Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

اور بروزِ قِیامت اپنی اِس بے باکی کی سزا سُنایا جائیگا۔رسولُ اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمفرماتے ہیں :  تم میں  سے جو فتووں  پر زیادہ جُرأت کرتا ہے وہ آگ پر زیادہ جُرأت(جُر۔اَت) کرتا ہے ۔  (کنزُ العُمّال ج ۱۰ ص۸۰  حدیث ۲۸۹۵۷ ، و فتاوٰی رضویہ ج۱۱ ص ۴۹۰)ایک اور حدیثِ پاک میں  ہے، سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم  کا فرمانِ باقرینہ ہے :  ’’جس نے بِغیر علم کے فتویٰ دیا تو آسمان و زمین کے فِرِشتے اُس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔‘‘(اَ لْجامِعُ الصَّغِیر ص ۵۱۷  حدیث۸۴۹۱ ) میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 23 صَفْحَہ 711تا712 پر فرماتے ہیں : جُھوٹا مسئلہ بیان کرنا سخت شدید کبیرہ (گناہ)ہے اگرقَصداً ہے تو شریعت پر افتِراء(یعنی جھوٹ باندھنا) ہے اور شریعت پرافتِراء اللہ عَزَّوَجَلَّ پرافتِراء ہے ۔‘‘(فتاوی رضویہ ج۲۳ ص۷۱۱)ہمارے اسلاف تو مطلقاً مسئلہ بتانے ہی سے خوف کھاتے تھے چُنانچِہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے بیٹے حضرتِ سیِّدُنا سالم بن عبداللہرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک شخص نے مسئلہ (مَسْ۔ئَ۔لہ) پوچھا، جواب دیا : ’’ اس بارے میں  مجھے کوئی روایت نہیں  پہنچی۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی :  میرے لئے تو آپ کی رائے بھی بَہُت ہے۔ فرمایا :  ’’اپنی رائے بتادوں  اور تم چلے جاؤپھر شاید وہ رائے بدل جائے، تو میں  تمہیں  کہاں  ڈھونڈتا پھروں  گا۔‘‘          (جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۲۸۷)

امام مالِک نے 48 سُوالات میں  سے صِرف 16کے جوابات د یئے!

(73) جب تک 100فیصدی اطمینان نہ ہوجائے اُس وقت تک فتویٰ مت دیجئے، اٹکل پَچُّو سے ہرگز مسئلہ نہ بتایئے بے شک کہدیجئے بلکہ لکھ کر دے دیجئے : ’’مجھے مسئلہ معلوم نہیں  ہے۔‘‘یقین مانئے اِس سے آپ کی شان میں  کمی نہیں  ترقّی ہو گی۔مسئلے کا جواب دینے میں  بڑے بڑے عُلَماء سے بارہا سُکوت(خاموشی) ثابت ہے۔ حکایت : حضرتِ سیِّدُنا امام شافِعی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں :  میں حضرت امامِ مالِک علیہ رحمۃ اللہ الخالقکے پاس حاضِر تھا، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے 48مسائل پوچھے گئے (صرف 16کے جوابات ارشاد فرمائے اور) 32 کے بارے میں فرما دیا :  لَا اَعلَمُیعنی  میں  نہیں  جانتا ۔(احیاء علوم الدین، ج ا، ص۴۷ )حضرتِ سیِّدُناابن وہب نے’’ کتاب المجالس‘‘ میں لکھا ہے :  میں  نے حضرتِ سیِّدُنا امام مالِک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو فرماتے سنا :  عالم کو چاہئے کہ بے علمی کی حالت میں  اعترافِ جہل کی عادت ڈالے۔(یعنی کہہ دے میں  نہیں  جانتا) ایسا کرنے سے(نقصان کچھ بھی نہیں  بلکہ) بھلائی حاصل ہونے کی اُمّید ہے۔ اسی کتاب میں  حضرتِ سیِّدُناابن وہب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہلکھتے ہیں :  اگرہم حضرتِ سیِّدُنا امام مالک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی زبان سے ادا ہونے والا یہ لفظ ’’ لااَدرِی‘(یعنی مجھے معلوم نہیں )لکھنا شروع کر دیں  تو صَفحے کے صَفحے بھر جائیں  گے۔ یہی حضرتِ سیِّدُنا ابنِ وہب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں  کہ حضرتِ سیِّدُناامام مالِک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے مجھ سے فرمایا :  رسولُ اللہصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم ، امام ُالمسلمین وسیِّدُالعالمین تھے، مگر ایسا بھی ہو تا تھا کہ سُوال کیا جاتا تو جب تک وحی نہ آ جاتی ، جواب نہیں  دیتے تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا امام مالک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا یہ قول بیان فرمایا : ’’ عالم جب لااَدرِی(یعنی میں نہیں  جانتا) کہنا بھول جاتا ہے، تو ٹھوکریں  کھانے لگتا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عقبہ بن مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کہتے ہیں :  میں حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی صحبت میں  چونتیس مہینے رہا اور برابر دیکھتا رہا کہ اکثر مسئلوں  پر لااَدرِی(یعنی میں نہیں  جانتا) کہہ دیا کرتے اورمیر ی طرف مُڑ کر فرماتے :  تم جانتے بھی ہویہ لوگ کیاچاہتے ہیں ؟ کہ ہماری پیٹھ کو جہنَّم تک اپنے لئے پُل بنا لیں !حضرتِ سیِّدُنا ابو الدَّرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایاکرتے تھے : لاعلمی کی صورت میں  آدمی کا لااَدرِی(یعنی میں نہیں  جانتا) کہنا آدھا علم ہے۔(جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۳۱۵، ۳۱۶ ) حجۃ الاسلام حضرتِ سیِّدُناامام محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃ الوالی فرماتے ہیں :  جو شخص اپنے علم سے غیرِ خدا کی رِضا چاہتا ہے اس کا نفس اُسے اِس بات کا اقرار نہیں  کرنے دیتا کہ کہے : لااَدرِییعنی’’ میں  نہیں  جانتا۔‘‘(احیاء علوم الدین، ج ا، ص۴۷ )صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی سے بَٹ کھانے کے بارے میں سُوال کیا گیا



Total Pages: 41

Go To