Book Name:Sayyidi Qutb e Madina

        سیِّدی قطبِ مدینہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے  ہیں : ایک مرتبہ مجھ پر فالِج کاشدید حملہ ہوا اور میرا آدھا جسم مَفلوج ہوگیا، عَلالَت(یعنی بیماری) اِس قَدَر بڑھی کہ سب لوگ یِہی سمجھے  کہ اب یہ جا ں بَر نہ ہو(یعنی زندہ نہ بچ)سکیں گے  ۔  ایک رات میں نے  رو رو کر بارگاہ ِسرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں فریاد کی، یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمجھے  میرے  پیرومُرشِد، میرے  امام احمد رضا خان رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے  خادِم بناکر حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے  آستانے  پر بھیجا ہے  ، اگر یہ بیماری کسی خطا کی سزا ہے  تو مُرشِدی کا واسِطہ مجھے  مُعاف فرمادیجئے  ۔  اسی طرح حضور غوثِ پاک اور خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہِما کی سرکاروں میں بھی اِستِغاثہ پیش کیا(یعنی فریاد کی) ۔  جب مجھے  نیند آگئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے  پیرومُرشِد سیِّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہدو نورانی چِہرے  والے  بُزُرگوں کے  ہمراہ تشریف لائے  ہیں ۔  اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے  ایک بُزُرگ کی طرف اشارہ کرتے  ہوئے  فرمایا  :  ضِیاء ُالدّین!( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)دیکھو!یہ حُضور سیِّدُنا غوثُ الاعظم  علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرم  ہیں اور دوسرے  بُزُرگ کی طرف اشارہ کرتے  ہوئے  ارشاد فرمایا :  اور یہ حُضور خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہیں ۔  حُضُور غوثِ اعظم  علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الا کرم نے  میرے  جسم کے  مفلوج (یعنی فالِج زدہ)حصّے  پراپنا دستِ شِفا پھیرا اور فرمایا :  اٹھو !میں خواب ہی میں کھڑا ہو گیا  ۔  اب یہ تینوں بُزُرگ نَماز پڑھنے  لگے  ۔  پھر میری آنکھ کُھل گئی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں تندُرُست ہوگیا ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے  صَدقے  ہماری مغفِرت ہو ۔   

مُرشِدی مجھ کو بنا دے  تو مریضِ مصطَفٰے

از پئے  احمد رضا یا غوثِ اعظم دستگیر

اِمدادِ مصطَفٰے

        سیِّدی قطبِ مدینہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے  ہیں مجھے  محفلِ میلاد ([1])  کرنے  کے  مقدّس جُرم میں مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً سے  نکالنے  کی مُتَعَدِّد بار کوشش کی گئی لیکن بارگاہِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں حاضِر ہوکر فریاد کرتا تو کوئی نہ کوئی سبب مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں حاضِر رہنے  کا بن جاتا ۔  ایک بار تو پولیس نے  میرا سامان گھر سے  اُٹھا کر باہَر پھینک دیا! میں پریشان ہوکر گلی میں کھڑا تھا ۔  سپاہیوں کی نظریں جُوں ہی غافِل ہوئیں، میں تڑپتا ہوا روضۂ انور پر حاضِر ہوگیا اور رو رو کر فریاد کی ۔  جب دل کا بوجھ ہلکا ہوا، میں واپَس اپنی گلی میں پہنچا تو پولیس نے  خود ہی سامان اندر رکھ دیا تھا اور مجھے  بتایا گیا کہ آپ کی شہر بدری کا آرڈر منسوخ کردیا گیا ہے  ۔  

وَاﷲ!وہ سن لیں گے  فریاد کو پہنچیں گے

                اِتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ! کرے  دل سے (حدائق بخشش شریف)

