Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

شاءَ اللہُ الْآخِرعَزَّوَجَلَّ کثیرووافِر فرائض عُلُوم سیکھنے میں  کامیاب ہو جائے گا ۔ دینی تعلیم سے جی چُرانا اچّھا نہیں  ہے، مصطَفٰے جانِ رحمت صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکا فرمانِ فضیلت نشان ہے :  اَلعِلْمُ اَفضَلُ مِنَ الْعِبَادَۃِ یعنی علم عبادت سے افضل ہے۔  (کنز العمال، ج۱۰، ص۵۸، الحدیث۲۸۶۵۳)

چُھٹی نہیں  کی

          کروڑوں  حنفیوں  کے عظیم پیشوا، سراج الاُمّہ ، کاشف الغُمَّہ حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے شاگردِ رشید حضرت سیِّدُنا امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم علیہ رحمۃا اللہ الکریم  کا مَدَنی مُنّا انتقال کر گیا تویہ خیا ل کر کے کہ اگر میں  مَدَنی مُنّے کی تجہیز و تکفین کے لئے رُکا تو میرا سبق چھوٹ جائے گا آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ایک دوسرے شخص کو بچے کے کفن دفن کا انتظام سونپ دیا اور خود امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی درسگاہ پہنچ گئے اورچھٹی نہیں  کی۔(المستطرف، ج۱، ص۴۰)

ہزار رَکْعت نَفْل پڑھنے سے افضل

(92)طالِبُ العِلم کو چاہئے کہ دن رات علمِ دین حاصل کرنے کی دُھن میں  مگن رہے۔حضرتِ سیِّدُنا ابودَرْدَاء اور ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہمافرماتے ہیں  :  ’’(دینی)عِلم کا ایک باب جسے آدَمی سیکھتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک ہزار رَکْعَت نَفْل پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جب کسی طالبُ العلم کو(دینی) علم حاصِل کرتے ہو ئے موت آجائے تو وہ شہید ہے ۔‘‘ (الترغیب والترہیب حدیث ۱۶ ج ۱ ص ۵۴ )

 

قِیامت کی ایک علامت، ’’دینی علم، دین کے لئے حاصِل نہ کیا جائے گا‘‘

(93) صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رِضا کیلئے علمِ دین حاصل کیجئے۔’’ ترمذی شریف‘‘ کی حدیثِ پاک میں  قِیامت کی نشانیوں  میں  سے ایک نشانی یہ بھی بیان فرمائی گئی ہے :  وَتُعُلِّمَ لِغَیْرِ الدِّین  یعنی ’’اورغیرِ دین کیلئے علم حاصِل کیا جائے ۔‘‘

(ترمذی شریف، کتاب الفتن، باب ما جاء فی علامۃ، ، الخ، ج۴، ص ۹۰، الحدیث۲۲۱۸)

          اِس کی شَرح کرتے ہوئیمُفَسّرِشَہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مِراٰۃ شرح مشکوٰۃ جلد 7صَفْحَہ 263پرفرماتے ہیں  : یعنی مسلمان دینی علم نہ پڑھیں (بلکہ) دنیاوی عُلوم پڑھیں  یا دینی طَلَبہ(اگر چِہ) دینی علم پڑھیں  مگر تبلیغِ دین کے لیے نہیں  بلکہ(مَعَاذَاللہِ عَزَّوَجَلَّ) دُنیا کمانے کے لئے، جیسے آج مولوی عالم مولوی فاضل کے کورس میں ، فِقْہْ، تفسیر و حدیث کی ایک آدھ کتاب داخِل ہے تو امتحان دینے والے یہ کتابیں  پڑھ تو لیتے ہیں  مگر صِرف امتحان میں  پاس ہو کر نوکری حاصِل کرنے کے لئے(اور) بعض طلبہ (تو)صِرف وعظ گوئی کے لیے دینی کتابیں  پڑھتے ہیں ۔

مِرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو

کر اخلاص ایسا عطا یا الہٰی

عِلْم کی باتیں  غور سے سننا ضَروری ہے

(94)علمِ دین کی باتیں  غور سے سننی چاہئیں  کہ بے تَوَجہُّی کے ساتھ سننے سے غَلَط فَہمی کاسخت اندیشہ رہتا اوربسا اوقات ہاں  کا ’’ نا‘‘ اور’’ نا‘‘ کا ’’ ہاں  ‘‘ سمجھ میں  آتا ہے، بلکہ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّکبھی ایسا بھی ہو تا ہے کہ کہا گیاتھا حلال اور ذِہن میں  بیٹھ جاتا ہے حرام!

(95)جو کچھ پڑھایا جائے اُس کو رَٹتے رہئے ، مُحاوَرَہ ہے : ’’مَا تَکرَّرَ تَقَرَّرَیعنی جس بات کی تکرار کی جاتی ہے وہ دل میں  قرار پکڑ لیتی ہے۔‘‘

(عمدۃ القاری، کتاب المساقاۃ، باب بیع الحطب والکلائ، ج۹، ص۹۰)

(96)جب بھی دینی علم کی یا حکمت بھری کوئی بات سنیں  اُسے لکھنے کی عادت بنایئے، حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : قَیِّدُوا



Total Pages: 41

Go To