Book Name:Ilm O Hikmat Kay 125 Madani Phool

واجبات وغیرہ تبلیغی مسائل ہیں  جن کا چھپانا جُرم ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ج۱ص۲۰۴) مُحَقِّق عَلَی الْاِطلاق، خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ  اللہِ  القوی فرماتے ہیں :  یعنی جس علم کا جاننا ضروری ہو اور علماء میں  سے کوئی اور اسے بیان کرنے والا بھی نہ ہو اور بیان کرنے سے کوئی صحیح عذر بھی مانع نہ ہو بلکہ بخل اور علمِ دین سے لاپرواہی کی بنا پر چھپائے تو مذکورہ سزا کا مُستَوجِب( یعنی حقدار) ہوگا ۔ (اشعۃ اللمعاتفارسی ج۱ص۱۷۵) اعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃُ ربِّ العزّت فرماتے ہیں :  ’’اشاعتِ علم فرض اور کِتمانِ عِلم حرام ہے ۔‘‘(فتاوٰی رضویہ ج۱۲ ص۳۱۲)

          نیز یہ بھی نیّت ہو کہ ایک مسلمان کے دینی مسئلے کو حل کرکے ثواب کمانا ہے۔ منقول ہے : سیِّدُنا امام مالِک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بوقتِ رِحلت یہ روایت بیان فرمائی : ’’ کسی شخص کی دینی الجھن دُور کر دینا سو حج کرنے سے افضل ہے۔‘‘ (بستان المحدثین ص۳۹ )

(47)اپنے جواب کی تائید میں جزئیہ نقل کرتے وقت ایسی عبارت لکھئے جس میں  جزم کے ساتھ(یعنی فیصلہ کُن) مسئلہ تحریر ہو، اختلافِ فقہا پر مشتمل عبارت نقل نہ کیجئے مثلاً ’’فلاں  کام نا جائز ہے لیکن فلاں  امام کے نزدیک جائز ہے۔‘‘ اس سے ایک تو سادہ لوح عوام اُلجھن میں  پڑسکتے ہیں  دوسرا آپ کا مؤقف کمزور ہو جائے گا، ایسے موقع پر اگرایک کتاب میں  واضح عبارت نہ ملتی ہو تو دوسری کتاب کی طرف رجوع کیا جائے۔

(48) عوام کوان کی اِستِعداد (صلاحیّت )کے مطابِق فَقَط ان کے مقصد کی بات ہی بیان کی جائے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّتفرماتے ہیں :

’’قابلیت سے باہَر علم سِکھانا فتنے میں  ڈالنا ہے۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۷۱۴)

لوگوں  کی عقلوں  کے مطابِق کلام کرو

(49) لوگوں  کی عقلوں  کے مطابِق کلام کیجئے اگر ان کی عقلوں  سے ماوراء دَقائق (یعنی پیچیدگیاں  اور باریکیاں )لے بیٹھے تو اندیشہ ہے کہ آپ انہیں  فتنے میں  مبتلاکربیٹھیں ۔ مصطَفیٰ جانِ رحمت ، شمعِ بزمِ ہدایت صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم  کا فرمانِ باعظمت ہے :  جب تو کسی قوم کے آگے وہ بات کریگا جس تک ان کی عقلیں  نہ پہنچیں تو ضَرور وہ ان میں  کسی پرفِتنہ ہو گی ۔  (کنزُ العُمّال ج ۱۰ ص ۸۴  حدیث ۲۹۰۰۷ ، و فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص۱۵۹)حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں :  لوگوں  سے وُہی کہا کرو جو وہ سمجھ سکتے ہیں ، ورنہ خدااور رسول عَزَّوَجَلَّ وصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کو جھٹلانے لگیں  گے(جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۱۸۵ )منقول ہے :  کَلِّمِ النَّاسَ عَلٰی قَدَرِ عُقُولِھِمْ یعنی لوگوں  سے ان کی عقلوں  کے مطابِق کلام کرو۔                    (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الفتن، ج۹، ص۳۷۳)

73نیکیاں

( 50)کم پڑھے لکھوں کی تَفہیم (یعنی ان کو سمجھانے)کی نیّت سے ثواب کمانے کیلئے فِقہی اِصطِلاحات اور مشکل الفاظ پر اِعراب لگایئے اور ان کے معنی ہِلالین میں  لکھنے کی عادت بنائیے ۔عربی وفارسی عبارات کا ترجمہ بھی لکھئے ۔ جتنا ہو سکے آسان جملے لکھئے ، اس کے لئے لکھتے وقت اس بات کو پیشِ نظر رکھئے کہ سوال کرنے والا کس طبقے کا فرد ہے ؟ کیا وہ آپ کی لکھی ہوئی بات کو سمجھ پائے گا؟دُکھیاروں  کیلئے مسائل سمجھنے میں  آسانی کا خُصوصی سامان کیجئے ۔فرمانِ رحمتِ عالمیان صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمہے :  جو کسی غمزدہ کی دستگیری (دَسْتْ۔گِیری) کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لیے تہتر(73) نیکیاں  لکھتا ہے ایک نیکی سے اللہ تعالیٰ اُس کی دنیا و آخِرت کو سنوار دیتا ہے اور باقی نیکیاں  اسکے لئے دَرَجات کی  بُلندی  کا  سبب   بنتی

ہیں ۔‘‘(مکارم الاخلاق للطبرانی ص۳۴۵حدیث۹۶)

اپنی تحریر پر نظرِ ثانی کرنا بے حد مفید ہے

(51)اپنی ہر تحریر پر خواہ وہ آدھی سطر ہی کیوں  نہ ہو نظرِ ثانی کی عادت بنا لیجئے کہ بعض اوقات آدمی بے خیالی میں  ’’ہاں  ‘‘کا ’’نا‘‘



Total Pages: 41

Go To