Book Name:Faizan e Mazarat e Auliya

ولیوں پراعتراض کرنے والے بدعتی وجاہل ہیں :

            حضرت سیِّدُناعلامہ دلجی علیہ رحمۃ اللہ الولی ’’شَرْحُ مَقَاصَدِ الْمَقَاصِد‘‘میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’کرامات کاانکاربدعتی لوگ ہی کرتے ہیں اوران کا انکار کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ عبادت وریاضت بجالانے اورگناہوں سے اجتناب کی کوشش کے باوجودنہ انہیں کوئی کرامت حاصل ہوئی اور نہ ہی ان کے بڑوں کو یہ دولت ملی تو یہ بدعتی لوگ اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰپر اعتراضات کرنے کی آفت میں مبتلا ہوگئے ۔ ان کے گوشت نوچنا اور کھال کھینچنی شروع کردی۔یہ لوگ اس بات سے جاہل ہیں کہ ولایت کے معاملہ کا مدار عقیدہ کی درستی ، باطن کی صفائی، طریقت کی پیروی اور حقیقت کے انتخاب پرہے ۔‘‘ (جامع کرامات الاولیاء، مقدمۃ الکتاب، المطلب الاول ، ج۱، ص۲۹)

 توفیق خداوندی سے محروم لوگ :

            حضرت سیِّدُناعلامہ عفیف الدین عبداللہ بن اسعدبن علی یافعی یمنی ثم مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (متوفی ۷۶۸ھ)فرماتے ہیں :’’ کرامات اولیاء کے منکرپرانتہائی تعجب ہے  حالانکہ کرامات کے متعلق آیاتِ طیبہ ، احادیثِ صحیحہ، آثارِ مشہورہ اور سلف وخلف کے مشاہدات وحکایات میں بہت سارے دلائل موجودہیں ۔ان بہت سے منکرین کی حالت یہ ہے کہ اگر اولیاء کرام اورصالحین عظام کو ہوا میں اڑتا دیکھ لیں تو چلا اٹھیں کہ’’ یہ جادو ہے ۔‘‘ یایہ بکواس کریں کہ ’’یہ اولیاء نہیں شیاطین ہیں ۔‘‘(نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکْ)بلاشبہ یہ وہ لوگ ہیں جوتوفیقِ خداوندی سے محروم ہیں ۔اورہرلحاظ سے حق کوجھٹلانے والے ہیں ۔‘‘ (روض الریاحین فی حکایات الصالحین، الفصل الثانی، ص۴۳)

منکرکاعلاج:

            حضرت سیِّدُناشیخ اکبرمحی الدین ابن عربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  (متوفی۶۳۸ھ)اپنی کتاب ’’مَوَاقِعُ النُّجُوْم وَمَطَالِعُ اَہْلِ الْاَسْرَار وَالْعُلُوْم‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’ اگرمنکرِکرامات، صاحبِ کرامت یعنی ولی کے بجائے اس کے ہاتھ پرکرامت کو ظاہرفرمانے والے قادرمطلق رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوتو وہ کرامت کے ظہورکو بعیدسمجھے گانہ ہی انکارکرے گا۔‘‘

(جامع کرامات الاولیاء، مقدمۃ الکتاب ، المطلب الاول ج۱، ص۳۳)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

             آپ نے اس مقدمہ ’’فیضان کمالات اولیاء‘‘میں اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولیوں ، ان کی عزت وعظمت ، کرامات اور ان کی ذوات سے متعلقہ اہم باتوں کا مطالعہ فرمایا۔جس سے یقینا آپ پریہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اولیاء کو نہایت ہی اعلی وارفع مقام عطافرمایا ہے ۔اور ان نفوس قدسیہ پر اللہ عَزَّوَجَلَّکا بے حد فضل وکرم ہے ۔لہٰذاہمیں چاہیے کہ ان پاکیزہ ہستیوں کی محبت دل میں راسخ کرلیں اوران پر اعتراض کرنے والے ناعاقبت اندیشوں سے اپناایمان وعقیدہ محفوظ رکھیں ۔اورکسی ایسے ماحول سے وابستہ ہوجائیں جس میں اولیاء اللہ کی محبت نہ صرف بتائی جاتی ہو بلکہ پلائی جاتی ہو اوراس پرفتن اورپر آشوب دورمیں وہ ماحول قرآن وسنت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی ‘‘ کامدنی ماحول ہے ۔آپ سے بھی مدنی التجاء ہے کہ دعوت اسلامی کے پیارے اور مدنی ماحول میں رہتے ہوئے ان اولیاء عظام کے نقش قدم پر چل کراپنی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں ۔ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں مدنی انقلاب برپاہوتاپائیں گے ۔

