی وجہ سے یہ لوگ ان کی توہین و تحقیر کرتے ہیں اوران کی زیارت، ان سے برکت حاصل کرنے والوں پر اعتراض کرتے ہیں ۔

            (حضرت مصنِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :)’’ ایک دن میں حضرت سیِّدُنا شیخ اَرسلان دِمَشْقِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  کے مزارِ پر اَنوار کی زیارت کے لئے جارہا تھاتو میں نے خود اپنے کانوں سے ایک شخص کو یہ کہتے سنا : ’’تم ان مِٹی کے ڈھیروں پر کیوں جاتے ہو؟یہ تو سراسربے وقوفی ہے ۔‘‘ اس کی بات سن کر مجھے انتہائی تعجب ہوا ، میں نے دل میں کہا: ’’کوئی مسلمان ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔‘‘

وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔

تُوْبُوْا اِلٰی اللّٰہ  ۔  اَسْتَغْفِرُاللّٰہ

قبر جنت کاباغ یا جہنم کا گڑھا:

 



[1]    ’’عِلِّیِّیْن‘‘نیک روحوں کا ٹھکانہ ہے اور ’’سِجِّیْن‘‘ بدکار روحوں کاٹھکانہ ہے ۔ (علمیہ)



Total Pages: 40

Go To