Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

نویسی‘‘ جیسا مشکل اور ذمہ داری کا کام کوئی بھی نہیں ، مقرر خاص خاص موضوع پر تیاری کرکے تقریر تیار کرلیتا ہے، مدرس اپنے ذمہ کی کتابوں  کا وہ حصہ جو اسے دوسرے دن پڑھانا ہے مطالعہ کرکے اپنی تیاری کرلیتا ہے، مصنف اپنے پسندیدہ موضوع پر اس کے متعلق مواد فراہم کرکے لکھ لیتا ہے، لیکن دارالافتاء سے سوال کرنے والا کسی موضوع کا پابند نہیں ، نہ کسی فن کا پابند ہے نہ کسی کتاب کا پابند ہے، اس کو تو جو ضرورت ہوئی اس کے مطابق سوال کرتا ہے، خواہ وہ عقائد سے متعلق ہو یا فقہ کے یا تفسیر کے یا حدیث کے یا تاریخ کے یا جغرافیہ کے!ان سب تفصیلات سے ظاہر ہوگیا کہ فتویٰ نویسی کتنا اہم اور مشکل کام ہے ۔‘‘ (تقدیم حبیب الفتاوٰی ص۴۵ )

(61)مفتی کو کتنے عُلُوم میں  مہارت ہونی چاہئے، اِس ضمن میں  میرے آقااعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت لکھتے ہیں : ’’حدیث و تفسیر واُصول وادب وقدرِ حاجت ہیئت وہندسہ و توقیت اور ان میں  مہارت کافی اور ذہن صافی اور نظروافی اور فقہ کا کثیر مشغلہ اور اشغالِ دنیویہ سے فراغِ قلب اور توجُّہ اِلَی اﷲاور نیّت لِوَجہِ اﷲاور ان سب کے ساتھ شرطِ اعظم توفیق مِنَ اﷲ، جواِن شروط کا جامع وہ اس بحرِ ذخار(یعنی گہرے سمندر) میں  شناوری(یعنی تیراکی) کرسکتا ہے، مہارت اتنی ہو کہ اس کی اِصابت(یعنی دُرُستی) اس کی خطا پر غالب ہو اور جب خطا واقع ہو رُجوع سے عار(یعنی شرم) نہ رکھے ورنہ اگر خواہی سلامت برکنار است(یعنی اگر سلامتی چاہئے تو کنارے پر رہے)۔واﷲتعالیٰ اعلم(فتاوٰی رضویہ ج۱۸ ص۵۹۰)

فقاہت کسے کہتے ہیں ؟

(62)ناقل کے درجے میں  آنے والے تمام مفتیانِ کرام بھی ایک درجے کے نہیں  ہوتے بلکہ ان میں  بھی بعض دوسروں  سے اَفْقَہ (یعنی زیادہ فقاہت والے )ہوتے ہیں  جس کی ظاہِری وجہ ذاتی صلاحیتیں  اور اصل وجہ توفیقِ الہٰی  ہے ۔سب سے بڑا مفتی وہ ہوتا ہے جس کی فقاہت سب سے زیادہ ہو ، اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتنے فقاہت کا ایک معیار بھی بیان فرمایا ہے  چُنانچِہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہلکھتے ہیں  : فقہ یہ نہیں  کہ کسی جُزْئِیّہکے متعلق کتاب سے عبارت نکال کر اُس کا لفظی ترجمہ سمجھ لیا جائے یوں  تو ہراَعرابی(یعنی عرب شریف کے دیہات میں  رہنے والا)ہر بَدوی (یعنی خانہ بدوش عرب) فقیہ ہوتا کہ ان کی مادَری زَبان عربی ہے بلکہ فقہ بعدِ ملاحظۂ اُصُولِ مُقَرَّرہ و ضَوابِطِ محرَّرہ ووُجُوہِ تَکَلُّم وطُرُقِ تَفَاہُم وتَنْقِیحِ مَناط ولحاظِ اِنضِباط ومَواضِعِ یُسر واِحتیاط وتَجَنُّبِ تَفرِیط واِفراط وفرقِ روایاتِ ظاہِرہ ونادِرہ وتمیز دَرآیاتِ غامِضَہ وظاہر ومَنطُوق ومفہوم وصریح ومُحتَمل وقولِ بعض وجمہور ومُرسَل ومُعَلَّل ووزنِ الفاظِ مفتین وسیر مراتبِ ناقلین وعرفِ عام وخاص وعاداتِ بِلاد واشخاص وحالِ زمان ومکان واحوالِ رعایا و سلطان وحفظِ مصالحِ دین ودفعِ مَفاسد ین وعلمِ وُجُوہِ تجریح واسبابِ ترجیح ومَناہجِ توفیق ومَدَارکِ تطبیق ومَسَالِکِ تخصیص ومناسکِ تقیید ومشارعِ قیود وشوارعِ مقصود وجمعِ کلام ونقدِ مرام وفہمِ مراد کانام ہے کہ تَطَلُّعِ تام واِطلاعِ عام ونظرِ دقیق وفکرِ عمیق وطولِ خدمتِ عِلم و ممارستِ فن وتَیَقُّظ وافی وذہن صافی مُعتَاد تحقیق مُؤَیَّد بتوفیق کاکام ہے، اور حقیقۃً وہ نہیں  مگر ایک نُور کہ رب عزوجل بمحض کرم ااپنے بندہ کے قَلب میں  اِلقا فرماتا ہے :

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵)(پ۲۴، حمٓ السجدۃ : ۳۵)

(ترجمۂ کنزالایمان :  اور یہ دولت نہیں  ملتی مگر صابروں  کو اور اسے نہیں  پاتا مگر بڑے نصیب والا ۔

صدہا مسائل میں  اِضطرابِ شدید نظر آتا ہے کہ ناواقِف دیکھ کر گھبراجاتا ہے مگر صاحبِ توفیق جب اُن میں  نظر کو جَولان دیتا اور دامنِ ائمۂ کرام مضبوط تھام کر راہِ تَنقِیح لیتا ہے توفیقِ ربانی ایک سررِشتہ(یعنی تدبیر) اس کے ہاتھ رکھتی ہے جو ایک سَچَّا سا نچا ہوجاتا ہے کہ ہر فرع خود بخود اپنے مَحمَل پر ڈھلتی ہے اور تمام تَخَالُف کی بدلیاں  چَھنٹ کر اصل مراد کی صاف شفاف چاندنی نکلتی ہے ، اُس وقت کھل جاتا ہے کہ اَقوال سخت مختلف نظرآتے تھے حقیقۃً سب ایک ہی بات فرماتے تھے، اَلْحَمْدُلِلّٰہفتاوائے فقیر میں  اِس کی بکثرت نظیریں  ملیں  گی ولِلّٰہِ الْحَمْدُ



Total Pages: 41

Go To