Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

مقبول صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم اُسی کا حُکْم اِرشاد فرماتے ۔(تفسیر کبیر ، ج۱، ص۴۱۰)

  اللہ عَزَّوَجَلَّکی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

سمجھدار ماں

          حضرت سیِّدنا امام مالک بن اَنس اورحضرت سیِّدُنا حسن بصری  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما جیسی جلیل القدر ہستیوں  کے اُستاذِ محترم حضرت سیِّدُنا ربیعہ بن ابو عبدالرحمن علیہ رحمۃ المنان  ابھی اپنی والدہ کے شکمِ مبارک میں  ہی تھے کہ ان کے والد حضرت سیِّدُنا ابو عبدالرحمن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بنو اُمیہ کے دورِ خدمت میں  سرحدوں  کی حفاظت کے لئے جہاد کی غرض سے خُرَاسَان چلے گئے ۔ چلتے وقت آپ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنی زوجہ کے پاس تیس( 30)ہزار دینارچھوڑکر گئے ۔27سال کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ واپس مدینۂ منورہ  زَادَہَااللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا آئے توآپ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاتھ میں  نیزہ تھا اورآپ گھوڑے پر سوار تھے ۔ گھر پہنچ کر گھوڑے سے اترے اورنیزے سے دروازہ اندر دھکیلا تو حضرتِ سیِّدُنا ربیعہ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فوراًباہر نکلے۔ جیسے ہی انہوں  نے ایک مسلَّح شخص کو دیکھا تو بڑے غضب ناک انداز میں  بولے : ’’ اے  اللہ عَزَّوَجَلَّکے بندے! کیا تو میرے گھر پر حملہ کرنا چاہتاہے ؟‘‘حضرتِ سیِّدُنافَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : ’’ نہیں  !مگرتم یہ بتاؤ کہ تمہیں  میرے گھر میں  داخل ہونے کی جرأت کیسے ہوئی۔‘‘ پھر دونوں میں  تلخ کلامی ہونے لگی ۔قریب تھا کہ دونوں  دست وگریبان ہوجاتے لیکن ہمسائے بیچ میں  آگئے اور لڑائی نہ ہوئی ۔ جب حضرت سیِّدُنا مالک بن اَنس رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  اوردوسرے بزرگ حضرات کو خبرہوئی تو وہ فوراً چلے آئے۔ لوگ انہیں  دیکھ کر خاموش ہو گئے۔ حضرت سیِّدُنا ربیعہرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس شخص سے کہا :  ’’خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں  اس وقت تک تمہیں  نہ چھوڑوں  گا جب تک تمہیں  سلطان (یعنی بادشاہِ اسلام) کے پاس نہ لے جاؤں  ۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا فَرُّوخ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے کہا :  ’’خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں  بھی تجھے سلطان کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں  گا، ایک تو تم میرے گھر میں  بلا اجازت داخل ہوئے اورپھر مجھی سے جھگڑ رہے ہو۔‘‘ حضرت سیِّدُنا مالک بن انس رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ حضرت ابو عبدالرحمن فَرُّوخ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو نہایت نرمی سے سمجھانے لگے کہ بڑے میاں ! اگر آپ کو ٹھہرنا ہی مقصود ہے تو کسی اور مکان میں  ٹھہر جائیے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا :  ’’میرا نام فَرُّوخ ہے اوریہ میرا ہی گھر ہے۔‘‘ یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی زوجۂ محترمہ جو دروازے کے پیچھے ساری گفتگو سن رہی تھیں ، فرمانے لگیں : ’’یہ میرے شوہر ہیں  اورربیعہ اِنہیں  کے بیٹے ہیں  ۔‘‘ یہ سن کر دونوں  باپ بیٹے گلے ملے اور ان کی آنکھوں  سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے ۔حضرتِ سیِّدُنا ابو عبدالرحمن  فَرُّوخرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ خوشی خوشی گھر میں  داخل ہوئے ۔ جب اطمینان سے بیٹھ گئے توکچھ دیر بعد اُن کو وہ تیس ہزار اشرفیاں  یاد آئیں  جو جہاد کے لئے روانگی کے وقت بیوی کو سونپ گئے تھے۔ چنانچہ بیوی سے پوچھا کہ میری امانت کہاں  ہے؟ سمجھدار بیوی نے عرض کی : ’’میں  نے انہیں  سنبھال چھوڑا ہے ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس دوران مسجد نبوی شریفعَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پہنچ کر اپنے حلقۂ درس میں  بیٹھ چکے تھے اور تلامذہ کا ایک ہجوم جس میں  امام مالک اور خواجہ حسن بصری  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما جیسے لوگ شامل تھے شیخ کو گھیرے ہوئے تھا۔حضرتِ سیِّدُنا  فَرُّوخرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نماز پڑھنے کے لیے مسجدِ نبوی شریف میں  گئے تو یہ منظر دیکھا کہ ایک حلقہ لگا ہوا ہے اورلوگ بڑے ادب وتوجہ سے علمِ دین سیکھ رہے ہیں  اورایک خوبرونوجوان انہیں  درس دے رہا ہے ۔آپ



Total Pages: 41

Go To