Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

ہروقت مشاہدہ کرتاہے ، اوریقین رکھتاہے ، مگربعض اَوقات   اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پرغَفْلَت طاری فرمادیتاہے تو اُس وقت وہ اپنی سابِقَہ حالت کے مطابق ولی ہی ہوتاہے ، جیسے سویا ہوامؤمن کہ اُس وقت اُس پرغَفْلَت طاری ہوتی ہے مگر وہ اپنی سابقہ حالت(یعنی بیداری) کے مطابق مؤمن ہی ہوتاہے ۔ اوریہ (یعنی بعض اَوقات غَفْلَت طاری ہوجانا)اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کے اَحوال ومشاہدات کا اَدنیٰ دَرَجہ ہے ۔‘‘

اِختیارِی مَوت کسے کہتے ہیں ؟

             بعض اَوقات عُلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اپنی اِصطلاح میں اسے اِختیاری موت کا نام دیتے ہیں ، اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِس فرمان عالیشان کو دلیل بناتے ہیں :

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘(۳۰)(پ۲۳، الزمر:۳۰)

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے ۔

            ’’ مَیْت‘‘(یَاءکے سکون کے ساتھ)اور’’ مَیِّت ‘‘(یَاءکی تشدیدکے ساتھ )کے درمیان فرق نہ کرنے کی صورت میں اِشارۂ آیت کے معنی یہ ہیں ، جیساکہ امام جَوْہَرِی نے ’’اَلصِّحَاح‘‘ میں ذِکر کیا کہ ’’اے محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !آپ نے اِنتقال فرمانا ہے اور انہوں نے بھی مرناہے ، اگرچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ذاتِ بابرکات سے اور ان سے بھی ظاہری وباطنی طورپر سوچنے سمجھنے اور مختلف کام سر انجام دینے کا معاملہ یکساں ظہور پذیر ہوتاہے ۔ کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی حیاتِ مبارکہ مخلوق(یعنی پیدا کی گئی) ہے جیسے ان کی حیات مخلوق ہے ، اور یہ حیات ایک ایسا عَرَض ہے (یعنی جو دوسری چیز کی وجہ سے قائم ہے ) کہ جس کے موجود ہوتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بھی ذات میں باطنی طورپر اِدراک، اور ظاہری طور پراَفعال واَقوال کوپیدافرماتاہے نہ کہ اِدراک واَفعال واَقوال کے سبب اِس حیات کو پیدا فرماتاہے ۔کیونکہ یہ حیات اُن کے پیدا ہونے کا سبب ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اوراِن تمام لوگوں میں دَرحقیقت یہ موت ہے ، اوریہی اِختیاری مَوت ہے جو مقامِ ولایت میں شرط ہے ، اور جب تک ولی اس کے ساتھ متَّصف نہیں ہوتا وہ ولی نہیں بن سکتا۔ اور اسی کی طرف سرکار عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے فرمانِ عالیشان میں اِشارہ ملتا ہے :  ’’مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْعَرَفَ رَبَّہٗ یعنی جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا بلاشبہ اس نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ   کو پہچان لیا ۔‘‘(کشف الخفاء ، الحدیث ، ۲۵۳۰ ، ج۲ ، ص۲۳۴)

                  ’’مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ‘‘سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص نے غلبۂ قدرتِ اِلٰہی عَزَّوَجَلَّ کے سبب عدم سے وجود میں آنے والی اپنی ظاہری وباطنی قوَّتوں کوپہچان لیااس نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّکو پہچان لیا۔

