Book Name:Sayyidi Qutb e Madina

تیسرے  میں گھی تھا ۔  مشکیزے  دیکر یہ کہتے  ہوئے  تشریف لے  گئے  کہ میں ابھی بازار سے  مزید اشیا لاتا ہوں ۔  تھوڑی دیر بعد چائے  کا ڈِبّا اور چینی وغیرہ لاکر مجھے  دیئے  اور فوراً واپَس چلے  گئے  ۔  میں پیچھے  لپکا کہ ان سے  تفصیلات معلوم کروں مگر وہ غائب ہوچکے  تھے  ۔  قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں عرض کیا گیا :  آپ کے  خیال میں وہ کون تھے ؟ انہوں نے  فرمایا : میرے  گمان میں وہ مدینے  کے  سلطان رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے  چچا جان سیِّدُا لشُّہَدا  سیِّدُنا حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ  تھے  کیونکہ مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی وِلایت انہی کے  سِپرد ہے  ۔  

وہ عشقِ حقیقی کی لَذَّت نہیں پا سکتا

                                جو رنج و مصیبت سے  دو چار نہیں ہوتا(وسائلِ بخشش ص ۱۳۲)

       میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائیو! حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ  سے  وا لہانہ عقیدت رکھتے  تھے  اور ہر سال17 رَمَضانُ الْمبارَک کو سیِّدُنا حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ  کاعُرس شریف مناتے  اور ایک روزہ سیِّدُنا حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ  کے  مزارِ پُرانوار پر افطار فرماتے  تھے  ۔  

مرحبا، مرحبا

        حُضُور سیِّدی قطبِ مدینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپیکرِ علم و عمل تھے ، اپنے  گھر سے  نکلنے  اور  بغدادِمُعَلّٰی  کے  قِیام اور مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں اقامت کے  دوران جس قَدَرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپر امتحانات پیش آئے  ان پر صبر وتحمل (تَ ۔  حَمْ  ۔  مُلْ)  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہی کا حصّہ تھا ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنہایت ہی خَلیق(یعنی بااَخلاق) اور ملنسار تھے ، اکثر جب آپ   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں کوئی حاضر ہوتا تو مرحبا! مرحبا !کی صدا بلند فرماتے ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ   سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہُ  (راقم الحروف) بھی جب حاضِر خدمت ہوتا تو کئی بار آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے  اپنی شیریں سُخَنِیکے  ساتھ’’ مرحبا بھائی الیاس! مرحبا بھائی الیاس !‘‘فرما کر دل کو باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ بنایا ہے  ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنہایت ہی مُتَواضِع اور مُنْکَسِرُ الْمزاج تھے  ۔  سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہُ   نے  بارہا دیکھا ہے  کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں دعا کی درخواست پیش کی جاتی تو ارشاد فرماتے  :  ’’میں تو دعاگو بھی ہوں اور دعا جَو بھی ۔ ‘‘ یعنی دعا کرتا بھی ہوں اور آپ سے  دعا کا طلبگار بھی ہوں ۔  

ضیا  پیرو مُرشِد مِرے  رہنما ہیں

                        سُرورِ دل و جاں مِرے  دلرُبا ہیں(وسائلِ بخششص۳۰۶)

روزانہ مَحفلِ مِیلاد

        حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکو تاجدارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے  جُنون کی حد تک عشق تھا بلکہ یہ کہنا بے  جا نہ ہوگا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفَنافِی الرَّسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے  اعلیٰ منصب پر فائز تھے  ۔  ذِکرِ رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہی آپ کا روزوشبانہ مشغلہ تھا ۔  اکثر زیارت کے  لئے  آنے  والے  سے  اِستِفسار فرماتے  :  آپ نعت شریف پڑھتے  ہیں؟ اگر وہ ہاں کہتا تو اُس سے  نعت شریف سَماعت فرماتے  اور خوب مَحظُوظ ہوتے  ۔  بارہا جذباتِ تَأَثُّرسے  آنکھوں سے  سَیلِ اشک رواں ہوجاتا ۔ سارا ہی سال روزانہ رات کو آستانۂ عالیہ پر محفلِ مِیلاد کا انعِقاد ہوتا، جس میں مدنی، ترکی، پاکستانی، ہندوستانی، شامی، مصری، افریقی، سوڈانی اور دنیا بھر سے  آئے  ہوئے  زائرین شرکت کرتے  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ  کو بھی کئی بار اس مقدس محفل میں نعت شریف پڑھنے  کا شرف حاصل ہوا ہے  ۔  سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ  نے  ایک خاص بات سیِّدیقطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی محفل میں یہ دیکھی کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاختِتام پر بطورِ تواضُع دعا نہیں فرماتے  تھے  بلکہ کسی نہ کسی شریکِ محفل کو دعا کا حکم فرما دیتے  ۔  دو ایک بار مجھ پاپی و کمینہ سگِ قطبِ مدینہ کو بھی اَلْاَمْرُفَوْقَ الْاَدَب یعنی’’ حکم ادب پر فَوقیت رکھتا ہے  ‘‘کے  تحت آستانۂ عالیہ پر اختِتامِ محفلِ میلاد پر دعا کروانے  کی سعادت حاصل ہوئی ہے  ۔  دعا کے  بعد روزانہ لازِمی لنگر شریف بھی ہوتا تھا ۔  

راتیں بھی مدینے  کی باتیں بھی مدینے  کی

جینے  میں یہ جینا ہے  کیا بات ہے  جینے  کی

طَمع نہیں، مَنْع  نہیں اور جَمْع  نہیں

        حضرتِ  سیِّدیقطبِ مدینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایک کریمُ النَّفس اور شریفُ الْفِطْرت بُزُرگ تھے  ان کی قُربَت میں اُنس و مَحَبَّت کے  دریا بہتے  تھے  اور  سلف ِ صالحین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِینکی یاد تازہ ہوجاتی، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسخی اور  بَہُت عطا فرمانے  والے  تھے  ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایا کرتے  تھے  :  ’’طَمع نہیں، مَنع نہیں اورجَمع نہیں ۔  ‘‘یعنی ’’لالچ مت کرو کہ کوئی دے  اور اگر کوئی بِغیر مانگے  دے  تومَنْع مت کرو اور جب لے  لو تو جَمع مت کرو ۔  ‘‘جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکو کوئی عِطْر پیش کرتا تو خوش ہوکر اُسے  اِس طرح دُعا دیتے  :  ’’عَطَّرَ اللّٰہُ اَیَّامَکُم‘‘ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ  تمہارے  ایّام مُعَطَّر( خوشبودار) کرے  ۔  آپ کوشَہَنْشاہِ اُمَم، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور حُضُور سیِّدُنا غوثُ الاعظم عَلَیْہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرم سے  بے  حد اُلفت تھی، ایک بار فرمانے  لگے  :  کسی نے  کیا خوب کہا ہے   ؎

بعدِ مُردن رُوح و تن کی اِس طرح تقسیم ہو

روح طیبہ میں رہے  لاشہ مِرا بغداد میں

غوثِ اعظم   نے  مدد فرمائی

 



Total Pages: 6

Go To