Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

( 4 ) سُوال کی عبارت کے اختِتام پرضَرورتاً  سُوالیہ نشان( ؟) لگایئے۔

سائل پر شفقت کیجئے

(5)جب کوئی سائل آپ کے پاس اپنا سوال لائے تو اس کی بات کو غور سے سنئے ۔اگر وہ اپنی بات صحیح طریقے سے بیان نہ کرپائے تو اُسے شرمندہ کرنے اور سخت وسست کہنے کے بجائے صبر کرکے ثواب کمائیے اور سراپاشفقت بن کر اس کی مُرادکوسمجھنے کی کوشش کیجئے ۔فی زمانہ حالات ناگفتہ بہ ہیں  ، عوام میں  دینی مسائل سیکھنے کا رُجحان پہلے ہی کم ہے اگر آپ ڈانٹ پلاکر، طنز کے تیر برسا کر اس کا دِل چَھلنی کریں  گے تو قوی اِمکان ہے کہ شیطان اُسے آپ سے ایسا بدظن کردے کہ پھر وہ کبھی آپ کے پاس آنے کی ہمت ہی نہ کرسکے اور حسبِ سابق جہالت کے سمندر میں  غوطہ زن رہے ۔ اس لئے نرمی ، نرمی اور صرف نرمی ہی سے کام لیجئے ، ہمارے میٹھے میٹھے آقا صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمنے کبھی بھی کسی مسلمان کا دل نہ دُکھایا، نہ کسی پر طنز کیا، نہ کسی کا مذاق اڑایا ، نہ کسی کو دُھتکارا ، نہ کبھی کسی کی بے عزّتی کی، بس ہر ایک کو سینے سے لگایا، بلکہ   ؎

لگاتے ہیں  اُس کو بھی سینے سے آقا

جو ہوتا نہیں  منہ لگانے کے قابل

 ’’12دارالافتاء‘‘ قائم کرنے کا ھدف

بہت عرصہ قبل کسی دینی مَدرسے سے وابستہ اسلامی بھائی نے مجھے بتایا کہ ’’ہمارے یہاں  جب کوئی کم پڑھالکھا سائل مسئلہ دریافت کرنے کے لئے آتا ہے تو بسا اوقات اندازِ بیان یا طرزِ تحریر پر اُسے خوب جھاڑ پلائی جاتی ہے، مثلاً کہا جاتا ہے :  کہاں  پڑھے ہو! آپ کو اُردو میں  سوال لکھنے کا بھی ڈھنگ نہیں  معلوم!وغیرہ، اس طرح لوگ بدظن ہوکر چلے جاتے ہیں  ، اُن کی پرواہ نہیں  کی جاتی ، کبھی میں  دیکھ لیتا ہوں  تو ایسوں  کو سنبھالنے کی سعی کرتا ہوں ۔ ‘‘یہ باتیں  سُن کر میرے (یعنی سگِ مدینہ کے)دل پر چوٹ لگی اور میرے منہ سے نکلا ’’ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّہم 12 دارالافتاء کھولیں  گے۔‘‘ اب جبکہ دعوتِ اسلامی کا ننھا سا پودا قد آور سایہ دار درخت بن چکاہے، اس کے مَدَنی کاموں  کے لئے جہاں  دیگر مجالس بنائی گئیں  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّوہیں  مجلسِ افتاء بھی وجود میں  آچکی ہے اور تادمِ تحریر’’ دعوتِ اسلامی‘‘ باب المدینہ کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں  میں اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ9 دار الافتاء کھول چکی ہے ۔مزید پیش رفت جاری ہے ۔

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں  میں  

اے دعوتِ اسلامی تِری دُھوم مچی ہو

فتوی لکھنے کا محتاط طریقہ

(6)آ ج کل کمپیوٹر کا دور ہے اور اس میں  کافی سَہولتیں  بھی ہیں ۔ کمپوز شدہ فتویٰ جاری کرنے یا میل کرنے میں  اِلحاق کے ذَرِیعے خیانت کا سخت اندیشہ رہتا ہے۔ مَثَلاً آپ نے کمپوز کیا :  ’’طَلَاق ہو گئی ‘‘ مگر سائل نے اپنا گھر بچانے کیلئے کمپیوٹر کے ذَرِیعے کر دیا :  ’’طَلَاق نہ ہوئی‘‘ پھر اِس طرح جو مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں  وہ ہر ذِی شُعُور سمجھ سکتا ہے۔ فتویٰ لکھنے کا ایک محتاط طریقہ تو یہ سمجھ میں  آتا ہے کہ کاغذ کا ٹکڑا صِرف حسبِ ضرورت ہو، اِس پر قلم سے بِالکل قریب قریب الفاظ لکھے اور وہ بھی اِس طرح کہ کاغذ کے چاروں طرف بِالکل حاشیہ نہ چھوڑے ، نہ ہی کوئی سطر خالی چھوڑے پھر مہریا دستخط کی اس طرح ترکیب کرے کہ مزید اضافے کی گنجائش نہ رہے۔ فتوے کی ایک نقل یا فوٹو کاپی اپنے پاس محفوظ رکھئے تاکہ بوقتِ ضرورت کام آسکے ۔کمپوز شدہ فتویٰ جاری کرنے میں  شرعاً حَرَج نہیں  ، گناہ خائن کے سر پر ہو گا ۔ تا ہم جن میں  دشمن کی



Total Pages: 41

Go To