Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

بجائے مزید اُلَجھ کر رَہ جاتا ہے، اپنی ہی وَحدت پارہ پارہ ہوتی ، آپس میں  گروپ بن جاتے اور نتیجۃً غیبتوں ، چغلیوں ، بدگمانیوں ، تہمتوں ، دل آزاریوں ، عیب دریوں  وغیرہ وغیرہ گناہوں  کے دروازے کُھل جاتے ہیں  ، عوام النّاسمُتَنَفِّرہوتے اورپھردین کے کاموں  کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ جس کے دل میں  کما حقُّہٗ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ ہو گا اِن شاءَ اللہُ الْقَدیرعَزَّوَجَلَّ وہ سگِ مدینہ عفی عنہ کامافِی الضَّمیرسمجھ چکا ہو گا۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سےمروی ہے کہ ’’ رَأْسُ الْحِکْمَۃِ مَخَافَۃُ اللہ‘‘ یعنی’’ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ حکمت کا سر ہے۔‘‘  (شعب الایمان، ج۱، ص۴۷۰، الحدیث۷۴۳)

سگِ مدینہ پر بے جا اعتِراضات اور حکمتِ عَمَلی کی بَرَکات

(125)دعوتِ اسلامی کا جب سے پَودا نکلا ہے تب سے سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہ کو ’’غیروں ‘‘ کے علاوہ ’’اپنوں ‘‘ کی طرف سے بھی تقریرات، تحریرات و اشتہارات کے ذَرِیعے وارِد کردہ اعتِراضات کا سامنا ہے مگر سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہُ  سے آپ نے کسی سُنّی کے خلاف کبھی مائک پر کچھ سنا ہو گا نہ اس ضمن میں  کوئی رسالہ یا اشتہار یا ہینڈ بل ہی پڑھا ہو گا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّسگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ کی یہی کوشِش رہی ہے کہ جوابی کاروائی نہ تحریری کرنی ہے نہ تقریری کہ اپنوں  سے صُلْح ہو بھی گئی تب بھی ’’غیروں  ‘‘ کے ہاتھ آئی ہوئی اصل آواز کی کیسٹ یا’’دستاویز‘‘ مسلکِ اہلسنّت کے خلاف استِعمال ہوتی رہے گی۔ البتَّہ کبھی کبھی عِندَ الضَّرورت مُثْبَت انداز میں  وَضاحت کی سعادت ضَرور حاصِل کی ہے ۔ ہاں  مُراسَلَت کے ذَرِیعے وَضاحتوں  وغیرہ سے کتراتا رہا ہوں کہ یہ بھی طبع ہو سکتے، بات کا بتنگڑ بن سکتا اور’’دشمن‘‘ کو مواد ہاتھ آسکتا ہے ، لکھنے میں  بھی کچھ نہ کچھ کمی رہ سکتی ہے یہاں  حالت یہ ہے کہ ’’ دوست‘‘ ہی چشم پوشی کا حوصلہ نہیں  رکھتے اور ’’دشمن‘‘ سے کسی قسم کی بھلائی کی توقُّع رکھنا تو ویسے ہی حماقت ہے۔جب کبھی کسی شَرعی مسئلے میں  تَسامُح کی نشاندہی کی گئی ،  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ    سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ نے اِزالے کی بھر پورکوشِش کی ہے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات کے گواہ بَہُت ملیں  گے مگرمحض نفسانیَّت کی وجہ سے کبھی بے جاضِد کی ہو اِس کا گو اہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ڈھونڈنے سے بھی نہیں  ملے گا۔جب کسی تنظیمی مُعامَلے یا طریقۂ کار پر کوئی معقول اعتِراض ہوامگر اپنی تائید میں  بھی جیَّد عُلَما پائے تو شریعت کے دائرے میں  رہتے ہوئے اُمّت کی بھلائی پر مشتمل دین کے مَدَنی کاموں  میں  آسانی والے حکم پر عمل کی سعی رہی ہے ۔ اس کو بے جا ضد کہنا انصاف نہیں  اِسے حکمتِ عملی کانام دینا چاہئے۔یَسِّرُوْْاوَلَا تُعَسِّرُوْایعنی ’’لوگوں  کو آسانیاں  دو دشواریوں  میں  مت ڈالو۔‘‘(صحیح بخاری، کتاب العلم، ج۱ ص۴۲، الحدیث۶۹) اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ کے مُثبت انداز کے نتیجے میں  بے شماروہ عُلماء ومشائخِ اہلسنّت جو کل تک عدمِ اطمینان کاشکار تھے، آج بڑھ چڑھ کر دعوتِ اسلامی کے حامیٔ کار ہیں ، جنہوں  نے اپنی مساجِد میں سنّتوں  بھرے بیانات کرنے سے سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ کو روکا ، نکالا، آج چشم براہ ہیں ۔بَہَر حال رِضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی منزِل پانے کیلئے فیضانِ غوث ورضا کے ذَرِیعے دامنِ مصطَفٰیصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمتھامے ، سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ کے سفر کا سلسلہ جاری رہا، پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتوں  ، میٹھے مصطَفٰیصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی عنایتوں ، عُلماء ومشائخِ اہلسنّت کی حمایتوں  اور عام سنّیوں  کی بھر پور اِعانتوں  سے ’’دعوتِ اسلامی ‘‘کا ننّھا سا  پودا دیکھتے ہی دیکھتے تناوَر درخت بن گیا اور تادمِ تحریر دنیا کے تقریباً 72 ممالِک میں  اِس کا پیغام پہنچ چکاہے ۔ اگر سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ بے جا تحریری و تقریری جنگ میں  ’’ اپنوں ‘‘ ہی پر اپنا وَقت صَرف کر دیتا تو کیااس طرح کرکے ان کے دلوں  میں  جگہ بنا پاتا !کیا پھر بھی وُہی مذکورہ مثبت(مُثْ۔بَت) نتائج نکلتے !حاشاثُمَّ حاشا 

ع ایں  خیال است ومُحال اَست و جُنوں

          یاربِّ محمّدعَزَوَّجَلَّ ! ہمیں  مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استِقامت بخش، ہماری صَفوں  کو افتِراق و انتِشار سے بچا،  یااللہعَزَوَّجَلَّ !



Total Pages: 41

Go To