Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

نمبر 221 تا223 ملاحَظہ فرمایئے۔

(110)ایسی بات مت کیجئے کہ چہ مگوئیاں  ہوں  اور لوگوں  کو خوامخواہ کوئی موضوعِ بحث ہاتھ آئے ۔ ’’ حدیثِ پاک میں  ہے : اِیَّاکَ وَمَایَسُوْءُ الْاُذُنَ‘‘ یعنی بچ اُس بات سے جو کان کو بری لگے۔(کشف الخفاء، ج۱، ص۲۴۷، الحدیث۸۶۶ ، فتاوٰی رضویہ ج ۲۰ص۲۸۹)

بچّہ بھی اِصلاح کی بات کہے تو قبول کر لیجئے

(111) ہٹ دھرمی کا عادی کہ اِس خصلتِ بد کے سبب لوگ جس سے اصلاح کی بات کرنے سے کترائیں  اُس کیلئے ہلاکت کا شدید اندیشہ ہے۔خدا را!اپنے آپ کو صرف زبانی کلامی نہیں ، قلبی طور پر عاجِزی کاخُوگر بنایئے اور خود کواس بات کیلئے ہمیشہ تیار رکھئے کہ اگر بچّہ بھی اصلاح کی بات کرے گا تو قَبول کروں  گا۔حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن اَشعَث رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا بیان ہے :  میں  نے حضرتِ سیِّدُنافُضیل بن عیاضرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے عاجزی کے معنیٰ پوچھے تو فرمایا :   عاجِزی یہ ہے کہ تم حق کے لئے  جھکے رہو، جاہل سے بھی حق سنو، فوراً قَبو ل کرلو۔ ( جامع بیان العلم و فضلہ، ص ۲۰۱) نفس کو اِصلاح کی بات عُمُوماًناگوار گزرتی ہے مگر اپنے کسی قول یا فِعل سے اِس ناگواری کا اِظہار مت ہونے دیجئے۔(یاد رہے! غیر عالم کو عالمِ دین پر اعتِراض کرنے کی شرعاً اجازت نہیں )

علمِ نیَّت عظیم عِلْم ہے

(112)علم ِنیّت بظاہِربہت آسان لگتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں  ، اِسے سیکھنے کیلئے بَہُت کوشش کرنی ہو گی ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت فرماتے ہیں : ’’علمِ نیّت ایک عظیم واسع علم ہے جسے عُلَمائے ماہِرین ہی جانتے ہیں ۔‘‘(فتاوٰی رضویہ  مُخرجَّہ ج۸ ص ۹۸)

(113)خود بھی گناہوں  سے بچئے اور دیگر مسلمانوں  کو بھی گناہوں  سے بچانے کے لئے کوشاں  رہئے ۔

(114)ہم سبق طلبہ بلکہ ہر مسلمان کی تذلیل و تحقیر، آبروریزی اورغیبت وغیرہ سے ہمیشہ بچتے رہئے۔ اپنے آپ کو محض دکھاوے کی خاطر زَبانی کلامی ہی نہیں دلی طور پر سب سے بُرا اور گنہگار تصوُّر کیجئے۔

اپنے پیچھے لوگوں  کو چلانے کی مَذَمّت

(115)حُسنِ اَخلاق کے ذَرِیعے عام مسلمانوں کو اپنے قریب کیجئے مگر اپنی شخصیَّت کا سکّہ جمانے اور صرف اپنے گرد مُتأَثِّرینکا جمگھٹالگانے کے بجا ئے دعوتِ اسلامی کی مَحَبَّت پلایئے اور انہیں  مَدنی قافِلوں  کا مسافِر بنایئے، اس سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ                      دین کا بَہُت فائدہ ہوگا۔لوگ جس کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلیں ، عقیدت سے ہُجوم کریں  اس کا حُبِّ جاہ ، ’’میں  میں  ‘‘اور’’اپنے آپ کو کچھ سمجھنے‘‘ والی مذموم صفات سے بچنا بے حد دشوار ہے ۔

 (116)ہردُنیوی نعمت کے ساتھ زَحمت ضَرورہوتی ہے اور نعمت جتنی بڑی اُتنی ہی زَحمت بھی بڑی۔

(117)جوقناعت کرے گا اِن شاءَ اللہُ الغفّارعَزَّوَجَلَّ  خوشگوار زندگی گزارے گا۔ دل میں دنیا کی حِرص جتنی زیادہ ہو گی اُتنی ہی زندگی میں  بدمزگی بڑھے گی۔اَلْحِرصُ مِفْتاحُ الذُّلِّ یعنی حِرص ، ذلّت کی کنجی ہے۔

(118)قَناعت انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی عظیم الشان صِفَت ہے۔ کاش! اس کا کوئی آدھا ذرّہ ہی ہمیں  نصیب ہو جاتا!اور یوں  ہم دنیا و آخِرت کی راحت کا سامان پا لیتے ۔اَلْقَنَاعَۃُ مِفْتاحُ الرَّاحَۃِ یعنی قناعت ، راحت کی کنجی ہے۔

(119)قناعت یہ ہے کہ جوتھوڑا سامل جائے اُسی کو کافی سمجھے ، اُسی پر صَبْر کرے۔اَلصَّبْرُ مِفْتَاحُ الْفَرَجِ یعنی صبر ، کُشادَگی کی کنجی ہے۔( تفسیر



Total Pages: 41

Go To