Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

(۱۷) مقولہ ہے :  اَلسَّبَقُ حَرْفٌ وَ التَّکْرَارُ اَلْفٌ یعنی سبق ایک حرف ہو اور تکرار (یعنی دُہرائی ) ایک ہزار بار ہونی چاہئے۔

(۱۸) جو بھلائی کی باتیں  پڑھی ہیں  ثواب کی نیّت سے دوسروں  کو بتاتے رہئے ، اس طرح  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو یاد ہو جائیں  گی۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(99)اگر کوئی بات خوب غَوروخَوض کے بعد بھی سمجھ میں نہ آئے تو کسی اہلِ علم سے بے جھجھک پوچھ لیجئے کہ علم کی بات پوچھنے میں  شرم اور جھجھک مفتی بننے کے راستے میں  بہت بڑی دیوار ہے ۔

مَدَنی مذاکرے کی فضیلت

          امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے :  ’’علم خزانہ ہے اور سُوال کرنا اس کی چابی ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ  تم پر رحم فرمائے سُوال کیا کرو کیونکہ اس (یعنی سوال کرنے کی صورت ) میں  چار افراد کو ثواب دیا جاتا ہے۔سُوال کرنے والے کو ، جواب دینے والے کو، سننے والے اوران سے مُحَبَّت کرنے والے کو۔‘‘ (الفردوس بماثور الخطاب، الحدیث۴۰۱۱ج۲، ص۸۰)

    ساری رات عبادت سے افضل ہے

(100)دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 304 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصہ 16 صَفْحَہ 272پرہے : گھڑی بھر علم دین کے مسائل میں  مذاکرہ اور گفتگو کرنا ساری رات عبادت کرنے سے افضل ہے۔

(الدرالمختاروردالمحتار، ج۹، ص۶۷۲)

جو زیادہ بولے گا زیادہ غَلَطیاں  کرے گا

(101)بولنے میں حُرُوف نہیں  چَبنے چاہئیں ، صاف صاف بولنے کی مشق کیجئے ، مگر جب بھی بولئے اچّھا بولئے ، فالتو بک بک کرتے رہنا اور زور زور سے قہقہے بلند کرنا آخِرت میں  بھلائی نہیں  دلا سکتا نیز لوگوں  پر بھی اس کا غَلَط تَأَثُّرقائم ہوتا ہے ۔ بے شک خاموشی عالم کا وقار اور جاہِل کا پردہ ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا قول ہے :  شیطان پر عاقل(عقلمند) عالم سے زیادہ سخت کوئی نہیں ، اِس لئے کہ عالم بولتاہے تو عِلم کے ساتھ بولتا ہے ، چُپ ہوتا ہے توعَقل کے ساتھ چُپ ہوتا ہے، آخِر شیطان جُھنجُھلا کر کہہ اٹھتا ہے :  ’’ دیکھو تو! مجھ پر اس کی گفتگو اس کی خاموشی سے بھی زیادہ شاق(یعنی دشوار) ہوتی ہے!‘‘(جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۱۷۱)تابعی بُزُرگ حضرت سیِّدُناا بن ابی حبیب علیہ رحمۃ اللہ المجیبفرماتے ہیں : عالم کے لئے یہ فتنہ ہے کہ سننے سے زیادہ اسے بولنے کی عادت ہو، حالانکہ سننے میں  سلامتی ہے اور علم کی اَفزونی(یعنی زیادتی) ۔سننے والا، فائدے میں  بولنے والے کاشریک ہوتا ہے۔(سننا اچھا ہے کیوں  کہ) بولنے میں (عُموماً) کمزوری ، بناوٹ اور کمی بیشی ہوتی ہے۔ (ایضًا، ص ۱۹۱)حدیثِ پاک میں  ہے : مَنْ کَثُرَکَلَامُہٗ کثُرَ سَقَطُہٗ یعنی ’’جوزیادہ بولے گا وہ زیادہ غلطیاں  کریگا۔‘‘(المعجم الاوسط، باب المیم من اسمہ محمد، ج۵  ، ص ۴۸، الحدیث۶۵۴۱)سنجیدَگی کی سعی فرمایئے، مذاق مسخری سے مُجتَنِب(یعنی دور) رہئے کہ مَن کَثُرَ مِزَاحُہٗ زَالَتْ ہَیْبَتُہٗ  یعنی ’’جوزیادہ ہنسی مذاق کریگا اُس کی ہیبت جاتی رہے گی۔‘‘

مفتیٔ دعوت اسلامی نے خواب میں  بتایا کہ…

          مفتیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مفتی محمد فاروق عطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے وِصال کے تین برس سات ماہ اور دس دن کے بعد شدید برسات کے سبب جب قبر کھلی تو عینی شاہدین کے بیان کے مطابق خوشبوئیں ، سبز روشنی کے علاوہ جسمِ مبارک کو ترو تازہ دیکھا گیا۔اس واقِعہ کی خوب دھوم پڑی اور مَدَنی چینل پر بھی اس کے مناظر دکھائے گئے جس کی تفصیلات دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃالمدینہ



Total Pages: 41

Go To