Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

(۲)…اِمَام خَبَّازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی  ’’مُخْتَصَرمُحِیْطِ سَرَخْسِی‘‘میں فرماتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُنااِمامِ اَعظم ابوحَنِیْفَہ نُعْمَان بن ثابِت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے قبر کو پامال کرنے ، اس پر بیٹھنے ، سونے ، پیشاب اور قضائے حاجت کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ۔‘‘(بدائع الصنائع ، کتاب الصلاۃ ، فصل فی سنن الدفن ، ج۲ ، ص۶۵) کیونکہ اِس میں صاحبِ قبر کی توہین ہے ۔

(۳)…حضرت سیِّدُناعمر بن علی بن فارِس کِنَانی حَنَفِیعلیہ رحمۃ اللہ الغنی  المعروف قَارِیُٔ الْہِدَایَہ کی تصنیف ’’جامع الفتاوی‘‘ میں ہے کہ’’ بعض جید علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے قبروں کوپامال کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اِس فعل کو مکروہ قرار دیا۔‘‘ پوچھا گیا: ’’کیامکروہ سے مراد خلافِ اَوْلیٰ ہے ؟‘‘ فرمایا: نہیں ، بلکہ قبر پر چلنے والا شخص گنہگارہے ، کیونکہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیَّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشاد فرمایا: ’’بے شک مجھے اپنا پاؤں آگ کے اَنگارہ پر رکھنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھو۔‘‘

                (سنن ابن ماجہ ، ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی النھی عنالخ، الحدیث۱۵۶۷، ص۲۵۷۰، ماخوذاً)

(۴)…فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے پوچھا گیا: ’’صندوق اوراس کے اُوپرکی مِٹی چھت کی مانندہے (یعنی جب چھت پر چلنا جائز ہے تو قبر پر کیوں ناجائز ہے )؟‘‘ارشاد فرمایا: ’’اگرچہ میّت کا صندوق اور اس کی مِٹی چھت کی مانند ہوتی ہے لیکن میت کا حق تواب بھی باقی ہے ۔ ‘‘(الفتاوی الہندیہ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب السادس عشر فی زیارہ القبور، ج۵، ص۳۵۱، مفہومًا)لہٰذا اس کوپامال کرنا جائز نہیں ۔

(۵)…اِمَام خُجَنْدِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی سے سوال کیا گیا اگر کسی شخص کے والدین کی قبریں دیگر مسلمانوں کی قبروں کے درمیان ہوں توکیااس شخص کے لئے جائز ہے کہ وہ دُعاوتسبیح اور قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہوئے ان کے درمیان سے گزرے اوراپنے والدین کی قبروں کی زیارت کرے ؟ توارشادفرمایا:’’اگر مسلمانوں کی قبروں پر چلے بغیر ممکن ہوتو اِجازت ہے ورنہ نہیں ۔‘‘       (المرجع السابق)

(۶)…فتح القدیر میں ہے کہ’’قبرپربیٹھنا اوراسے پامال کرنامکروہ ہے ۔اسی وجہ سے وہ لوگ جنہوں نے اپنے رشتہ داروں کی قبریں بنائیں بعد میں ان کے قریب دیگر مسلمانوں کی قبریں بھی بن گئیں توان کا دیگر قبروں پر چلتے ہوئے اپنے قریبی رشتہ دار کی قبر پر جانامکروہ ہے ، اور قبر کے پاس سوناوقضائے حاجت کرنا بھی مکروہ ہے ، بلکہ قضائے حاجت بدرجۂ اولیٰ مکروہ ہے ۔اور ہر وہ کام جو سنت سے ثابت نہ ہو مکروہ ہے اور سنت سے صرف کھڑے ہو کر زیارت کرنا اوردُعاکرناثابت ہے ۔ جیساکہ حضورنبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   جنت ا لبقیع کی طرف تشریف لے جاتے تو فرماتے : ’’السَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ وَإِنَّا إِنْ شَاء اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُونَ اَسْأَلُ اللّٰہَ لِیْ وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ یعنی تم پر سلامتی ہواے مؤمنین کے گروہ! اور بے شک ہم بھی اِنْ شَاءَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ !جلد تم سے ملنے والے ہیں ، اور میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے اور تمہارے لئے عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘(فتح القد یرشرح الھدایہ ، کتاب الصلاۃ ، فصل فی الدفن ، ج۲، ص۱۰۲)