            آئیے ! اب اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے بعد وصال کرامات، ان کے مزارات پرگنبدبنانے ، چادر چڑھانے ، ان سے مدد طلب کرنے اور بعد وصال ان کا خلق خداکی مشکلات کو حل کرنے ایسے انتہائی اہم امورپر مشتمل، عارف باللہ ، صاحب کرامات کثیرہ حضرت علامہ سیدی عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  کے مبارک رسالہ  ’’کَشْفُ النُّوْر عَنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْر‘‘کا ترجمہ بنام ’’فیضان مزارات اولیاء‘‘کا اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ مطالعہ کیجئے ۔ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس مبارک رسالے کابغورمطالعہ کرنے سے بے شمار وسوسوں کی جڑکٹ جائے گی اور اللہ  عَزَّوَجَلَّکے پیاروں کی محبت سے دل لبریز ہوجائیں گے ۔اوران کی محبت ایسی  پختہ ہوجائے گی کہ ان کے بغض کو کبھی بھی دل میں جگہ نہ ملے گی۔

دُعائیہ کلمات:

            اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ!اپنے پیارے اولیاء کے صدقے اس رسالہ پرترجمہ وتحقیق کاکام کرنے والے مدنی علماءکَثَّرَھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی، اس کا مطالعہ کرنے والے اوراس کولنگررسائل میں تقسیم کرنے والے ہراسلامی بھائی اور اسلامی بہن کودین ودنیاکی بے شماربھلائیاں اوربرکتیں عطافرما اوراولیاء عظام کی محبت کو عام کرنے کی توفیق عطافرما۔

(آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ واَصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ)

عَالِم و فَاضِل مُرِیْد کو نَصِیْحَت

            دعوتِ اِسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 275 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ آدابِ مرشد ِکامل ‘‘کے صَفْحَہ 27پر سیِّدُنااعلیٰ حضرت شاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کایہ فرمان منقول ہے کہ’’کیاوجہ ہے کہ مریدعالم فاضل اورصاحبِ شریعت وطریقت ہونے کے باوجود(اپنے مرشدِکامل کے فیض سے )دامن نہیں بھرپاتا؟غالباًاس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس سے فارغ اَکثرعلمائے دِین اپنے آپ کوپیرومرشِدسے افضل سمجھتے ہیں یاعمل کاغروریاکچھ ہونے کی سمجھ کہیں کانہیں رہنے دیتی۔وگرنہ حضرت شیخ سعدی علیہ رحمۃ الھادی کامشورہ سنیں :فرماتے ہیں :’’بھرلینے والے کوچاہئے کہ جب کسی چیزکے حاصل کرنے کاارادہ کرے تواگرچہ کمالات سے بھراہواہومگرکمالات کودروازے پرہی چھوڑ دے (یعنی عاجزی اختیارکرے )اوریہ جانے کہ میں کچھ جانتاہی نہیں ۔خالی ہوکرآئے گاتو کچھ پائے گا۔ اورجواپنے آپ کوبھراہواسمجھے گایادرہے کہ بھرے برتن میں کوئی اورچیزنہیں ڈالی جاسکتی ۔ ‘‘  (انواررضا، امام احمد رضااورتعلیمات تصوف ، ص۲۴۲)


 

 



Total Pages: 40

Go To