Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

بیٹھنے

    کا عادی تھا، چُنانچِہ تمام عُلَماء و فُقَہاءِ کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام اِس بات پرمُتَّفِق ہوئے کہ یہ خوش نصیب اِستِقبالِ قِبلہ(یعنی قبلہ کی طرف رُخ کرنے) کے اِہْتِمام کی بَرَکت سے فَقِیہ بنے ہیں کیوں  کہ بیٹھتے وقْت کَعْبۃُاللہ شریف کی سَمْت مُنہ رکھنا سنّت ہے۔

 (تعلیم المتعلّم طریق العلم ص ۶۷)

(۴صُبْح کے وقت مُطالَعہ کرنابَہُت مُفِید ہے کیونکہ عُمُوماًاِس وَقت نیند کا غَلَبَہ نہیں  ہوتا اورذِہن زیادہ کام کرتا ہے ۔

(۵شوروغُل سے دُورپُر سکون جگہ پر بیٹھ کر مطالعہ کیجئے ۔

(۶اگر جلد بازی یا ٹینشن (یعنی پریشانی)کی حالت میں  پڑھیں  گے مثلاً کوئی آپ کو پُکاررہا ہے اور آپ پڑھے جارہے ہیں  ، یا اِستنجاء کی حاجت ہے اور آپ مسلسل مُطالَعَہ کئے جارہے ہیں ، ایسے وقت میں  آپ کا ذہن کام نہیں  کرے گا اور غلط فہمی کا اِمکان بڑھ جائے گا ۔

(۷) کسی بھی ایسے انداز پر جس سے آنکھوں  پر زور پڑے مَثَلاً بَہُت مدھم یا زیادہ تیز روشنی میں  یا چلتے چلتے یا چلتی گاڑی میں یا لیٹے لیٹے یا کتاب پر جُھک کر مُطالَعَہ کرنا آنکھوں کے لیے مُضِر (یعنی نقصان دہ)ہے ۔بلکہ کتاب پر خوب جھک کر مُطالعہ کرنے یا لکھنے سے آنکھوں  کے نقصان کے ساتھ ساتھ کمر اور پھیپھڑے کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں  ۔

(۸کوشش کیجئے کہ روشنی اُوپر کی جانب سے آرہی ہو ، پچھلی طرف سے آنے میں  بھی حرج نہیں جبکہ تحریر پر سایہ نہ پڑتا ہو مگر سامنے سے آنا آنکھوں  کے لئے نقصان دہ ہے ۔

(۹)مُطَالَعَہ کرتے وقت ذِہن حاضِر اورطبیعت تَروتازہ ہونی چاہئے۔

(۱۰) وقتِ مُطالَعَہ ضَرورتاً قلم ہاتھ میں  رکھنا چاہئے کہ جہاں  آپ کو کوئی بات پسند آئے یا کوئی ایسا جملہ یا مسئلہ جس کی آپ کو بعد میں  ضَرورت پڑ سکتی ہو ، ذاتی کتاب ہونے کی صورت میں  اسے انڈر لائن کرسکیں  ۔

(۱۱کتاب کے شُروع میں  عُمُوماً دو ایک خالی کاغذ ہوتے ہیں  ، اس پر یادداشت لکھتے رہئے یعنی اشارۃًچند الفاظ لکھ کر اس کے سامنے صَفْحہ نمبر لکھ لیجئے ۔  اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ اکثر کتابوں  کے شروع میں  یادداشت کے صفحات لگائے جاتے ہیں  ۔

(۱۲مشکِل الفاظ پر بھی نشانات لگا لیجئے اور کسی جاننے والے سے دریافت کر لیجئے ۔

(۱۳صرف آنکھوں  سے نہیں  زبان سے بھی پڑھئے کہ اس طرح یاد رکھنا زیادہ آسان ہے ۔

(۱۴وقفے وقفے سے آنکھوں  اور گردن کی ورزش کر لیجئے کیونکہ کافی دیر تک مسلسل ایک ہی جگہ دیکھتے رہنے سے آنکھیں  تھک جاتیں  اور بعض اوقات گردن بھی دُکھ جاتی ہے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آنکھوں  کو دائیں  بائیں ، اوپر نیچے گھمائیے۔اسی طرح گردن کو بھی آہستہ آہستہ حرکت دیجئے۔

(۱۵اسی طرح کچھ دیر مُطالَعَہ کر کے دُرود شریف پڑھنا شروع کردیجئے اور جب آنکھوں  وغیرہ کوکچھ آرام مل جائے تو پھرمُطالَعَہ شروع کر دیجئے۔

(۱۶) ایک بار کے مُطالَعے سے سارا مضمون یاد رہ جانا بَہُت دُشوار ہے کہ فی زمانہ ہاضمے بھی کمزوراور حافِظے بھی کمزور ! لہٰذا دینی کتب ورسائل کا بار بارمُطالَعَہ کیجئے ۔

 



Total Pages: 41

Go To