Book Name:Aarzoo e Deedar e Madina

 

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

(یہ کلام ۵  شوال المکرم ۱۳۴۱ھ  کو کمپوز کیا گیا)

مَسرَّت سے سینہ مدینہ بنا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

پَرے رَنج و غم کا اندھیرا ہوا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

خبر جب کہ رَمَضاں کی آمد کی آئی

تو مُرجھائے دل کی کلی مسکرائی

کیا ابرِ کرم نور برسا رہا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

نظر چاند رَمَضاں کا جس وقت آیا

ہُوا رَحمتوں کا زمانے پہ سایہ

اُفُق پر بھی ابرِ کرم چھا گیا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

کھلے بابِ جنَّت ، جہنَّم کو تالے

پڑے ، ہر طرف تھے اُجالے اُجالے

وہ مَردُود شیطان قیدی بنا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

ترانے خوشی کے فَضا گُنگُناتی

ہَوا بھی مَسرَّت کے نغمے سناتی

جدھر دیکھئے مرحبا مرحبا تھا

مزا خوب رَمَضان میں آرہا تھا

 

فَضائیں بھی کیا نور برسا رہی تھیں

ہوائیں مَسرَّت سے اِٹھلا رہی تھیں

سماں ہر طرف کیف و مَستی بھرا تھا

 



Total Pages: 10

Go To