قبروں پر چلنا، بیٹھنا وغیرہ کیوں مکروہ ہے ؟

            فقہ کی کتابوں سے یہی ثابت ہے کہ ’’قبروں پر چلنا اور ان پر بیٹھنا مرنے کے بعد مسلمانوں کی کرامت(یعنی عزَّت) کی وجہ سے ہی مکروہ ہے ، اور یہ کرامت شرع سے ثابت ہے ، اور کرامت مخلوق میں جاری خلافِ عادت کام کو کہتے ہیں کیونکہ عادت اس طرح جاری ہے کہ انسان کے لئے زمین پر چلنا، بیٹھنا اور مُردہ جانوروں کے اَعضاء کو پاؤں سے رَوندنا جائز ہے مگر یہ تمام اُمور اَہلِ اِیمان مُردوں کے ساتھ قطعاً جائز نہیں ۔ ان (اہلِ ایمان) کے حق میں عادت مختلف ہو گئی لہٰذا ن کے حق میں مذکورہ تمام اَفعال مکروۂ تحریمی ہیں ۔ کیونکہ مطلقاً مکروہ بولا جائے تو اس سے مراد مکروۂ تحریمی ہوتا ہے اوریہ حکمِ کراہت اہلِ اِیمان کی موت کے بعدان کی تعظیم کے لئے دیا گیا ہے ، یہ تمام اَحکام تو عام مؤمنین کی قبروں کے لئے ہیں تو جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَولیاء ہوں اور اس کی بارگاہ میں مقرَّب ہوں ان کی قبروں کے کیا اَحکام ہوں گے ۔ہمارے اس بیان سے واضح ہو گیا کہ شرعاً موت کے بعد کرامت (یعنی عزَّت وتکریم) ثابت ہے ۔

دلیل نمبر۲:

            موت کے بعد ثبوتِ کرامات پر یہ بات واضح دلیل ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  زیارتِ قبور کے لئے جنت البقیع تشریف لے جاتے اوران کے پاس کھڑے ہو کر ان کے لئے دُعا فرماتے ۔(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند دخول القبور والدعاء لاھلہا ، الحدیث۲۲۵۵، ص۸۳۰)کیونکہ اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس بات کو پیشِ نظر نہ رکھتے کہ مؤمنین کے دفن ہونے کے سبب ان کی قبروں کے پاس خصوصیت ِ مقام کی وجہ سے دُعا قبول ہوتی ہے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس جگہ یہ دُعا نہ فرماتے : ’’اَسْأَلُ اللّٰہَ لِیْ وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَیعنی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے اور تمہارے لئے عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘  (المرجع السابق ، الحدیث۲۲۵۷، ص۸۳۱)

اور مؤمنین کی قبور کہ جن پر رحمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا نزول ہوتا ہے ، کی برکت سے دُعا کا قبول ہونا مؤمنین کے اِنتقال کے بعد ان کی کرامات میں سے ہے اور یہ تو عام اہل ایمان کی قبروں کا حال ہے تو پھر خاص اہلِ توحید، کامل یقین والے اور اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے مقرَّبین کی قبور کا عالم کیا ہوگا۔اور اس میں بھی اِنتقال کے بعد کرامت کا ثبوت ہے ۔

دلیل نمبر۳:

             شریعت کا حکم ہے کہ مسلمان میِّت کواس کے اِحترام کی وجہ سے غسل دینا، کفن پہنانااور دفن کرنا واجب ہے اور یہ ایسی کرامت(یعنی عزَّت وتکریم)ہے جو شریعت نے اِنتقال کے بعدمؤمنین کے لئے رکھی ہے اوریہ خلاف عادت بات ہے کیونکہ بنی آدم میں سے تمام کافروں اور تمام جانوروں کے حق میں ان کے مرنے کے بعد یہ عادت جاری ہے کہ ان کو غسل نہیں دیا جاتا۔

دلیل نمبر۴ :

            صاحب ِ نہایہ نے شرح ہدایہ میں فرمایا: ’’میِّت موت کے سبب نجس ہو جاتی ہے اور نجاست کو زائل کرنے کے لئے اس کو غسل دینا واجب ہے ۔اور یہ بات بھی آدمی کے لئے موت کے سبب کرامت(یعنی اِعزازواِکرام) کو ثابت کرتی ہے جبکہ باقی تمام حیوانات میں ایسا نہیں ۔‘‘

دلیل نمبر۵ :

            جامع الفتاویٰ میں ہے : ’’میِّت کو اس لئے غسل دیا جاتاہے کہ وہ خون والے جانوروں کی طرح موت کے سبب نجس ہو جاتی ہے البتہ!مؤمن بعدِ غسل  کرامت (یعنی عزَّت) کی وجہ سے پاک ہوجاتا ہے ۔‘‘ بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’چونکہ وہ مؤمن ہے اس لئے ناپاک نہیں ہوتاالبتہ! اسے غسل اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ (جوڑوں کے ڈھیلے پڑ جانے وغیرہ اَسباب کی وجہ سے ) بے



Total Pages: 40

Go To