Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

وضو ہو جاتا ہے ۔‘‘ ( فتح القدیر شرح الہدایہ ، باب الجنائز ، فصل فی الغسل ، ج۲، ص۱۰۸، مفہومًا)یہ اَقوال بھی مؤمن کے اِنتقال کے بعد اس کی کرامت(یعنی عزَّت وعظمت) کے ثبوت پر دلالت کرتے ہیں ۔

دلیل نمبر۶:

            جامع الفتاویٰ میں مزیدیہ بھی ہے :’’جب میِّت مشائخِ عظام، علماء وساداتِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ہوتو اس کے اُوپر عمارت(یعنی مقبرہ وغیرہ) بنانا مکروہ نہیں ۔‘‘ اسی میں ہے کہ’’ میِّت کو غسل دینے والا باطہارت ہو(یعنی اُس پر غسل فرض نہ ہو)اور جُنبی اورحیض والی کا غسل دینا مکروہ ہے ۔‘‘ (ردالمحتار، باب صلا ۃ الجنائز، مطلب فی حدیثالخ ، ج۳، ص۱۱۱۔الفتاوی الہندیہ ، کتاب الصلا ۃ ، الباب الحادی والعشرون ، الفصل الثانی ، ج۱ ، ص۱۵۹)یہ بھی مؤمن کے لئے بعد اَز وفات کرامت کا واضح ثبوت ہے ۔ بلکہ تمام کرامات مؤمن کے لئے اس کی موت کے بعدہی ہوتی ہیں ، دُنیاوی زندگی میں اس کے لئے حقیقتاًنہیں بلکہ مجازاً کرامت ہوتی ہے کیونکہ وہ دشمنانِ اِلٰہیعَزَّوَجَلَّ کے پڑوس میں ایسے گھر میں رہتا ہے جس میں ذاتِ باری تعالیٰ کوجھٹلایا جاتاہے ، اور اس میں کسی عقلمند کو شک نہیں ہو سکتا۔

بعدِ موت اِیمان قائم رہتا ہے

            عُمدۃُ الْاِعْتِقَادمیں حضرت سیِّدُناابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود نَسَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں : ’’ہر مؤمن اِنتقال کے بعد بھی حقیقتًا مؤمن ہی ہوتا ہے جیساکہ سونے کی حالت میں مؤمن تھا۔ اور اسی طرح رُسل واَنبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی وفات کے بعد بھی حقیقتًا رُسل و اَنبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی ہوتے ہیں اس لئے کہ رُوح نبوَّت اور اِیمان کے ساتھ متَّصف ہوتی ہے اوروہ موت کے سبب تبدیل نہیں ہوتی۔ ‘‘ (تفسیر روح البیان ، پ۱۷، الانبیاء ، تحت الایۃ ۳۵، ج۵ ، ص۴۷۸)

            (حضرت مصنِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :)ہم کہتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُنااِمَام نَسَفِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  کی مراد یہ ہے کہ مؤمن سے مراد مؤمنِ کامل یعنی ولی اور ایمان سے مراد اِیمانِ کامل یعنی ولایت ہے ، اور ولایت موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے ، کیونکہ یہ روح کی صفت ہے اور رُوح موت کے سبب تبدیل نہیں ہوتی۔ یا مؤمن سے مراد مطلق مؤمن اور اِیمان سے مراد مطلق اِیمان ہے ، تواس صورت میں مؤمن کامل اور اِیمان کامل کا حکم بطریقِ اَوْلیٰ وہی سمجھا جائے گا جو ہم نے بیان کیا۔ خصوصاً جبکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اہلِ جنت کے بارے میں ارشادفرماتا ہے :

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰىۚ- (پ۲۵، الدخان: ۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان:اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکھیں گے ۔

            اب ہم اہل اللہ کے طریقہ پر چلتے ہوئے اس آیت ِ مبارکہ کے اِشارہ(یعنی اشارۃ النص) پرکلام کرتے ہیں ، اور اس کی عبارت (یعنی عبارۃ النص) کا اِنکار بھی نہیں کرتے ۔‘‘ ([1]) پس ہم کہتے ہیں :

نفسانی موت اور بدنی موت :

            عارِفین کی موت دو طرح کی ہے ، ایک نفسانی موت اور دوسری بدنی موت اور عرفاء کے نزدیک نفسانی موت معتبرہے نہ کہ بدنی۔کیونکہ بد ن نفس کی رہائش گاہ ہے اوراعتبار ساکن یعنی گھر میں رہنے والے کا ہوتاہے نہ کہ گھر کا اور راز رہنے

