Book Name:Aarzoo e Deedar e Madina

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

شب و روز رَحمت کی برسات ہوتی

عطاؤں کی جھولی میں خیرات ہوتی

مسلماں کا دامن کرم سے بھرا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

جو اُلفت کے پیمانے تقسیم ہوتے

تو بخشش کے پروانے تَرقِیم([1])ہوتے

خُوشا! بحرِ رحمت کو جوش آگیا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

مساجِد میں ہر سُو بہار آگئی تھی

خدا کے کرم کی گھٹا چھا گئی تھی

جسے دیکھو سجدے میں آکر گرا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

فَضائیں منوّر ہوائیں معطَّر

خدا کی قسم تھا سماں کیف آور

دلوں پر بھی اِک وَجد سا چھا گیا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

کلیجے میں ٹھنڈک تھی ، چہرے پہ پانی

دلوں میں بھی تھی کس قَدَر شادمانی

سُکوں ماہِ رَمَضاں میں کیسا ملا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

مسلماں تھے خوش رُخ پہ رونق بڑی تھی

خدا کے کرم کی برستی جھڑی تھی

عبادت میں دل کس قَدَر لگ گیا تھا

 



 [1]    لکھے جاتے ، تحریر



Total Pages: 10

Go To