Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

 

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                                                                    

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط 

حمد و صلٰوۃ  کی فضیلت

        مصطفٰے جانِ رحَمت، شمعِ بزمِ ہدایتصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ بابرکت ہے : ’’جس کام سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد نہ کی گئی اور مجھ پر دُرُودنہ پڑھا گیا اُس میں  بَرَکت نہیں  ہوتی۔‘‘ (کنز العمال، کتاب  الاذکار، ج۱، ص۲۷۹ ، الحدیث۲۵۰۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

تمام مسلمانوں  کیلئے مَدَ نی خوشبوئیں

          پندرہویں  صدی کی عظیم علمی وروحانی شخصیت شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضَوی دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہسے ۱۴۲۹ ھ کے اواخِرمیں  کچھ روز کیلئے جامعۃ المدینہ (فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی) میں  ہونے والے  تَخَصُّص فِی الْفِقْہ(فقہ میں  مہارت کا کورس)کے طَلَبہ کی تربیت کیلئے وَقت لیا گیا چُنانچِہ کئی روز تک طَلَبہ آپ دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی بارگاہ میں  حاضِر ہوتے رہے، ان کو اِستفتاء اِملا کرواتے ، دوسرے دن طَلَبہ جواب  لکھ کر لاتے ، ان میں  سے بعض اپنی تحریریں  امیرِ اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کو پڑھاتے اور بعض سب کے سامنے پڑھ کر سناتے،  امیرِ اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ شرعی غلطیوں اور اِنشاپردازی کی خامیوں کی طرف ان کو توجُّہ دلاتے ، ان نشستوں  میں  ایک خصوصیّت یہ بھی تھی کہ تصوُّف کے متعلّق بھی سُوالات و جوابات کی ترکیب بنائی جاتی ۔ بعض اساتِذہ ، دعوتِ اسلامی کے دارالافتاء اہلسنّت کے کچھ عُلَماء نیزدرسِ نظامی کے فارِغُ التَّحصیل تَخَصُّص فِی الفُنونکے طَلَبہ وغیرہ بڑے ذوق وشوق کے ساتھ شرکت فرمایا کرتے۔اندازِ تربیّت خصوصاً اساتذہ کیلئے لائقِ تقلید تھا۔ سبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کسی پر سختی کرنا تو درکنار ڈانٹ ڈپٹ بھی نہیں  کرتے تھے، جواب لکھ کر لانے والوں ، پڑھ کر سنانے والوں  کی غلطیوں  کی اگر چِہ اِصلاح فرماتے تاہم خوب حوصلہ افزائی بھی کرتے اور اکثر کوئی کتاب یا قلم وغیرہ تحفۃً عطافرماتے۔طلبہ کے اصرار پرآپ نے بعض سُوالات لکھوا کر ان کے جوابات بھی لکھوائے   [1] ؎  ، اس دوران امیرِ اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے بے شمار مَدَنی پھول بیان کئے جنہیں طَلَبہ شوق سے لکھتے رہے۔ان میں سے منتخب شدہ125 مُتَفَرِّق مہکے مہکے مَدَنی پھول حسبِ ضَرورت ترمیم واضافے کے ساتھ پیش کئے جارہے ہیں ، اِن میں  علمِ دین کے فضائل ، عَرَبی مقولے ، اور رنگ برنگے علمی شِگُوفے شامل ہیں ان مَدَنی پھولوں  کے اندر نیکیوں  کے مُتلاشیوں ، علم دوستوں  بلکہ سارے ہی مسلمانوں  کیلئے طرح طرح کی مَدَنی خوشبوئیں  ہیں ۔ان مَدَنی پھولوں  میں  جہاں  فتویٰ لکھنے کا طریقہ فقہی جزئیات کی روشنی میں  بیان کیا گیا ہے وہیں  تصوف کا درس بھی نمایاں  ہے۔مہلکات کا علم سیکھنے کی اہمیت

اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کئی مہلکات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔آیاتِ قراٰنی کا ترجمہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتکے شہرۂ آفاق ترجمۂ قراٰن ’’ کنزالایمان‘‘ سے لکھنے کی ترغیب، سائل کو نیکی کی دعوت پیش کرنے میں  فتاوٰی رضویہ کا اسلوب اپنانے کا مشورہ،  اکابرین علیہم رحمۃ



  اس طرح کے سوالات وجوابات صفحہ92پر ملاحظہ کیجئے ۔    [1]



Total Pages: 41

Go To