والوں میں ہوتا ہے نہ کہ رہائش گاہ میں ۔پس جب عارفین ظاہری اور باطنی طورپر اپنے نفس کے ساتھ شرعی مجاہدہ کرتے ہیں اور استقامت کی راہ پر چلتے رہتے ہیں تو ان کے نفوس(اِختیاری موت) مرجاتے ہیں ، اور موت کا ذائقہ چکھ لینے کی بنا پر حق تعالیٰ کو پا لیتے ہیں ۔اُن کی روحیں دُنیا میں نفوس کے واسطہ کے بغیر جسموں کی تدبیر میں مصروف رہتی ہیں ۔پس وہ عارفین صورتِ بَشرِی میں فرشتے ہوتے ہیں ، کیونکہ فرشتے بھی محض اَروَاح ہیں ، اور عارفین بھی نفوس کی موت کے بعد صرف روحیں ہی رہ جاتے ہیں ، جیساکہ حضرت سیِّدُنا جبرئیل امین عَلَیْہِ َالسَّلَامحضرت سیِّدُنا دِحْیَہ کَلْبِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی صورت میں  سرکارِ والاتَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضری دیا کرتے تھے ۔

            جب عارِفین کی روحوں کا تعلق ان کے جسموں کے نظام سے منقطع ہو جاتا ہے  اس وقت وہ حضرت سیِّدُنا جبرئیل امین عَلَیْہِ السَّلَامکی طرح ہوتے ہیں جب وہ صورتِ بَشَرِی سے جدا ہوکرعالمِ اَرواح کی طرف لوٹ جاتے ہیں ، ان عارفین کے حق میں اسے موتِ حقیقی نہیں بلکہ ایک عالم سے دوسرے عالم اور ایک ہیئت سے دوسری ہیئت میں منتقل ہوناکہتے ہیں ، اسی لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے حق میں اِرشاد فرمایا:

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰىۚ- (پ۲۵، الدخان: ۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان:اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکھیں گے ۔

            یہ آیتِ مبارکہ کا ایک اشارہ ہے جس کے معانی ومفاہیم کی کوئی حد نہیں اور اس کی حکمتیں ، اسرار اور اشارات کبھی ختم نہ ہوں گے ۔

            جب حقیقت ِ حال یہی ہے تو پھر کوئی عقل مند یہ گمان کیسے کر سکتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے اس ولی سے اِنعام واِکرام کومنقطع فرمادے گا جس کی ولایت اس کی طبعی موت کے سبب کامل ہوگئی اور وہ عالَمِ مجرَّدات یعنی عالَمِ اَرْوَاح کے ساتھ ملحق ہوکرفرشتوں کی معیت میں پہنچ گیا۔جیساکہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنے وصالِ ظاہری کے وقت فرمارہے تھے :’’اَللَّہُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلٰیترجمہ: اے اللہ  عَزَّوَجَلَّ! مجھے رفیقِ اعلیٰ سے ملادے ۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الدعوات ، باب دعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم :اللّہم الرفیق الأعلی، الحدیث ۶۳۴۸، ص۵۳۴)

 



[1]   ’’کسی آیت ِ مبارکہ کی عبارت سے جو حکم سمجھ آرہا ہواسے عِبَارَۃُ النَّصْ اور جوحکم اشارتاً سمجھ آرہا ہو ا سے اِشَارَۃُ النَّصْ کہتے ہیں ۔‘‘مثلاً اللہ عَزَّوَجَلَّنے قرآنِ مجید میں اِرشاد فرمایا: ’’ لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ (پ۲۸، الحشر:۸)ترجمۂ کنزالایمان: (مالِ غنیمت) ان فقیرہجرت کرنے والوں کے لئے جو اپنے گھروں اورمالوں سے نکالے گئے ۔‘‘اس آیت ِ مبارکہ میں ’’مہاجر فقراء کے لئے مالِ غنیمت کے مستحق ہونے کا حکم ‘‘عِبَارَۃُ النَّصْ ہے کیونکہ آیتِ مبارکہ کی عبارت سے یہی سمجھ آ رہا ہے ۔ اور ’’ مسلمان کے مال پر قبضہ کرنے کے بعد کافرکی ملکیت کے ثبوت کا حکم‘‘ اِشَارَۃُ النَّصْہے کیونکہ آیت ِ مبارکہ سے اشارۃً یہ حکم سمجھ آرہاہے ۔       (ماخوذ اَ زتلخیصِ اُصول الشاشی، ص۴۶، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)



Total Pages: 40

Go To