Book Name:Hussaini Dulha

اس طرح رہنے لگا کہ دن کو روزہ رکھتا رات بھر نوافل میں مشغول رہتا۔   یہاں تک کہ مقررہ مدت ختم ہونے لگی تو بادشاہ نے اس لڑکی کے باپ سے نوجوان کا حال دریافت کیا۔  اس نے آ کر اپنی بیٹی سے پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ میں اسے پھسلانے میں ناکام رہی یہ میری طرف مائل نہیں ہو رہا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دونوں بھائی اس شہر میں مارے گئے اور انکی یاد اسے ستاتی ہے لہٰذا بادشاہ سے مہلت میں اضافہ کروا لو اورہم دونوں کو کسی اور شہر میں پہنچا دو۔   درباری نے سارا ماجرا بادشاہ کو کہہ سنایا۔  بادشاہ نے مہلت میں اضافہ کر دیا اور ان دونوں کو دوسرے شہر پہنچانے کا حکم دے دیا۔  وہ نوجوان یہاں بھی اپنے معمول پر قائم رہا یعنی دن میں روزہ رکھتا اور رات بھر عبادت میں مصروف رہتا،  یہا ں تک کہ جب مہلت ختم ہونے میں تین دن رہ گئے تو وہ لڑکی بے تابانہ اس نوجوان سے عرض گزار ہوئی: میں تمہارے دین میں داخِل ہونا چاہتی ہوں اور یوں وہ مسلمان ہو گئی۔   پھر انہوں نے یہاں سے فرار ہونے کی ترکیب بنائی وہ لڑکی اصطبل سے دو گھوڑے لائی اور اس پر سوار ہو کر یہ اسلامی سلطنت کی طرف روانہ ہو گئے۔  ایک رات انہوں نے اپنے پیچھے گھو ڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنی ۔  لڑکی سمجھی کہ رومی سپاہی ان کا پیچھا کرتے ہوئے قریب آ پہنچے ہیں۔ اس لڑکی نے نوجوان سے کہا:  آپ اس ربّ  عَزَّوَجَلَّ سے جس پر میں ایمان لاچکی ہوں دُعا کیجئے کہ وہ ہمیں ہمارے دشمنوں سے نجات عطا فرمائے،  نوجوان نے پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ اس کے وہ دونوں بھائی جو شہید ہو چکے تھے ،  فرشتوں کے ایک گروہ کے ساتھ ان گھوڑوں پر سوار ہیں۔   اس نے ان کو سلام کیا پھر ان سے ان کے احوال دریافت کئے وہ دونوں کہنے لگے:  ہم ایک ہی غوطے میں جنت الفردوس میں پہنچ گئے تھے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں تمہارے پاس بھیجا ہے۔  اس کے بعد وہ لوٹ گئے اور وہ نوجوان اس لڑکی کے ساتھ ملک شام پہنچا اور اس کے ساتھ شادی کر کے وہیں رہنے لگا۔  ان تین بہادرشامی بھائیوں کا قصہ ملک شام میں بہت مشہور ہوا اور ان کی شان میں قصیدے کہے گئے جن کا ایک شعر یہ ہے :    ؎ 

سَیُعطِی الصَّادِقینَ بِفَضلِ صِدقٍ

نَجَاۃً  فی الحَیَاۃِ  وَ  فِی المَمَاتِ

ترجمہ:  عنقریباللہ عَزَّوَجَلَّ سچوں کو سچ کی برکت سے زندگی اور موت میں نجات عطا فرمائے گا۔  ( عُیُونُ الْحکایات ص ۱۹۷، ۱۹۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت)  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے ان تینوں شامی بھائیوں نے ایمان پر استقامت کا کیسازبردست مظاہرہ کیا،  ان کے دلوں میں ایمان کس قدرراسخ ہو چکا تھا،   یہ عشق کے صرف بلندبانگ دعوے کرنے والے نہیں حقیقی معنیٰ میں مخلص عاشقانِ رسول تھے۔   دونوں بھائی جامِ شہادت نوش کر کے جنت الفردوس کی سرمدی نعمتوں کے حقدار بن گئے اور تیسرے نے روم کی حسینہ کی طرف دیکھا تک نہیں اور دن رات رب عَزَّوَجَلَّکی عبادت میں مصروف رہا اور یوں جو بہ نیت شکار آئی تھی خود اسیر بن کررہ گئی ۔  اس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشکلات میں سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے مدد چاہنا اور یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !  پکارنااہلِ حق کاقدیم طریقہ رہا ہے۔

یا رسول اللہ کے نعرے سے ہم کو پیار ہے

جس نے یہ نعرہ لگایا اُس کا بیڑا پار ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

راحتِ دنیا کے منہ پرٹھوکرماردی

      اُس شامی نوجوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عزم و استِقلال اوراس کی ایمان پر استِقامت  مرحبا!  ذراغور تو فرمایئے!  نگاہوں کے سامنے دو پیارے پیارے بھائی جامِ شہادت نوش کر گئے مگر اس کے پائے ثَبات کو ذرا بھی لغزِش نہیں آئی ،  نہ دھمکیاں ڈرا سکیں نہ ہی قید و بند کی صُعُوبتیں اپنے عزم سے ہٹاسکیں۔  حق و



Total Pages: 6

Go To