Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

رازی، سورۃ ابراہیم، تحت آیت۱۱، ج۷، ص۷۵)

(120)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی سب سے بدترین آفت ہے۔

 

فردِ مخصوص اور ادارے کے بارے میں  احتیاط

(121)کسی شخصِ مُعَیَّن یا اِدارے کے بارے میں مَنفی نوعیّت کا سُوال آئے تو مسؤلہ ( یعنی جس کے بارے میں سوال کیا گیا) کے بارے میں  نام لیکر جواب لکھ کر دے دینا سخت فِتنے کاباعِث ہو سکتا ہے اور یوں  بھی یکطرفہ سُن کر حَتمی رائے قائم نہیں  کی جاسکتی بلکہ فریقَین کی سُن کر بھی ایسے موقع پر لکھ کر جوابات دینے سے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے اور ویسے بھی  فتویٰ لکھ کر دینا مفتی پرواجِب نہیں  ۔

اشارے سے بھی مخالَفت میں  احتیاط

(122)جب تک شرعاً واجِب نہ ہو جائے کسی سُنّی کے خلاف کِنایَۃً (یعنی اشارے میں  بھی) کچھ لکھ کر مت دیجئے بلکہ اشاروں  میں  بولئے بھی نہیں ، آپ عالم ہیں ، اپنے عظیم منصب کے پیشِ نظر آپ کوخوامخواہ مُتَنازِعہ شخصیّت نہیں  بننا چاہئے کہ کِنایہ (اشارہ)بھی عام طور پر لوگ سمجھ ہی جاتے ہیں  بلکہ مقولہ ہے :  اَلْکِنَایَۃُ اَبْلَغُ مِنَ الصَّرِیح یعنی کِنایہ صریح( واضِح) سے بھی بڑھ کر بَلیغ(یعنی کامِل) ہے۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب فضائل القرآن، ج۴ص۶۸۷)

ہر مخالَفت کا جواب مَدَنی کام!

(123)بِالفرض کوئی مسلمان آپ کی بے سبب بھی مخالَفت کرے تو بھی آپ بِلا ضرورتِ شرعی جوابی کاروائی سے باز رہئے، آپ جواب دیں  اورعین ممکن ہے کہ   اَلْاِنْسا نُ حَرِیْصٌ فِیْما مُنِعَ ’’ یعنی انسان اس بات کا حریص ہو تا ہے جس سے اسے روکا جائے‘‘ ( تفسیر رازی، سورۂ النور، تحت آیت ۲، ج۸، ص۳۰۴)کے مِصداق مخالِف ’’جوابُ الْجواب‘‘کی ترکیب کرے اور یوں  آپ مزید مُشتَعِل ہو کر کرنے کے کاموں سے محروم ہوکر نہ کرنے کے کاموں  میں  جا پڑیں  اور نفس و شیطان کی چال میں  پھنس کر غیبتوں  ، چُغلیوں  ، بدگمانیوں  ، عیب دریوں  اور دل آزاریوں  جیسے کبیرہ گناہوں  کے دَلدل میں دھنستے چلے جائیں ۔برائے کرم! ہر مخالَفَت کا جواب فَقَط مَدَنی کام سے دیجئے ۔ مخالَفَت کی جتنی زیادہ شدّت ہو مَدَنی کام میں  اُتنی ہی زیادت ہو۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّمخالِف جلد ہی تھک ہار کر چُپ ہو جائے گا۔

عُلَماء کی خدمات میں  دست بستہ مَدَنی التِجاء

(124)  جب تک شرعاً واجِب نہ ہو جائے اُس وقت تک عُلماء و مشائخِ اہلسنّت کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے، ماہناموں ، اشتہاروں  اور اخباروں وغیرہ میں  ایک دوسرے کے خلاف نہ لکھا جائے ورنہ عُیوب سے پردے اُٹھیں  گے، پوشیدہ راز کُھلیں  گے، اپنے ہی ہاتھوں  اپنوں  کی آبروئیں  پامال ہوں  گی اور لوگ ہنسیں  گے، ’’دشمن‘‘آپ کی تحریریں  محفوظ کریں  گے، آپ ہی کی طرف سے آپ پر وار کرنے کیلئے گویا ہتھیار ’’دشمن‘‘ کے ہاتھ آئیں  گے ۔یادرکھئے! اَلْخَطُّ بَاقٍ وَ الْعُمرُفانٍیعنی’’ تحریر (تادیر)باقی رہے گی اور عمر(جلد) فنا ہو جائے گی۔‘‘ آپ کے انتِقال کے بعد بلکہ ہو سکتا ہے آپ کے جیتے جی ہی ’’دشمن ‘‘ آپ کی تحریروں  کے ذَرِیعے آپ کے پیارے پیارے مَسلک یعنی مَسلکِ اعلیٰ حضرت کو نقصان پہنچائے ۔ کسی سُنّی عالم سے آپ کواگر بِلا وجہ بھی کوئی تکلیف پہنچ جائے تب بھی دل بڑا رکھئے، صبر وتحمُّل سے کام لیجئے، اِس حدیثِ پاک :  مَنْ سَتَرَ مُسْلِماً سَتَرَہُ اللہ یعنی ’’جو مسلمان کی عیب پوشی کریگااللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے عیب چھپائے گا‘‘(سنن ابن ماجہ، کتاب الحدود، باب الستر علی المؤمن، ج۳ص۲۱۸) پر عمل کرتے ہوئے ، فِتنہ دبانے اور گناہوں  کا سدِّ باب فرمانے کی اچّھی اچّھی نیّتیں  کر کے اس پر مضبوط رہتے ہوئے اَوروں  پر اظہار کئے بِغیرضَرورتاً براہِ راست اُسی سے اِفہام وتَفہِیم کی ترکیب بنایئے مسئلہ حل نہ ہواور شریعت اجازت دیتی ہوتو خاموشی اختیار فرمایئے ۔ ہرگز اجلاسوں  اور جلسوں  وغیرہ میں  اُس کی غلطی کو بیان کرنے کی ’’غلطی ‘‘مت کیجئے کہ اس طرح بسا اوقات ضد پیدا ہوجاتی اورمسئلہ سُلَجھنے کے



Total Pages: 41

Go To