Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ قریب گئے تو لوگوں  نے آپ کے لئے جگہ کشادہ کی۔ حضرتِ سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  سرجھکائے ہوئے بیٹھے تھے۔ اس لیے آپ کے والد محترم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہانہیں  پہچان نہیں  سکے، ا ور حاضرین سے پوچھا : ’’ علم کے موتی لٹا نے والے یہ ’’شیخ الحدیث‘‘ کون ہیں ؟‘‘  لوگوں  نے بتایا : ’’یہ ربیعہ بن ابوعبدالرحمن ہیں  ۔‘‘ یہ سن کر فرطِ مُسرَّت میں  ان کی زبان سے یہ جملہ نکلا کہ ’ لَقَدْ رَفَعَ اللہُ اِبْنِی  یقیناًاللہ ربُّ العزَّت نے میرے بیٹے کوبڑا عظیم مرتبہ عطافرمایاہے !‘‘پھرخوشی خوشی زوجہ کے پاس آئے اور فرمایا : ’’میں نے تمہارے لختِ جگر کو آج ایسے عظیم مرتبے پر فائز دیکھا کہ اس سے پہلے میں  نے کسی علم والے کو ایسے مرتبے پر نہیں  دیکھا۔‘‘ زوجۂ محترمہ نے پوچھا : ’’ آپ کو اپنے تیس ہزار دینار چاہئیں  یا اپنے بیٹے کی یہ عظمت ورفعت ۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا : ’’ خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے اپنے نورِ نظر کی شان درہم ودینار سے زیادہ پسند ہے۔‘‘ وہ کہنے لگیں : ’’میں  نے وہ سارا مال آپ کے بیٹے کی تعلیم وتربیت پر خرچ کردیا ہے۔‘‘یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے زندہ دلی سے فرمایا :  ’’ خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم!تم نے اس مال کو ضائع نہیں  کیا ہے۔‘‘( تاریخ بغدادج۸ ص۴۲۱)

  اللہ عَزَّوَجَلَّکی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم

حضرتِ سیِّدتنا اُمِّ ربیعہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہا کے علمی ذوق سے وہ اسلامی بہنیں  سبق سیکھیں  جو اپنے بچوں  کی دُنیاوی تعلیم پر تو خوب خرچ کرتی ہیں  ، ان کی عدمِ دلچسپی پر اپنا دِل جلاتی ہیں  مگر دینی تعلیم وتربیت کی طرف کوئی توجہ نہیں  دیتیں  ، پھر جب پینٹ کوٹ میں  کسا کسایا بیٹا یا فیشن زدہ بیٹی ماں  سے زبان درازی کرتی ہے تو سر پر ہاتھ رکھ کر روتی ہیں  کہ میری ہی اولادمیرے قابو میں  نہیں  ، ایسی مائیں  ٹھنڈے دل سے غور کریں  کہ ان کو اس حال تک پہنچانے میں  ان کا اپنا کردارکتنا ہے ؟ اگر اولاد کی سنّت کے مطابق تربیت کی ہوتی تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ،   ؎

دیکھے ہیں  یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت

سچ ہے کہ بُرے کام کا انجام بُرا ہے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

    امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے عطا کردہ

علم وحکمت کے 125مَدَنی پھول

باوُضو رہئے

(1) میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن  لکھتے ہیں :  ہمیشہ باو ضو رہنا مستحب ہے۔(فتاوٰی رضویہ ج۱ ص۷۰۲)میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ بھی اچھی اچھی نیتوں  کے ساتھ باوضو رہنے کی عادت بنالیجئے ۔

استِفتاء لکھنے کا اُسلُوب

( 2 ) سُوال سے پہلے سرخی(HEADING) لگایئے، سرخی جس قدر مختصراور جلی حُرُوف میں  ہو گی اُسی قَدَر حُسن پیدا ہوگا۔ مثلاً : وضو میں  مسواک کا مسئلہ

( 3 ) سُوال لکھنے کی ابتِداء اس طرح کیجئے : کیا فرماتے ہیں  علمائے دین ومفتیان شرعِ متین (کَثَّرَہُمُ اللہُ المُبین) اس مسئلے میں کہ… : (یہاں  سائل کا سوال نقل کردیجئے۔)

 



Total Pages: 41

Go To