            اور لفظ ِ ربّ کا معنی ہے مالِک، تومعنی یہ ہوئے کہ اس نے اپنے ظاہری وباطنی معاملہ کے مالِک اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پہچان لیا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی اِن قوَّتوں کو پیدا کرتااور جس طرف چاہتا ہے پھیر دیتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کی جان اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قبضۂ قدرت میں ہے اوروہ جس طرح چاہتا ہے اس میں تصرُّف فرماتاہے ، جیسا کہ رسولِ پاک، صاحب ِلولاک، سیَّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قسم کے لئے یہ اَلفاظ اَدا فرماتے تھے : ’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ یعنی قسم ہے اُس ذات کی جس کے تصرُّف میں میری تمام ظاہری و باطنی قوتیں ہیں !اورمیرااس میں ذاتی طورپریقیناکوئی دخل نہیں ۔‘‘او راسی سے نوافل کے ذریعہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرنے کے متعلق مروی  اِس حدیث ِ پاک کا مفہوم سمجھاجا سکتا ہے کہ ’’میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتاہے اور اُس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے …الٰی اٰخرہ۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الرقاق ، باب التواضع ، الحدیث۶۵۰۲، ص۵۴۵)

            پس اسی لئے نوافل کے ذریعہ قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ حاصل کرنے والے کے لئے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ اس کی تمام قوتوں میں تصرُّف کرنے والا کوئی فاعلِ حقیقی (یعنی رب عَزَّوَجَلَّ) ہے ۔اور یہ تمام قوَّتیں اس کے پاس عارضی اور زائل ہونے والی ہیں جیسا کہ حقیقت بھی یہی ہے ، جب یہ قوَّتیں قُربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ حاصل کرنے والے کی نظر سے زائل ہوجاتی ہیں تو ان کی جگہ انوارِالٰہی ظہورپذیر ہوتے ہیں ، اوریہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ اس کے لئے اِختیاری موت کو تسلیم کیا جائے ۔

موت کرامات کے منافی نہیں :

            جب حقیقت یہ ہے توعارفین کے نزدیک ولایت موتِ اِختیاری کے اِدْرَاک اور اس کے ساتھ متحقِّق ہونے سے مشروط ہوئی، اور اس وقت ان حضرات کے نزدیک کراماتِ اولیاء کے لئے موت شرط ہو گی نہ کہ زندگی۔توکوئی عاقل یہ گمان کیسے کر سکتا ہے کہ موت کرامات کے منافی ہے ؟حالانکہ موت توکرامات کے لئے شرط ہے ۔پھر جب تک کوئی اِنسان اپنی ذات میں ا س موت کا یقین نہ کرلے وہ  عارف ہوسکتاہے نہ ولی، بلکہ وہ صرف عام مؤمن ہے جو غافل ہے اور اس پرپَردے پڑے ہیں ۔

ولی اور غیر ولی میں فرق :

            یہ سب کچھ اس لئے ہے کیونکہ ولی اپنے تمام ظاہری وباطنی معاملات اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے سپُرد کردیتا ہے جیسا کہ پیچھے ہم نے ذکر کیا ہے ، جبکہ غیرولی پر اس کا نفس حاوِی ہوتا ہے کیونکہ وہ تمام معاملات کے حقیقی مالک سے غفلت اور پردے میں ہوتا ہے اور وہ حقیقی مالِک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے کہ وہی ہرمؤمن وکافر، غافل وہوش مند کے تمام معاملات کا مالِک ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠(۹) (پ۲۳، الزمر)

ترجمۂ کنز الایمان : تم فرماؤ! کیا برابر ہیں جاننے والے اورانجان، نصیحت تو وہی مانتے  ہیں جوعقل والے ہیں ۔

            مطلب یہ کہ عقل والے ہی اس بات کو جانتے ہیں کہ مؤمن وکافر دونوں کے درمیان اس اعتبارسے کوئی فرق نہیں کہ ہر ایک کے تمام معاملات کا حقیقی مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے ۔

بعدِ وصال ثبوتِ کرامات پردلا ئل

دلیل نمبر۱:

            فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے کئی اَقوال موت کے بعد کرامات کے ثبوت پر دلالت کرتے ہیں ۔مثلاً:

(۱)… فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں ’’ قبروں کو پامال کرنا(چلنا، روندناوغیرہ) مکروہ ہے ۔‘‘

 



Total Pages: 40

Go To