Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

          علم کا ایک باب جسے آدمی سیکھتاہے میرے نزدیک ہزار رکعت نفل پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جب کسی طالب العلم کو علم حاصل کرتے ہو ئے موت آجائے تو وہ شہید ہے ۔(الترغیب والترہیب ، کتا ب العلم ، رقم ۱۶، ج ۱، ص ۵۴)

(5) اچھّی نیّت سے سیکھنا سکھانا

          جو میری اس مسجد میں  صرف بھلائی کی بات سیکھنے یا سکھانے کیلئے آیا تو وہ   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں  جہاد کرنے والے کی طرح ہے اور جو کسی اور نیَّت سے آیا تو وہ غیر کے مال پر نظر رکھنے والے کی طرح ہے۔(سنن ابن ماجہ ، کتا ب العلم ، باب فضل العلماء ، الحدیث۲۲۷، ج ۱، ص ۱۴۹)

(6)اچھی طرح یاد کر کے سکھانے کی فضیلت

           جو کوئی   اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے فرائض سے متعلق ایک یا دو یا تین یا چار یا پانچ کلمات سیکھے اور اسے اچھّی طرح یا د کرلے اور پھر لوگوں  کو سکھائے تووہ جنّت میں ضرور داخل ہوگا ۔حضرت ِسیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں  : ’’ میں  رسولُ اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم سے یہ بات سننے کے بعد کوئی حدیث نہیں  بھولا۔ ‘‘(الترغیب والترہیب، کتاب العلم ، الترغیب فی العلم الخ، رقم۲۰، ج۱، ص۵۴)

(7) ہزار رَکْعتوں  سے بہتر عمل

           تمہاراکسی کو کتابُ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی ایک آیت سکھانے کے لئے جانا تمہارے لئے سو رکعتیں  ادا کرنے سے بہتر ہے اور تمہارا کسی کو علم کا ایک باب سکھانے کے لئے جانا خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہ کیا جائے تمہارے لئے ہزار رکعتیں  اداکرنے سے بہترہے ۔

(سنن ابن ماجہ ، کتاب السنۃ،  الحدیث۲۱۹ ، ج ۱، ص ۱۴۲)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما  کا دانشمندانہ فیصلہ

          حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمافرماتے ہیں  : ’’ جب رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کا وصالِ( ظاہری )ہوا تواس وقت میں  کم سِن تھا۔ میں  نے اپنے ایک ہم عمر اَنصاری سے کہا : ’’چلو اصحابِ رسول اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے علم حاصل کرلیں ، کیونکہ ابھی وہ بہت ہیں ۔‘‘ وہ انصاری کہنے لگے :  ’’ابن عباس! اتنے صحابیوں  کی موجودگی میں  لوگوں  کو بھلا تمہاری کیا ضرورت پڑے گی؟‘‘ چُنانچِہ میں  اکیلا ہی علم حاصل کرنے میں  لگ گیا۔ بارہا ایسا ہوا کہ مجھے پتا چلتا کہ فلاں  صحابی  رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس فلاں  حدیث ہے میں  اُن کے گھر دوڑا  جاتا۔ اگر وہ قیلولے میں (یعنی آرام کر رہے) ہوتے تو میں  اپنی چادر کا تکیہ بنا کر ان کے دروازے پر پڑا رہتا ، گرم ہوا میرے چہرے کو  جھلساتی رہتی ۔ جب وہ صحابی  رضی اللہ تعالٰی عنہ باہر آتے اور مجھے اس حال میں  پاتے تو متاثر ہو کر کہتے : ’’رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کے چچا کے بیٹے! آپ کیا چاہتے ہیں ؟‘‘ میں  کہتا : ’’ سنا ہے آپ رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی فلاں  حدیث روایت کرتے ہیں ، اسی کی طلب میں  حاضر ہوا ہوں ۔‘‘ وہ کہتے : ’’آپ نے کسی کو بھیج کر مجھے بُلوا لیا ہوتا ۔‘‘ میں  جواب دیتا :

’’ نہیں ، اس کام کے لیے خود مجھے ہی آنا چاہیے تھا۔ ‘‘اس کے بعد یہ ہوا کہ جب اصحابِ رسول  رضی اللہ تعالٰی عنہم دنیا سے رخصت ہو گئے تووہی اَنصاری جب دیکھتے کہ لوگوں  کو میری کیسی ضرورت ہے تو حسرت سے کہتے : ’’ابنِ عباس! تم مجھ سے زیادہ عقل مند تھے۔‘‘

(سُنَنُ الدَّارَمِی ج۱ ص۱۵۰ حدیث۵۷۰ )

اللہ عَزَّوَجَلَّکی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

 



Total Pages: 41

Go To