Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

توتحریراً ارشاد فرمایا : ’’بٹ کی نسبت اس وقت فقیر کو کوئی روایت دستیاب نہ ہوئی۔‘‘ـ(فتاوی امجدیہ، ج۳، ص۲۹۹)لہٰذا یقینی جواب معلوم نہ ہونے کی صورت میں  آئیں  بائیں  شائیں  اور ’’ چونکہ چُنانچِہ‘‘ کرنے کے بجائے صاف صاف اعتِراف کر لیجئے کہ ’’میں  نہیں جانتا‘‘ اِنْ شَاءَ اللہُ الرَّحْمٰن عَزَّوَجَلَّ ا س طرح آپ کی شان مزید بڑھے گی     ؎ 

رضاؔ جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہِ حبیب

تو پیارے قیدِ خودی سے رہیدہ ہونا تھا

’’میں  نہیں  جانتا‘‘

          حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوطالب مکّی علیہ رحمۃ اللہ القوی قُوتُ القلوب جلد 1 صفحہ 274پر لکھتے ہیں  : ’’ بعض فقہاء ایسے تھے کہ جن کی طرف سے ’’میں  نہیں  جانتا‘‘کا قول’’میں  جانتا ہوں ‘‘سے زیادہ ہوا کرتا تھا۔حضرتِ سیِّدُناسفیان ثوری، مالک بن انس، احمدبن حنبل، فضیل بن عیاض اور بشربن حارث رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم کا یہی طریقہ کار تھا۔یہ حضرات اپنی مجالس میں  بعض باتوں  کا جواب دیتے اور بعض مسائل پر خاموش رہتے۔‘‘(قوت القلوب ج۱ ص۲۷۴مرکزاہلسنّت گجرات ہند)

میں  شرم کیوں  محسوس کروں  ؟

          ایک مرتبہ کسی نے حضرتِ سیِّدُنا امام شعبیعلیہ رحمۃ اللہ الھادی سے کوئی مسئلہ دریافت کیا۔آپ نے فرمایا ، ’’ مجھے نہیں  معلوم۔‘‘لوگوں  نے متعجب ہو کر عرض کی :  ’’حضور!آپ کوعراق کااتنا بڑا عالم ہونے کے باوجودیہ بات کہتے ہوئے شرم محسوس نہ ہوئی؟‘‘فرمایا : ’’فرشتوں  کا درجہ وعلم ہم سے بہت زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجودانہیں اپنے رب(عزوجل)کے سامنے یہ کہتے ہوئے حیا محسوس نہ ہوئی کہ

’’ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ     ۱، البقرۃ۔ ۳۲)

(ترجمۂ کنزالایمان : ہمیں  کچھ علم نہیں  مگر جتنا تونے ہمیں  سکھایا۔

تو جب انہیں  حیا محسوس نہ ہوئی ، تومیں  کیوں  شرم محسوس کروں ؟‘‘(تنبیہ المغترین ص۱۴۴)

ہرگز علم نہ چھپاتے

          امیرالمومنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیقرضی اللہ تعالٰی عنہکے پوتے، حضرتِ سیِّدُناقاسم بن محمدرضی اللہ تعالٰی عنہ منیٰ پہنچے ، توہرطرف سے لوگوں  نے مسئلے پوچھنے شروع کردئیے۔آپ ہرسوال کے جواب میں  یہی فرما دیتے کہ ’’میں  نہیں  جانتا۔‘‘جب لوگوں  نے اس جواب پر تعجب کااظہار کیا تو فرمایا : ’’ بخدا! تمہارے ان سوالوں کا جواب ہمیں  نہیں  آتا، اگر آتا ہوتا، توہرگزنہ چھپاتے، کیونکہ علم چھپانا جائزنہیں ۔‘‘

(جامع بیان العلم و فضلہ ص۳۱۴)

 فتویٰ نویسی میں  سَلاست پیدا کیجئے

(74)         مفتی کو اِنشاء پردازی کافن بھی آتا ہوتو سونے پر سُہاگا کہ اپنی تحریر کاحُسن بھی قائم رکھ سکے ، الفاظ کی ترکیب بھی دُرُست ہو ۔لفظوں  کے مذکَّر اورمُؤنَّث ہونے کا فرق بھی رکھ پائے ورنہ شاید ایک ہی تحریری فتوے میں  کئی جگہ یہ نقائص رہ جائیں  گے!ایک ہی فرد کے بارے میں  کہیں  واحِد کا تو کہیں جمع کا صِیغہ نہ ہو یعنی کسی ایک فردکے بارے میں جب ایک جگہ’’ آپ‘‘ یا ’’تم‘‘ لکھا تو اس مضمون میں  اب ہر جگہ آپ یا تم سے ہی خطاب کیا جائے ، (افسوس کہ یہ عیب اردو کی بہت سی کتب میں  بکثر ت دیکھا جاتا ہے کہ جس کو ابھی ’’تم‘‘سے مخاطب کیا تو ایک آدھ سطر کے بعد اُسی فرد کو ’’ تُو‘‘ لکھ دیا ! ) غیر ضَروری الفاظ کی بھرمار نہ ہوکم سے کم الفاظ میں  جامع و مانِع انداز میں  لکھئے کہ’’رَدُّالمحتار‘‘ میں  ہے :



Total Pages: 41

Go To