Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

شوقِ فاروقی

           حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرا  ایک انصاری پڑوسی بنو امیہ بن زید (کے محلے) میں  رہتے تھے جو مدینۂ پاک کی بلندی پر تھا ، ہم باری باری سرکارِ والا تَبار، شفیعِ روزِ شُمار، ر، حبیبِ پروردگارصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں  حاضر ہوتے تھے ایک دن وہ مدینۂ منوّرہ جاتے اور واپس آکر اس دن کی وحی کاحال مجھ کو بتادیتے اور ایک دن میں  جاتا اور آکر اس دن کی وحی کی خبر کا حال ان کو بتلاتا۔ (صَحیح بُخاری ج ۱ ص۵۰حدیث۸۹)

  اللہ عَزَّوَجَلَّکی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

 بڑھاپے میں  علم حاصل کرنے کی فضیلت

          حضر تِ سیِّدُنا قَبِیْصَہ بن مُخارِق رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں  کہ میں  نور کے پیکر، تمام نبیوں  کے سَروَر، دو جہاں  کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ ِ انورمیں  حاضر ہوا تو آپ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمنے مجھ سے فرمایا : ’’اے قبیصہ !کیسے آئے ؟‘‘ میں  نے عرض کی :  ’’میری عمر زیادہ ہوگئی اور ہڈّیاں  نرم پڑ گئیں  ہیں  ، میں  آپ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکی خدمت میں  اس لئے حاضِر ہوا ہوں  کہ آپ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں  جومیرے لئے مفید ہو۔‘‘ تو آپ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :  ’’اے قبیصہ !تم جس پتھّریا درخت کے قریب سے بھی گزرے اس نے تمہارے لئے استِغفارکیا ۔‘‘(مسند اما م احمد ،  الحدیث۲۰۶۲۵ ، ج ۷، ص ۳۵۲ )

علم کی جستجو بھی جہاد ہی ہے

          حضرت ِسیِّدُنا ابودَردَاء رضی اللہ تعالٰی عنہ  فرماتے ہیں  : ’’ علم کا ایک مسئلہ سیکھنا میرے نزدیک پوری رات قیام کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔‘‘ مزید فرماتے ہیں  : ’’ جو یہ کہے کہ علم کی جستجو میں  رہنا جہاد نہیں  اس کی رائے اور عقل ناقص ہے ۔‘‘

(المتجر الرابح فی ثواب العمل الصالح، ص۲۲)

زندگی کے آخری لمحات میں  بھی علم حاصل کیا

          سرکارِ دوعالَم ، نُورِ مُجَسَّم  صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم ایک صَحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے محوِ گفتگو تھے کہ آپ پر وحی آئی کہ اِس صحابی کی زندگی کی ایک ساعت [1]؎    باقی رہ گئی ہے ۔ یہ وقت عَصْر کا تھا ۔ رحمت ِ عالم   صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمنے جب یہ بات اس صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بتائی تو اُنہوں  نے مُضْطَرِب ہوکر اِلْتِجا کی :  ’’یارسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں  بتائیے جو اِس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو۔‘‘ تو آپ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا : ’’  علمِ دین سیکھنے میں  مشغول ہوجاؤ ۔‘‘ چنانچہ وہ صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ علم سیکھنے میں  مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کااِنْتِقال ہوگیا ۔ رَاوِی فرماتے ہیں  کہ اگر عِلْم سے اَفضل کوئی شے ہوتی تو رسولِ



1     حضرتِ علامہ بدرالدین عینی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : ’’ساعت وقت کے ایک مخصوص حصے کا نام ہے البتہ اور معنی بھی مراد ہو سکتے ہیں (1) ڈبل بارہ گھنٹوں  میں  سے کوئی ایک گھنٹہ(2) مجازاً وقت کا غیر معین حصہ(3) موجودہ وقت۔‘‘(شرح  سنن ابی داؤد، ج۴، ص۳۶۳) حضرتِ علامہ علاؤالدِّین حَصکَفِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں  ’’فقہا  کے عرف میں  ساعت سے مراد وقت کا ایک حصہ ہوتا ہے نہ کہ ڈبل بارہ گھنٹوں  میں  سے کوئی ایک گھنٹہ۔‘‘(الدر المختار مع ردالمحتار، ج۳، ص۴۹۹)



Total Pages: 41

Go To