Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

ہمیں  اتّحاد کی دولت سے مالامال رکھ،  یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمارے عُلماء ومشائخ کا سایۂ عاطِفت ہمارے سروں  پر درازفرما، یااللہ عَزَّوَجَلَّ!جوسُنّی جہاں ، جس انداز میں  شریعت کے دائرے میں رہ کر تیرے دین کی خدمت کر رہا ہے اُس کو کامیابی عنایت فرما، یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! جو کام اپنی رِضا کاہواُس پر ہمیں  استِقامت عنایت فرما، یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں  مسلمانوں کی پردہ پوشی کا ذِہن دیدے، یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ہماری ذات سے کبھی بھی اسلام کو نقصان نہ ہو، یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں  بے جا سختی کرنے سے بچا کر نرمی کی نعمت سے مالا مال فرما،  یااللہ عَزَّوَجَلَّ!ہماری بے حساب مغفرت فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    وہ بعض جوابات جوامیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے جامعۃ المدینہ کے ’’تَخَصُّص فِی الْفِقْہ(مفتی کورس)‘‘کے طَلَبہ کے اصرار پر لکھوائے [1]؎

(1) بوقتِ قربانی جانور کا عیب دار ہوجانا

سوال : کیا فرماتے ہیں  علماء ِدین و مفتیانِ شرعِ متینکَثَّرَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناِس مسئلے میں  کہ قربانی کے دنوں  میں  قربانی کے جانور میں  ذَبح کی کاروائی کے دوران ایسا عیب پیدا ہو گیا جو کہ مانِع قربانی (یعنی قربانی میں  رُکاوٹ)ہے تو کیا کرے ، کیا دوسرا جانور لانا ہو گا ؟

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                                                                       

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط                                                                                                              

 اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَالْحَقِّ وَالصَّوَابِ

          صورتِ مَسؤلَہ (یعنی پوچھی گئی صورت )میں اگر جانور کو فوراً ذَبح کر دیا گیا تو قربانی ہو گئی جیسا کہصدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللہ القویبہارِ شریعت حصہ 15 صفحہ141میں  دُرِّمختار کے حوالے سے رقم ( یعنی تحریر) فرماتے ہیں : ’’ قربانی کرتے وقت جانور اُچھلا کودا جسکی وجہ سے عیب پیدا ہو گیا یہ عیب مُضِر(یعنی نقصان دہ) نہیں  یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اُچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہو گیا اور وہ چُھوٹ کر بھاگ گیا اور فورا پکڑ کر لایا گیا اور ذَبح کر دیا گیا جب بھی قر بانی ہو جائے گی ۔ ‘‘(بہار شریعت حصہ ۱۵ ص۱۴۱ مکتبہ رضویہ باب المدینہ کراچی)

حضرتِ علامہ علاؤالدِّین حَصکَفِیعلیہ رحمۃ اللہ القوی دُرِّمختار میں  فرماتے ہیں : ’’وَلَایَضُرُّتَعِیْبُھَا مِنْ اِضْطَرَابِھَا عِنْدَالذَّبْحِیعنی قربانی کرتے وقت جانور اُچھلا کودا اور عیب پیدا ہو گیا تو مُضِر نہیں  ۔‘‘اِسی کی شر ح میں  حضرتِ علّامہ ابنِ عابِدِین شامی قدس سرہ السامی  فر ماتے ہیں : ’’وَکَذَا لَوْ تَعِیْبَتْ فِیْ ھٰذِہٖ الْحَالَۃِ اَوِانْفَلَتَتْ ثُمَّ اُخِذَتْ مِنْ فَوْرِھَایعنی اسی طرح اگر اس حالت (وقت قربانی اچھلتے کودتے ) عیب دار ہو ا یا بھاگ گیا اور فورا پکڑ کر لایاگیا اور ذبح کر دیا گیا قر بانی ہو جائے گی۔ ‘‘  ( رد المحتار علی الدر المختارج۹ ص۵۳۹دار المعرفۃ بیروت)

وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ سَلَّمَ

 مَدَنی مشورہ : قربانی کے بارے میں  مزید شرعی معلومات حاصل کرنے کیلئے بہارِ شریعت حصہ 15 سے ’’قربانی کابیان‘‘ نیز دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کے مطبوعہ32صَفحات پر مشتمل رسالے ’’اَبلَق گھوڑے سوار‘‘کا مطالعہ فرمائیے۔

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(2)  قبرکو برابر کرنا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں  علماء ِدین و مفتیانِ شرعِ متینکَثَّرَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناِس مسئلے میں  ہماری مسجد میں  جگہ کی کمی ہے مسجد سے متصل(یعنی ملی ہوئی)



 1    اِن میں  ضرورتاً ترمیم واضافہ اور روایات کی تخریج کی گئی ہے ۔۔۔(علمیہ)

 



Total Pages: 41

Go To