Book Name:Hussaini Dulha

لوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو          سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو

ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو              ختم ہوں شامتیں قافِلے میں چلو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تین بہادربھائی

        حضرتِ علّامہ اَبُو الْفَرَج عَبْدُ الرَّحمٰن بِن جَوزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی عُیُونُ الحکایات میں نقل کرتے ہیں :  تین شامی گھڑسوار بہادر نوجوان بھائی اسلامی لشکر کے ساتھ جہاد پرروانہ ہوئے لیکن وہ لشکر سے الگ ہو کر چلتے اور پڑاؤ ڈالتے تھے ۔  اور جب تک کفار کا لشکر ان پر حملہ میں پہل نہ کرتا وہ لڑائی میں حصہ نہیں لیتے تھے ۔  ایک مرتبہ رومیوں کا ایک بڑا لشکر مسلمانوں پر حملہ آورہوا اور کئی مسلمانوں کو شہیداور متعدد کوقیدی بنا لیا۔   یہ بھائی آپس میں کہنے لگے :  مسلمانوں پر ایک بڑی مصیبت نازل ہو گئی ہے ہم پر لازم ہے کہ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر جنگ میں کود پڑیں ،  یہ آگے بڑھے اورجو مسلمان باقی بچے تھے ان سے کہنے لگے:  تم ہمارے پیچھے ہو جاؤ اور ہمیں ان سے مقابلہ کرنے دو۔  اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو ہم تمہارے لئے کافی ہوں گے۔پھر یہ رومی لشکر پر ٹوٹ پڑے اور رومیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔  رومی بادشاہ  ( جو ان تینوں کی بہادری کا منظر دیکھ رہا تھا)  اپنے ایک جرنیل سے کہنے لگا: ’’  جو ان میں سے کسی نوجوان کوگرفتار کر کے لائے گا میں اسے اپنا مقرب اور سپہ سالار بنا دوں گا۔‘‘  رومی لشکر نے یہ اعلان سن کر اپنی جانیں لڑا دیں اور آخر کار ان تینوں بھائیوں کو بغیر زخمی کئے گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔  رومی بادشاہ بولا:  ان تینوں سے بڑھ کرکوئی فتح اور مال غنیمت نہیں ،  پھر اس نے اپنے لشکر کو روانگی کا حکم دے دیااور ان تینوں بھائیوں کواپنے ساتھ اپنے دارالسلطنت قسطنطنیہ لے آیااور بولا:  اگر تم  اسلام ترک کر دو تو میں اپنی بیٹیوں کی شادی تم سے کر دوں گا ا ور آئندہ بادشاہت بھی تمہارے حوالے کر دوں گا۔  ان بھائیوں نے ایمان پرثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی یہ پیشکش ٹھکرادی اور سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پکارا اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے استغاثہ کیا(یعنی فریاد کی) بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پو چھا:  یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ درباریوں نے جواب دیا: ‘‘  یہ اپنے نبی کو پکار رہے ہیں ‘‘ ،  بادشاہ نے ان بھائیوں سے کہا:  اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تین دیگوں میں تیل خوب کڑکڑا کر تینوں کو ایک ایک دیگ میں پھنکوا دونگا۔  پھر اس نے تیل کی تین دیگیں رکھ کر ان کے نیچے تین دن تک آگ جلانے کا حکم دیا۔  ہر دن ان تین بھائیوں کو ان دیگوں کے پاس لایا جاتا اور بادشاہ اپنی پیشکش ان کے سامنے رکھتا کہ اسلام چھوڑ دوتو میں اپنی بیٹیوں کی شادی بھی تم سے کردوں گا اور آئندہ بادشاہت بھی تمہارے حوالے کر دونگا۔  یہ تینوں بھائی ہر بار ایمان پر ثابت قدم رہے اور بادشاہ کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔  تین دن کے بعد بادشاہ نے بڑے بھائی کو پکارا اور اپنا مطالبہ دُہرایا،  اس مردِ مجاہد نے انکار کیا۔  بادشاہ نے دھمکی دی میں تجھے اس دیگ میں پھنکوا دونگا۔  لیکن اس نے پھربھی انکارہی کیا۔  آخر بادشاہ نے طیش میں آ کر اسے دیگ میں ڈالنے کا حکم دیا جیسے ہی اس نوجوان کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا گیا،  آناً فاناً اس کا سب گوشت پوست جل گیا اور اس کی ھڈیاں اوپر ظاہر ہوگئیں ،  بادشاہ نے دوسرے بھائی کے ساتھ بھی اسی طرح کیا اور اسے بھی کھولتے تیل میں پھنکوا دیا۔   جب بادشاہ نے ا س قدر کڑے وقت میں بھی اسلام پرانکی استقامت اور ان ہوشربا مصائب پر صبر دیکھا تو نادم ہو کر اپنے آپ سے کہنے لگا:  میں نے ان (مسلمانوں )  سے زِیادہ بہادُر کسی کونہ دیکھا اور یہ میں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ پھر اس نے چھوٹے بھائی کو لانے کا حکم دیا اور اسے اپنے قریب کر کے مختلف حیلے بہانوں سے ورغلانے لگالیکن وہ نوجوان اس کی چالبازی میں نہ آیا اور اس کے پائے ثبات میں ذرہ برابرلغز ش نہ آئی ،  اتنے میں اس کا ایک درباری بولا:  اے بادشاہ اگر میں اسے پُھسلا دوں تومجھے انعام میں کیا ملے گا؟ بادشاہ نے جواب دیا:  میں تجھے اپنی فوج کاسپہ سالار بنا دونگا۔  وہ درباری بولا : مجھے منظور ہے،  بادشاہ نے دریافت کیا:  تم اسے کیسے پھسلا ؤ گے؟ درباری نے جواباً کہا:  اے بادشاہ تم جانتے ہو کہ اہل عرب عورتوں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ بات سارے رومی جانتے ہیں کہ میری فلانی بیٹی حسن و جمال میں یکتا ہے او ر پورے روم میں اس جیسی حسینہ کوئی اور نہیں۔  تم اس نوجوان کو میرے حوالے کر دو میں اسے اور اپنی اس بیٹی کو تنہائی میں یکجا کر دونگا اوروہ اسے پھسلانے میں کامیاب ہو جائے گی۔   بادشاہ نے اس درباری کو چالیس دن کی مدّت دی اور اس نوجوان کو اس کے حوالے کر دیا،  وہ درباری اسے لیکر اپنی بیٹی کے پاس آیا اور سارا ماجرا اسے کہہ سنایا۔   لڑکی نے باپ کی بات پر عمل پیرا ہونے پر رضا مندی کا اظہار کیا،  وہ نوجوان اس لڑکی کے ساتھ



Total Pages: 6

Go To