Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

خَیرُ الْکَلامِ ماقَلَّ وَدَلَّ  یعنی اچھا کلام وہ جو قلیل و پُر دلیل ہو۔(رد المحتار علی در مختار، ج۱۱، ص۵۲۴)

(75)فتویٰ نویسی میں جہاں  تک ہوسکے فیضانِ سنّت اورمکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسائل [1]؎ کے اُسلوبِ تحریرسے کچھ نہ کچھ مدد لے لیجئے ۔اپنے کتب و رسائل کے مِعیاری مضمون نگار ی سے عاری ہونے کا مُعترِف ہوں  تا ہم اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ تَلَفُّظ کی دُرُستی اور الفاظ کی شُستگی میں تھوڑی بَہُت مدد مل ہی جائے گی۔

(76)الفاظ جس قَدَر بدل بدل کر لکھیں گے عبارت میں  اُسی قَدَر حُسن پیدا ہوگا۔کوشِش کیجئے کہ جس فِقرے بلکہ پَیرے میں  ایک بار جو لفظ آ چکا ہو بِلاضَرورت دوبارہ نہ آئے۔ہاں  بعض اوقات ایک لفظ کی تکرار عبارت یاا شعار میں  حُسن بھی پیدا کرتی ہے لیکن ہر چیز اپنے موقع محل کے اعتبار سے حکم رکھتی ہے نُمونَۃً میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت کا ایک شعر ملاحَظہ ہو اِس کے دوسرے مصرعے میں  لفظ

    ’’گُل‘‘ کی چار بار تکرار ہے جو کہ عیب نہیں  تحسینِ کلام کی مزید افزونی کا باعث ہے   ؎

جنت ہے ان کے جلوہ سے جو یائے رنگ و بُو

اے گُل ہمارے گُل سے ہے گُل کو سوالِ گُل

(77)اِختِتامیہ(۔)سُوالیہ نشان (؟) ہِلالَین (  ) اور قومہ( ، ) وغیرہ کا مناسِب جگہوں  پرضَرور استعمال کیجئے۔

عُمدہ الفاظ بولنے کی نیّت

(78)عبارت کو مُقَفّٰی و مُسَجَّعبنانے کی سعی فرمایئے مگر نیّت یہ ہو کہ لوگوں  کو اسلامی تحریریں  پڑھنے کا شوق بڑھے ، اور ان کی اصلاح کا سامان ہو۔حظِ نفس وریاکاری کیلئے اپنی علمی دھاک بٹھانے کی نیَّت سے بولنے لکھنے میں سخت ہلاکت ہے۔ہر طرح کی دینی یادنیوی بات میں  عَرَبی ، انگلش الفاظ اور خوبصورت فِقرے اور مُحاورے لکھنے بولنے کو اگر کسی کااس لئے جی چاہے کہ لوگوں  پر اپنی زَبان دانی کی چھاپ پڑے اور شرعی مصلحت کچھ نہ ہو تو اسے اپنی ہلاکت کے استِقبال کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ گفتگو میں  ریاکاری کرنے والوں  کو ڈر جانا چاہئے کہ مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان، محبوبِ رحمن صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’جس نے بات کہنے کے مختلف انداز اس لئے سیکھے کہ اس کے ذَرِیعے لوگوں  کے دلوں  کو قید کرے(یعنی لوگوں  کو اپناگِرویدہ و معتقد بنائے)اللہ تبارک و تعالیٰ بروزِ قِیامت نہ اس کے فرض قَبول فرمائے نہ نَفْل۔‘‘(سنن ابی داوٗد الحدیث۵۰۰۶ ج۴ ص۳۹۱)مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثِین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ  اللہِ  القویاِس حدیثِ پاک کے تحت فر ما تے ہیں  :  صَرْفُ الْکَلَامِ (یعنی باتوں  میں  ہَیرپَھیر ) سے مُراد یہ ہے کہ تحسینِ کلام (یعنی کلام میں  حُسن پیدا کرنے )کیلئے جھوٹ ، کِذب بیانی بطور ریا کاری کی جائے اور اِلتباس وابہام(یعنی یکسانیّت کا شبہ) پیدا کرنے کے لیے اس میں  ردّ وبدل کر لیا جائے۔

(اشعۃ اللّمعات فارسی، ج۴ ص ۶۶) 

(79) لکھتے رہنا چاہیے تا کہ مشق ہو۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ رفتہ رفتہ عبارت بھی دُرُست ہوگی اور خط بھی اچّھا ہو جائے گا۔’’کشف الخفا‘‘میں  ہے : مقولہ ہے :  مَنْ جَدَّ وَجَدَ یعنی ’’جس نے کوشِش کی اُس نے پا لیا۔‘‘(کشف الخفاء، ج۲، ص۲۱۷  الحدیث۲۴۴۹)

(80)جو لفظ صحیح ادا نہ ہو پاتا ہو اُس کو مع اِعراب کم از کم25 بار لکھ لیا کریں ۔اور اتنی ہی بار زَبان سے بھی دو ہرالیں  ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ دُرُست ادائیگی میں  مدد ملے گی۔مقولہ ہے :  اَلسَّبَقُ حَرْفٌ وَّالتَّکْرارُ اَلْفٌ  یعنی سبق ایک حَرف ہی سہی اس کی تکرار ہزار بار ہونی چاہئے۔  

 



    یعنی امیرِ اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے رسائل۔[1]



Total Pages: 41

Go To