We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Ghusl ka Tariqa

نہ ہو،اِنزال ہویانہ ہو، دونوں پرغسل فرض ہے {۴}حَیض سے فارِغ ہونا {۵} نِفاس (یعنی بچّہ جَننے پرجو خون آتاہے اس)سے فارِغ ہونا۔ (بہارِ شریعت ج۱ ص ۳۲۱تا ۳۲۴)

نِفاس کی ضَروری وَضاحت

اکثرعورَتوں میں یہ مشہورہے کہ بچّہ جننے کے بعدعورت چالیس دن تک لازِمی طورپرناپاک رَہتی ہے یہ بات باِلکُل غَلَط ہے۔نِفاس کی تفصیل ملا حَظہ ہو۔بچّہ پیدا ہونے کے بعدجوخون آتاہے اُس کونِفاس کہتے ہیں اسکی زیا د ہ سے زیادہ مدّت چالیس دن ہے یعنی اگرچالیس دن کے بعدبھی بندنہ ہوتومَرَض ہے۔ لہٰذا چالیس دن پورے ہوتے ہی غُسل کرلے اورچالیس دن سے پہلے بندہوجائے خواہ بچّہ کی ولادت کے بعد ایک مِنَٹ ہی میں بندہوجائے توجس وَقت بھی بندہو غسل کرلے اور نَمازوروزہ شُروع ہوگئے۔ اگر چالیس دن کے اندر اندر دوبارہ خون آگیا تو شُروعِ ولادت سے خَتمِ خون تک سب دن نِفاس ہی کے شمار ہوں گے ۔مَثَلاً ولادت کے بعد دو مِنَٹ تک خون آکر بند ہوگیا اور عورت غسل کرکے نَماز روزہ وغیرہ کرتی رہی ،چالیس دن پورے ہونے میں فَقَط دو مِنَٹ باقی تھے کہ پھر خون آگیا تو سارا چِلّہ یعنی مکمّل چالیس دن نِفاس کے ٹھہریں گے ۔ جو بھی نَمازیں پڑھیں یا روزے رکھّے سب بَیکار گئے ،یہاں تک کہ اگر اس دَوران فرض و واجِب نَمازیں یا روزے قَضاکئے تھے تو وہ بھی پھر سے ادا کرے۔

(ماخوذ اَزفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۴ص۳۵۴،۳۵۶)

 

 

 

 

 



Total Pages: 26

Go To