 یا رسولَ اللّٰہ! کہاں پھنس گیا

        واقِعی سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنے  مہمانوں پربے  حد کرم فرماتے  ہیں ۔ ۱۴۰۰ھ (1980ء )میں سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ جب پہلی بار مدینۂ طیِّبہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً حاضِر ہوا تھا اور شاید مدینے  کی حاضِری کی وہ پہلی یا دوسری شب تھی، رات کافی گزرچکی تھی، مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلامکے  باہَر بابِ جبرئیلعَلَیْہِ السّلام  کی جانب اِس انداز پر گنبد خضراکے  جلوے  لُوٹ رہا تھا کہ کبھی والہانہ انداز میں گنبدِ خضراکی طرف بڑھتا چلا جاتا تو کبھی اُسی سَمْت رخ کئے  اُلٹے  قدم پیچھے  ہٹنے  لگتا ۔  تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ڈیوٹی پرمُتَعَیَّن ایک پولیس والے  نے  مجھے  للکارا اور پکڑلیا اُس کا ساتھی دیوار سے  ٹیک لگاکر اُونگھ رہا تھا ۔  اس کو اس نے  ٹھوکر مار کر کہا :  قُم (یعنی اٹھ ) وہ ایک دم’’ مشین گن ‘‘تان کر میرے  سامنے  کھڑا ہوگیا !ایک پولیس والا میری زُلفیں کھینچنے  لگا، ایک یا دو سال قبلکعبۃُ اللّٰہِ الْمُشَرَّفہ پر جن دَہشت گَردوں نے  قبضہ کرکے  وہاں کی بے  حُرمتی کی تھی، جس سے  دنیا کا ہر مسلمان تڑپ اُٹھا تھا غالِباً وہ سب لوگ لمبی لمبی زُلفوں والے  تھے  توہو سکتا ہے  پولیس نے  مجھے  بھی اُن کا آدمی سمجھا ہو، اُنہوں نے  مجھ سے  پاسپورٹ طلب کیا ۔  اِتِّفاق سے  اُس وقت وہ میرے  پاس موجود نہیں تھا بلکہ قِیام گاہ پر تھا، اب تو میں بالکل ہی پھنس گیا تھا ، یہ دونوں مل کر مجھے  ایک کوٹھڑی پر لائے  اس کا تالا کھولا اور اندر دھکیلنے  لگے ، رات کافی گزر چکی تھی، مجھے  پیشاب کی حاجت ہو رہی تھی اور مجھے  ایک دم فکر لاحق ہو گئی کہ اِس کوٹھری کے  اندر طہارت و وُضُو کر کے  نَمازِ فجر کیسے  ادا کر پاؤں گا!میں گھبرا گیا اور بے  ساخْتَہ میری زَبان سے  اپنی مادری زبان میمنی میں فریاد کے  کلمات جاری ہوگئے  جس کا اردو ترجمہ ہے ، ’’یارسولَ اللّٰہ!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکہاں پھنس گیا !‘‘ اب تو اور بھی ڈرا کہ میں نے  ’’یارسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ‘‘کی صدا لگا دی ہے  لہٰذا شاید مجھ پر شدید ظلم ہوگا کیوں کہ بدقسمتی سے  وہاں کا ’’مُسلَّط طبقہ‘‘ یا رسولَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکہنے  والوں کو اچّھی نظر سے  نہیں دیکھتا مگر کیا خوب کرم ہوا کہ جوں ہی میرے  منہ سے  یارسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی صدا نکلی، میری بے  کسی  اور گھبراہٹ دیکھ کر پولیس والوں کی ہنسی نکل گئی اور اُنہوں نے  کوٹھڑی کے  دروازے  پر تالا لگادیا اور مجھے  چھوڑ دیا ۔  

جب تڑپ کر یارسولَاﷲ!  کہا

                فوراً آقا  کی حمایت مل گئی(وسائل بخشش ص۱۱۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 غائبانہ ہستیوں کی آمد

 



  [1]   اُن دنوں اور  تادمِ تحریک عرب شریف میں گورنمنٹ کی طرف سے   ’’محفل میلاد‘‘پر پابندی ہے  ۔



Total Pages: 6

Go To