Book Name:Hussaini Dulha

میدان میں چل دیئے۔  یہ دیکھ کر لشکرِ اَعداء پر لرزہ طاری ہو گیا کہ گھوڑے پر ایک ماہ رُو شہسوار اَجَلِ ناگہانی کی طرح لشکر کی طرف بڑھا چلا آرہا ہے ہاتھ میں نیزہ ہے دَوش پر سِپَرہے اور دل ہِلا دینے والی آواز کے ساتھ یہ رَجز پڑھتا آ رہا ہے:     ؎ 

اَمِیْرٌ حُسَیْنٌ وَ نِعمَ الْاَ مِیر

لَہٗ لَمْعَۃٌ کَا لسِّرَاجِ الْمُنِیر

 (یعنی حضرتِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر ہیں اور بَہُت ہی اچّھے امیر۔  ان کی چمک دمک روشن چَراغ کی طرح ہے۔ )

      برقِ خاطف (یعنی اچک لینے والی بجلی) کی طرح میدان میں پہنچے ،   کوہ پیکر گھوڑے پر سِپہ گری کے فُنُون دکھائے،  صَفِ اَعداء سے مُبارِز طلب فرمایا ،  جو سامنے آیا تلوار سے اُسکا سر اڑایا ۔  گِردو پیش خُود سروں (یعنی سرکشوں )  کے سروں کا انبار لگا دیا۔  ناکسوں (یعنی نا اہلوں )  کے تن خاک و خون میں تڑپتے نظر آنے لگے۔   یکبار گی گھوڑے کی باگ مَوڑدی اور ماں کے پاس آ کر عرض کی کہ اے مادرِ مُشفِقہ!  تُو مجھ سے اب تو راضی ہوئی!  اور دُلہن کے پاس پہنچے جو بے قرار رو رہی تھی اور اس کو صَبر کی تلقین کی ۔اتنے میں اَعداء (یعنی دشمنوں )  کی طرف سے آواز آئی:  ھَل مِنْ مُّبَارِز؟ یعنی کوئی ہے مقابلہ پر آنے والا ؟ سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گھوڑے پر سَوار ہو کر میدان کی طرف روانہ ہوئے ۔  نئی دُلہن ٹکٹکی باندھے اُن کو جاتا دیکھ رہی ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کے دریا بہا رہی ہے۔ 

حُسینی دُولھا شیرژِیاں (یعنی غضبناک شیر)  کی طرح تیغِ آبدار و نیزۂ جاں شِکار لے کر معرکۂ کا ر زار میں صاعِقہ وار آ پہنچا۔اس وقت میدان میں اَعداء کی طرف سے ایک مشہور بہادر اور نامدار سَوار حَکَم بن طفیل جو غرورِ نَبرَد آزمائی میں سَرشار تھا تکبُّر سے بَل کھاتا ہوا لپکا سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک ہی حملے میں اس کو نیزہ پر اٹھا کر اس طرح زمین پر دے مارا کہ ہڈّیاں چکنا چُور ہو گئیں اور دونوں لشکروں میں شور مچ گیا اور مُبارِزوں میں ہمّتِ مقابلہ نہ رہی۔سیِّدُنا وَہبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے قلبِ دشمن پر پہنچے ۔   جو مُبارِز سامنے آتا اس کو نیزہ کی نوک پر اٹھا کر خاک پر پٹخ دیتے ۔   یہاں تک کہ نیزہ پارہ پارہ ہو گیا۔  تلوار میان سے نکالی اور تیغ زَنوں کی گردنیں اُڑا کر خاک میں ملا دیں۔   جب اَعداء اس جنگ سے تنگ آ گئے تو عَمرو بن سعد نے حکم دیا کہ سپاہی اس نوجوان کے گرد ہُجوم کر کے حملہ کریں اور ہر طرف سے یکبارگی ٹوٹ پڑیں چُنانچِہ ایسا ہی کیا گیا۔  جب حُسینی دولھا زخموں سے چور ہو کر زمین پر تشریف لائے تو سیاہ دِلانِ بد باطِن نے ان کا سر کاٹ کر حُسینی لشکر کی طرف اُچھال دیا ۔  ماں اپنے لختِ جگر کے سر کو اپنے منہ سے ملتی تھی اور کہتی تھی:  اے بیٹا،  میرے بہادر بیٹا!  اب تیری ماں تجھ سے راضی ہوئی۔  پھر وہ سر اسکی دُلہن کی گود میں لا کر رکھ دیا۔  دُلہن نے ایک جُھر جُھر ی لی اور اُسی وقت پروانہ کی طرف اُس شمع جمال پر قربان ہو گئی اور اس کی روح حُسینی دولھا سے ہم آغوش ہوگئی۔

سُر خروئی اسے کہتے ہیں کہ راہِ حق میں

سر  کے  دینے  میں  ذرا  تو  نے  تَأَمُّل  نہ کیا

اَسکَنَکُمَا اللہُ فَرَ ادِیْسَ الجِنَانِ وَ اَغْرَقَکُمَا فِی بِحَارِ الرَّحمَۃِ ِوَالرِّضوَانِ(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ  آپ کو فردوس کے باغوں میں جگہ عنایت فرمائے اور رحمت ورضوان کے دریاؤں میں غریق کرے)  (مُلَخَّص ازسوانحِ کربلاص۱۴۱تا ۱۴۶مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے اہلبیت اطہار عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی محبت اور جذبۂ شہادت بھی کیسی عظیم نعمتیں ہیں صرف سترہ دن کا دولہا میدان کارزار میں دشمنوں کے لشکر جرار سے تن تنہا ٹکرا گیا اور جام شہادت نوش کرکے جنت کا حقدار ہو گیا۔  حسینی دولہا کی والدۂ محترمہ اور نو بیاہتادلہن پربھی کروڑوں سلام! کس قدر بلند حوصلے کیساتھ ماں نے اپنے لال کو اور دلہن نے اپنے سہاگ کو امام عالی مقام،  امام عرش مقام، امامِ تشنہ کام، امامِ ھمام ،  سیّدالشھدائ، راکب ِدوش مصطفی،  بیکسِ کربلا امامِ حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قدموں پر قربان ہوتے دیکھا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسی بلندرتبہ خاتونان اسلام کے جذبۂ اسلامی کا کوئی ذرہ ہماری ماؤں اور بہنوں کو بھی نصیب کر ے کہ وہ بھی اپنی اولاد کو دین اسلام کی خاطر قربانیوں کیلئے پیش کریں ، انہیں سنتوں کے سانچے میں ڈھالیں اور عاشقان رسول کے ساتھ مدنی قافلوں میں سفر پر آمادہ کریں۔

 



Total Pages: 6

Go To