Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

ج۱، ص۶۲۳ ، ملخصًا)

 (۲) مِسواک کی لمبائی ایک بالِشت ہو جبکہ موٹائی چُھنگلیا(یعنی ہاتھ کی چھوٹی اُنگلی) جتنی، (بہار شریعت، ج۱، حصّہ۲، ص۲۹۴)اُسکے ریشے ایک ہی طرف بنائے جائیں ۔

 (۳)  مِسواک کو اس طرح پکڑئیے کہ چُھنگلیا اُس کے نیچے کی طرف اور انگوٹھا بھی نیچے کی جانب، مِسواک کا سِرا اور تین انگلیاں اُوپر کی جانب ہوں ، پہلے مِسواک کے رَیشے دھو لیجئے اور اُوپر کے دانتوں  کی دائیں طرف مانجھئے ، اِس کے بعد بائیں  طرف پھر نیچے کے دانتوں  کو دائیں  طرف ، آخر میں نیچے ہی کے دانتوں  کو بائیں  طرف مانجھئے، اِس طرح تین بار مِسواک کیجئے ہر بار مِسواک کو دھو لیجئے ۔ اِستعمال کے بعد مِسواک اِس طرح رکھئے کہ اِس کا ریشے والا حصہ اُوپر کی طرف ہو۔(بہار شریعت، ج۱، حصّہ۲، ص۲۹۴ ملخصا)  مِسواک لٹا کر رکھنے سے جُنون یعنی (پاگل پن )ہونے کا اندیشہ ہے ۔‘‘ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطہارت، مطلب فی دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۵۱)وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ سَلَّمَ

مَدَنی مشورہ : مِسواک کے بارے میں  مزید شرعی معلومات اور سائنسی حکمتیں جاننے کے لئے  دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32صَفحات پر مشتمل رِسالے’’  وُضو اور سائنس ‘‘ کا ضرور مطالعہ فرمالیجئے۔ بشمول اِس رسالے کے مکتبۃ المدینہ کے دیگر رسائل ، کتب ، کیسٹیں  اور V.C.DS. دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net پر پڑھے اور حاصِل کئے جا سکتے ہیں  ۔

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4) حاملہ گائے کی قربانی

سوال : کیا فرماتے ہیں  علماء ِدین و مفتیانِ شرعِ متینکَثَّرَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناِس مسئلے میں  کہ زید نے قربانی کی نیّت سے گائے خریدی جب گھر لایا تو لوگوں  نے کہا کہ اسکے پیٹ میں  بچّہ ہے اسکی قربانی نہیں  ہوگی، تو ارشاد فرمایا جائے کیا واقعی ایسا ہے کہ قربانی نہیں  ہوگی، زید کو کیا کرنا چاہیے؟

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                                                                  

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط 

 اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَالْحَقِّ وَالصَّوَابِ

          صورتِ مسؤلہ (یعنی پوچھی گئی صورت)میں زید کی قربانی درست ہے، کیونکہ گائے یا بکری کے پیٹ میں  بچہ ہونا قربانی کیلئے مُضِر (یعنی نقصان دہ)نہیں  ، بلکہ اگر زید فقیر ہے اور اس نے قربانی کی نیّت سے گائے خریدی تھی تب تو اسکے لئے اسی گائے کی قربانی کرنا واجب ہوگیاجیسا کہ تنویر الابصار مع در مختار میں  ہے : ’’وَلَوْ ضَلَّتْ اَوْ سُرِقَتْ فَشَرٰی اُخْرٰی فَظَھَرَتْ فَعَلَی الْغَنِیِّ اِحْدَاھُمَا وَعَلَی الْفَقِیْرِ کِلَاھُمَایعنی اگر (قربانی کا جانور)کھو گیا یا چوری ہوگیا اور اس نے دوسرا جانور خرید لیا پھر بعد میں  وہ جانور مل گیا تو غنی کو اختیار ہے کہ دونوں  میں  کسی ایک جانورکو ذبح کرے اور فقیر پر دونوں  جانوروں  کی قربانی کرنا لازم ہے ۔(کیونکہ فقیر پر وہ جانور خریدنے کی وجہ سے اسی جانور کو ذبح کرنا واجب ہوگیا تھا )   

( رد المحتار علی الدر المختارج۹ ص۵۳۹دار المعرفہ بیروت)

          اسی طرح صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں  ’’فقیر نے قربانی کیلئے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے ‘‘(بہار شریعت ج۳ حصہ ۱۵ص۱۳۱مکتبہ رضویہ باب المدینہ کراچی)ہاں ! زیداگر غنی ہے اور



Total Pages: 41

Go To