Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

ہوں ۔لہٰذا اے میرے مَدَنی عالمو! آپ سب رَل مِل کر دعوتِ اسلامی کا خوب خوب خوب مدنی کام کرتے رہئے ۔ہر ماہ تین دن کے لئے مَدَنی قافلوں  میں  سفر بھی فرمائیے، مَدَنی انعامات پر عمل کرتے ہوئے روزانہ فکرِ مدینہ کر کے مَدَنی انعامات کا رسالہ بھی پُر کیجئے اور ہر مَدَنی ماہ کی ۱۰ تاریخ کے اندر اندر اپنے ’’ذمے دار ‘‘کو جمع بھی کروایا کیجئے ۔ ہر وقت ’’مَدَنی حُلیے‘‘(مثلاًداڑھی اور گیسو کے ساتھ ساتھ سنّتوں  بھرے سفید لباس ، کُھلے رنگ کے سبز سبز عمامے ، سر پر سفید چادر وغیرہ ) میں  رہا کیجئے ۔اِس طرح دعوتِ اسلامی کے ذمّے داران و عام اسلامی بھائی آپ سے مانوس رہیں  گے اور آپ ان سے اچھی طرح دین کا کام لے سکیں  گے۔

مَدَنی عَطِیّات کے لئے بھاگ دوڑ

(88)مَدَنی عَطِیّات اور قربانی کی کھالوں  کے تعلُّق سے یوں  بھی ہمارے طَلَبہ اور مَدَنی عُلَماء کو خوب بھاگ دوڑ کرنی چاہئے کہ دعوتِ اسلامی کے لئے ملنے والے مَدَنی عطیّات کی بیشتر رقم مدارِس و جامِعات ہی پر صَرف ہوتی ہے۔برائے کرم! اس قَدَرجان توڑ کر کوشش فرمایئے کہ عام اسلامی بھائی اور ذمّے داران مَدَنی عطیّات کے مُعامَلے میں  بھی آپ حضرات کے دستِ نگر ہو کر رَہ جائیں ۔

 (89)مُہلِکات(مُہلِک کی جمع مُہلکات یعنی ہلاکت میں  ڈالنے والی چیزیں  مَثَلاً جھوٹ، غیبت، چغلی وغیرہ) کا جاننا بھی فرائض عُلُوم میں  سے ہے، جو نہیں  جانتا وہ عالِم کیسے ہوسکتا ہے!اِس ضمن میں ’’ احیاء العلوم‘‘ کی تیسری جلد کا مُطالَعہ نہایت اہم ہے۔

کیا درسِ نظامی کی سند عالم ہونے کیلئے کافی ہے؟

(90)جُوں  توں  کر کے درسِ نظامی کی سند حاصِل کر لینے والا خوش فہمی میں  ہرگز نہ رہے، مزید علم حاصِل کرتا رہے ۔صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : اوّل تو درسِ نظامی جو ہندوستان کے مدارِس میں عُموماً جاری ہے اس کی تکمیل کرنیوالے بھی بَہُت قلیل اَفراد ہوتے ہیں  عُمُوماً کچھ معمولی طور(سے) پڑھ کر سند حاصل کر لیتے ہیں  او ر اگر پورا درسِ(نظامی) بھی پڑھا تو اس پڑھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اب اتنی اِستِعداد (یعنی صلاحیت)ہو گئی کہ کتابیں  دیکھ کر محنت کر کے علم حاصِل کرسکتا ہے ورنہ درسِ نظامی میں  دینیات کی جتنی تعلیم ہے ظاہر ہے کہ اُس کے ذَرِیعے سے کتنے مسائل پرعُبُور ہو سکتا ہے! مگر ان میں  اکثر کو اتنا بیباک پایا گیاہے کہ اگر کسی نے اُن سے مسئلہ دریافت کیا تو یہ کہنا ہی نہیں  جانتے کہ’’ مجھے معلوم نہیں ‘‘ یا کتاب دیکھ کر بتاؤں  گا کہ اس میں  وہ اپنی توہین جانتے ہیں  ، اٹکل پَچُّو جی میں  جو آیا کہہ دیا۔ صَحابۂ کِبار و اَئمّۂ اَعلام کی زندگی کی طرف اگر نظر کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ باوُجُود زبردست پایۂ اِجتِہاد رکھنے کے بھی وہ کبھی ایسی جُرأَت نہیں  کرتے تھے ، جو بات معلوم نہ ہوتی اُس کی نسبت صاف فرمادیا کرتے کہ مجھے معلوم نہیں ۔ ان’’ نوآموز مولویوں  ‘‘کو ہم خیر خواہانہ نصیحت کرتے ہیں  کہ تکمیلِ درسِ نظامی کے بعد فقہ و اُصول و کلام وحدیث و تفسیر کا بکثرت مُطالَعہ کریں  اور دین کے مسائل میں  جسارت نہ کریں  جو کچھ دین کی باتیں  اِن پر مُنکَشِف و و اضِح ہو جائیں  اُن کو بیان کریں ۔ جہاں  اشکال پیدا ہو اُس میں  کامل غور وفکر کریں  خود واضِح نہ ہو تو دوسروں  کی طرف رُجوع کریں  کہ علم کی بات پوچھنے میں  کبھی عار(شرم) نہ کرنا چاہئے ۔

  (بہارِ شریعت حصّہ۱۵ ص ۱۴مکتبہ رضویہ، باب المدینہ کراچی)

طالبِ عِلم کے چُھٹّی نہ کرنے کا فائدہ

(91)طالبِ علم اگر بالکل بھی چُھٹّی نہ کرے اور اس طرح درسِ نِظامی کرے جس طرح کرنے کا حق ہے اورنجی طور پر بھی مُطالَعَہ جاری رکھے اوریہ سب محض اپنی لیاقت کا لوہا منوانے ، اعلیٰ سَنَد پانے اور ذِہین وفَطین کہلانے کیلئے نہ ہو بلکہ رِضائے خدائے قادِر عَزَّوَجَلَّ کی خاطر ہو تواِن



Total Pages: 41

Go To