Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

تَحدیثا بِنِعْمَۃِ اللہِ وَمَا تَوْفِیْقِی اِلَّا بِاللہِ، وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مَنْ اَمَدَّنَا بِعِلْمِہِ وَاَیَّدَنَا بِنِعَمِہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ اٰمِیْن وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔(فتاوٰی رضویہ ج۱۶ص۳۷۶)

(63)فتویٰ دینا بہت نازک کام ہے ۔مفتی بننے کے لئے ماہر مفتی کی صحبت بھی ضروری ہے ۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت فرماتے ہیں  : ’’علمُ الفتوٰی پڑھنے سے نہیں  آتا جب تک مُدّتہا (یعنی طویل مدّت تک )کسی طبیبِ حاذق کا مطب نہ کیا ہو (یعنی ماہر مفتی کی صحبت میں  رہ کر  فتوے   نہ   لکھے

ہوں )(فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص۶۸۳)

اعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃُ ربِّ العزّت نے فتویٰ نویسی کہاں  سے سیکھی؟

          میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت نے اپنے والد ماجِد رئیس المتکلمین حضرت علامہ مولانا مفتی نقی علی خان علیہ رحمۃ الرحمن کے زیرِ سایہ فتویٰ نویسی کی مشق کی ۔ والد صاحب ایسے ماہِر مفتی تھے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتفرماتے ہیں :  دوحضرات ایسے ہیں  جن کے فتاوٰی پر آنکھیں  بند کر کے عمل کیا جاسکتا ہے : ایک حضرت خاتم المحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد دوسرے مولانا عبدالقادر بدایونی علیہ رحمۃاللہ الغنی۔(فتاوٰی رضویہ ج۲۹ ص۵۹۴ملخصًا)اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتخود فرماتےہیں  : منصبِ اِفتا ملنے کے وقت فقیر کی عمر13 بر س دس مہینہ چاردن کی تھی، میں  بھی ایک طبیبِ حاذِق کے مطب میں  سات برس بیٹھا ، مجھے وہ وقت، وہ دن، وہ جگہ ، وہ مسائل اور جہاں  سے وہ آئے تھے اچھی طرح یاد ہیں  ۔  (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۶۳، ۱۴۱)

فتویٰ کب دیں ؟

(64) جب تک آپ کے استاذ مفتی صاحب جن کی زیرِنگرانی آپ فتویٰ نویسی کی مشق کرتے ہیں  آپ کو فتویٰ دینے کی اجازت نہ دے دیں  اُس وقت تک مفتی بننے کا شوق نہ چُرائیے۔یاد رہے! بطورِ مشق فتویٰ لکھنا اور چیز ہے ، بطورِ مفتی فتویٰ لکھنا اور چیز ! نیزاستاذ صاحب کو بھی چاہئے کہ جب تک خوب مطمئن نہ ہو جائیں  ، مُرُوَّت یا شفقت یا کسی اور وجہ سے فتویٰ جاری کرنے کی اجازت نہ دیں ۔

جب اعلیٰ حضرت کو فتویٰ نویسی کی اجازت ملی

          میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتنے اپنے والدِ ماجِد رئیس المتکلمین حضرت علامہ مولانا مفتی نقی علی خان علیہ رحمۃ الرحمن کے حکم پر ۱۲۸۶ ھ میں  فتوے لکھنا شروع کئے اور والد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اپنے فتاوٰی پر اصلاح لیاکرتے تھے ، 7سال کے بعد انہوں  نے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتکو اجازت دے دی کہ اب فتاوٰی مجھے دکھائے بغیر سائلوں  کو روانہ کردیا کرو مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کے دنیا سے تشریف لے جانے تک اپنے فتاوٰی چیک کرواتے رہے ، اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتخود لکھتے ہیں  : ’’سات برس کے بعد مجھے اِذن فرمادیا کہاب فتوے لکھو ں اور بغیر حضور (یعنی اپنے والدِ ماجِد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کو سنائے سائلوں  کو بھیج دیاکروں ، مگر میں  نے اس پر جرأت نہ کی یہاں  تک کہ رحمن عزوجل نے حضرتِ والا کوذی القعدہ ۱۲۹۷  ھ میں  اپنے پاس بلالیا۔(فتاوٰی رضویہ مخرجہ ج۱ ص۸۸)

دارالافتاء اہلسنّت کی ترکیب

          اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّدعوتِ اسلامی کے ’’دارالافتاء اہلسنّت‘‘ میں  یہ ترکیب رکھی گئی ہے کہ آٹھ سالہ عالم کورس یعنی درس نظامی کرنے کے بعدمزید دو سالہ تَخَصُّص فِی الْفِقْہ کا کورس کرنے والے کو ضروری صلاحیت پر پورا اترنے کی صورت میں  بطور معاون تدریب کے لئے دار الافتاء اہلسنّت میں  بٹھایا جاتا ہے اور اس دوران مفتیانِ کرام کی زیرِ تربیت کم از کم 1200فتاوٰی لکھنے والے کو مُتَخَصِّص کا درجہ حاصل ہوتا ہے ، 2600فتاوٰی لکھنے والے کو نائب مفتی کا



Total Pages: 41

Go To