Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

جب مفتیٔ دعوتِ اسلامی کو کسی نے فون کیا

          دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شورٰی کے رُکن مفتیٔ دعوت اسلامی حافظ محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنیبہترین عالِم دین اور ذہین مفتی تھے ۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ کو فون کیا اور کہا :  میں  ’’مفتی فاروق‘‘سے بات کرنا چاہتا ہوں  ۔ جواب دیا : میں  ’’فاروق ‘‘عرض کررہا ہوں ، کہئے کیا کہنا ہے؟ فون کرنے والا آپ کی عاجزی کو سمجھ نہ سکا اور دوبارہ کہا : مجھے ’’مفتی فاروق‘‘ سے بات کرنی ہے ؟اِدھر سے پھر یہی جواب ملا : میں  ’’فاروق‘‘ ہی عرض کررہا ہوں ، فرمائیے!مگر فون کرنے والے کی سادگی دیکھئے ، پھر کہنے لگا : آپ سے نہیں  مجھے ’’مفتی فاروق‘‘ سے بات کرنی ہے۔مفتی فاروق عطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری نے آخر تک خود کو مفتی ظاہرنہ کیا ۔

(66) بے قاعدہ علم حاصِل ہونے سے کوئی مفتی نہیں  بن سکتا اس کے لئے باقاعدہ علم حاصل کرنا ضَروری ہے ۔

عُرف کی معلومات

(67) صدہا مسائل ایسے ہوتے ہیں  جن کا مدار عُرف پر ہوتا ہے اس لئے بہترین مفتی بننے کے لئے عرف کا جاننا بھی ضرور ی ہے۔علامہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِینقل کرتے ہیں  : ’’مَنْ لَّمْ یَدْرِ بِعُرْفِ اَہْلِ زَمَانِہٖ فَھُوَ جَاہِلٌ یعنی جو حالاتِ زمانہ سے واقف نہیں  وہ جاہل ہے۔‘‘

(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الایمان، باب فیما لو اسقط اللام ۔۔۔الخ۵ ص۵۲۱ )مگر عرف معلوم کرنے میں  احتیاط کیجئے کہیں  ایسا نہ ہوکہ آپ جس سے معلوم کرنے جائیں  اُس کے برا آدمی ہونے کی صورت میں اس کی برائیاں  آپ کو چپک جائیں  !بلکہ آپ کی صحبت کی بَرَکت سے اُسے بھی اپنی اِصلاح کا جذبہ نصیب ہوجائے۔

مفتی غیر معمولی ذ ہین ہو تا ہے

( 68)مفتی بننے کے لئے فطری طور پر ذِہانت وحظانت ضَروری ہے، کُند ذِہن اور مریضِ نِسیان (یعنی بُھلَکَّڑ)کا مفتی بن جانا بے حد مشکل اَمر ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ جو صحیح معنوں  میں  عالم و مُفتی ہوتا ہے وہ عام مسلمانوں  کے مقابلے میں  غیر معمولی ذہین ہوتا ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے مَدَنی آقاصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم تمام مخلوقات میں  سب سے بڑے عالم اور سبھی سے زیادہ عقلمند و ذہین ہیں ، تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنی اپنی اُمّت میں  سب سے بڑے عالم اور ذہین ترین ہوئے۔

علم پر بھی قیامت میں  حساب ہے

(69)         علم کی جہاں بَرَکات ہیں  وہاں  آفات بھی ہیں ۔ عالم اگر تکبُّر میں  مبتلا ہوا، اپنی معلومات پر گھمنڈ اور کم علموں  کی تحقیر کرنے میں  پڑا تو برباد ہوا، یاد رکھئے! علم کا بھی بروزِ قیامت حساب دینا پڑے گا! جبھی تو خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے مغلوب ہو کرحضرتِ سیِّدُنا ابو الدَّرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ  فرماتے تھے :  اِس خوف سے لرزتا ہوں  کہ کہیں  بروزِقِیامت کھڑا کرکے پوچھ نہ لیا جائے کہ تو نے علم تو حاصِل کیا تھا مگر اس سے کام کیا لیا؟حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :  ’’ کاش ! میں  قراٰنِ مجید پڑھ کر رہ جاتا،  کاش !میرے علم پر نہ مجھے ثواب ملے نہ عذاب!‘‘        

                                                                                                                               (جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۲۴۹، ۲۵۰دار الکتب العلمیہ بیروت)

نیکی پر تعریف کی خواہش

(70)جب کوئی علمی نکتہ بیان کرتا ہے، تحقیقی کارنامہ انجام دیتا ہے ، مقالہ لکھتا یا کہتایاکوئی تصنیف کرتا ہے، توعُموماً دل میں  یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش! کوئی تعریف کرے بلکہ تعریفی کلمات لکھ کر دے۔ اسی طرح نعت شریف پڑھنے والے، سنّتوں  بھرے بیان کرنے والے اور مختلف نیکیاں  بجا لانے والے بھی اکثر’’ حوصلہ افزائی ‘‘ کے نام پر اپنی تعریف کئے جانے کے منتظر رہتے ہیں !یعنی ان کی آرزو ہوتی ہے کہ کاش! کوئی حوصلہ افزائی کرے اور ظاہِر ہے کہ اکثر حوصلہ افزائی تعریف ہی پر مَبنی ہوتی ہے! ان سب تعریف اور حوصلہ افزائی کے طلبگاروں  کیلئے



Total Pages: 41

Go To